قربانی کے ایک بکرے میں چند لوگوں کی شرکت

حدیث وآثار کی روشنی میں

از: مفتی شکیل منصور القاسمی ، شیخ الحدیث مجمع عین المعارف، کنور، کیرالہ

 

جمہور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صرف تین قسم کے جانوروں کی قربانی ہی درست ہے۔ (۱) بھیڑ، بکری نر و مادہ (۲) اونٹ نر ومادہ (۳) گائے، بھینس نرومادہ۔ (بدائع الصنائع جلد۵ صفحہ۶۹، پاکستانی) اونٹ کم سے کم پانچ سال کا، گائے بھینس کم سے کم دو سال کی اور بکری کم سے کم ایک سال کی ہو۔ البتہ مینڈھا میں یہ تخصیص ہے کہ اگر وہ چھ ماہ کا ہو لیکن اتنا فربہ اور تیار ہو کہ دیکھنے میں ایک سال کا معلوم ہوتو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ (ایضاً)

فقہاء احناف وشوافع کے یہاں بڑے جانوروں کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی، اور بھیڑبکری میں صرف ایک آدمی شریک ہوسکتا ہے۔ ادائیِ فریضہٴ قربانی کی حیثیت سے ایک بکرے میں کسی بھی قسم کے متعدد افراد کی شرکت ناجائز ہے، ہاں ایک بکرے کی قربانی میں حصول ثواب کے لیے بیشمار لوگوں کو شریک کرنا حنفیہ کے یہاں نہ صرف جائز بلکہ سنتِ رسول ہے، جیساکہ آنے والی سطروں میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس کی وضاحت کی جائے گی۔ اس کے برخلاف حضرت امام مالک، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق اور اصحابِ ظواہر وغیرہ کی رائے یہ ہے کہ ایک بکرا یا ایک بھیڑ ایک گھر کے سینکڑوں افراد کی طرف سے اسقاطِ فریضہ کے لئے کافی ہے والحق أنہا تجزیٴ عن أہل البیت وان کانوا مأة نفس أو أکثر. (نیل الاوطار للشوکانی جلد۳،صفحہ۱۲۱)

ایک بکرے میں متعدد لوگوں کی شرکت کے جواز و عدم جواز کے سلسلہ میں اصولی طور پر یہ دو نقطہائے نظر ہیں۔ نفس دلائل تو دونوں فریقوں کے پاس ہیں البتہ قوت وضعف کے اعتبار سے دیکھا جائے تو فریقین کے دلائل میں کافی فرق نظر آتا ہے۔ جس کو ہر وہ شخص محسوس کرسکتا ہے جو ہر قسم کی عصبیت اور جانبداری کے خول سے باہر نکل کر عدل وانصاف کے تناظر میں حدیث کو دیکھنا چاہتا ہو۔ دلائل کے تجزیہ سے قبل یہ ذہن میں رہے کہ سارے فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ قربانی میں جو جانور ذبح کئے جاتے ہیں ان میں سب سے آخری حد ”بکری“ یا بھیڑ ہے۔ یعنی اس سے نیچے یا کم کی صورت میں کسی بھی فقیہ کے یہاں قربانی جائز نہیں ہوگی۔ (ان الشاة اقل ما تجب، وذکر الانزاری أن ہذا اجماع، اعلاء السنن جلد۱۸ صفحہ ۲۰۱)

احناف و شوافع کے سامنے بنیادی طورپر حضرت جابر رضى الله تعالى عنه کی یہ حدیث ہے: نحرنا مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بالحدیبیة البدنة عن سبعة والبقر عن سبعة. (نصب الرایہ جلد۴، صفحہ ۲۰۹، موطا مالک مع اوجز جلد۴، صفحہ ۳۰۲) اس حدیث میں چونکہ ”بدنة“ یعنی اونٹ اور ”بقرة“ یعنی گائے اور بھینس کو ہی سات آدمیوں کے لیے کافی قرار دیاگیا ہے نہ کہ بکرا وغیرہ کو اس لیے انہی جانوروں میں سات افراد کی شرکت جائزہوسکتی ہے نہ کہ بکرے میں۔ شرکت کو جائز قرار دینے والوں کے سامنے اصولی طورپر حضرت ابوایوب رضى الله تعالى عنه کا یہ اثر ہے: کنا نضحّی بالشاة الواحدة یذبحہا الرجل عنہ وعن اہل بیتہ فیاکلون ویطعمون حتی تباہی الناس فصار کما تری، ابن ماجہ، ترمذی، ابوداوٴد، نیل الاوطار ۳/۲۰)

امام شوکانی اس حدیث کے ذیل میں تحریر کرتے ہیں فیہ دلیل علی ان الشاة تجزیٴ عن اہل البیت وان کانوا مأة نفس او اکثر. (نیل الاوطار جلد۳، صفحہ ۱۲۱)

آگے تحریر کرتے ہیں کہ چونکہ حضرات صحابہ پورے گھر والے کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتے تھے اور آپ کو اس کا علم تھا لیکن آپ نے اس سے ان کو روکا نہیں۔ لہٰذا اس سے بھی اس نظریہ کو تقویت ملتی ہے کہ بلا شک وریب ایک بکرا پورے گھروالے کے لیے کافی ہے۔

غور وتدبر اور گہرائی وگیرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو حضرت ابوایوب انصاری کی یہ حدیث ”مانعین تعدد“ کے خلاف نہیں بلکہ ان کی تائید میں ہے۔ اس لئے کہ احناف کے یہاں صاحب نصاب پر صرف اس کی طرف سے قربانی ضروری ہے اس کی اولاد اور اسکی بیوی کی طرف سے اس پر قربانی واجب نہیں۔ اسی مفہوم کو بتانے کے لئے حضرت ابوایوب انصاری فرماتے ہیں کہ یذبحہا الرجل عنہ وعن اہل بیتہ الخ. حدیث مذکور کی یہ توضیح اس لیے کی گئی ہے کہ اگر اس سے تعدد کا جواز ثابت کردیا جائے تو پھر حضرت جابر کی جس حدیث میں آیا ہے کہ ”ضحّی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عمن لم یضحّ من امتہ“ اور حضرت ابورافع رضى الله تعالى عنه کی حدیث: ضحی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن جمیع امتہ، ان دونوں حدیثوں کا تقاضہ تو بظاہر یہ ہے کہ ایک بکری تمام مسلمانوں کے لیے کافی ہے۔ پھر حضرت امام مالک واحمد وغیرہ کا گھر کے افراد کے ساتھ تخصیص کرنے کے کیا معنی ہیں؟ نیز اگر ایک بکرے میں مثلا سات افراد کی شرکت کو جائز مان لیا جائے تو قربانی کے جانور کی اقل مقدار ایک بکری رہی یا اس کا ساتواں حصہ رہا؟ جبکہ ابھی گذرچکا ہے کہ اقل مقدار ایک مکمل بکری ہونے پر سارے فقہاء کا اجماع ہے، تو کیا یہ حضرات حدیث کا ایسا مفہوم بتانے کی اجازت دیں گے جس سے خرقِ اجماع کے علاوہ خود ان کے مسلمات کی تردید ہوتی ہو؟

نیز اگر ایک بکرے میں گھر کے سینکڑوں افراد کاشریک ہونا درست مان لیا جائے تو پھر حدیث پاک ”من وجد سعةً ولم یضحّ فلا یقربنّ مصلانا“ کے کیا معنی ہوں گے؟ یعنی قربانی کی استطاعت کا پھر کیا مفہوم ہوگا؟ کیوں کہ یہ بات خلاف عقل ومشاہدہ ہے کہ گھر کے سینکڑوں افراد مل کر بھی ایک بکرے کو خرید نہ سکیں؟ ایسی صورت میں تو ہربڑے کنبہ اور افراد والے ”مستطیع“ شمار ہوں گے۔ اور ایک بکرا بھی ادا نہ کرسکنے کی صورت میں وعید مذکور کے مستحق ہوں گے!

الغرض ان معنوی خرابیوں کے پیش نظر یہی معنی مراد لینا زیادہ صحیح ہے کہ ابوایوب انصاری کے اثر کا مطلب یہ ہے کہ حضرات صحابہ ایک بکرے کی قربانی کے ثواب میں اپنے تمام گھروالے کو شریک کرلیا کرتے تھے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ادائی فریضہ کے طور پر ایک بکری میں گھر کے تمام افراد شریک ہوجاتے تھے۔ اس مفہوم کی تائید ابورافع کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ جب آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے لئے بکری قربانی کی تو ایک بچی نے یہ کہا: وعنّی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: وعنکِ (اعلاء جلد۱۸، صفحہ ۲۱۰) اس سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ایک بکری میں اسقاطِ فریضہ کے لئے نہیں بلکہ ہدیہٴ ثواب کے لئے تعدد واشتراک جائز ہے۔ اور احناف کا یہی مفتی بہ مذہب ہے۔ امام شوکانی نے حضرت ابوایوب رضى الله تعالى عنه کی روایت کے الفاظ: ”کنا نفعل“ کو مرفوع بتاکر اس سے تعدد کے جواز ثابت کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ قابل تعجب ہونے کے علاوہ بیجا جانبداری کا بین ثبوت ہے۔ امام شوکانی کے یہاں جب فعل صحابہ مطلقاً حجت نہیں ہے، تو ابوایوب انصاری کا مذکورہ فعل کیسے اور کیوں کر حجت بنا؟ اس کا منصفانہ جواب بھی آنا چاہئے۔ یہ تمام توجیہات تو اس صورت میں ہیں جبکہ حضرت ابوایوب انصاری رضى الله تعالى عنه کی حدیث کو معمول بہ مانا جائے۔ ورنہ اگر اس حدیث کو منسوخ مان لیا جائے جیساکہ خاتم المحدیثن امام طحاوی رحمة الله عليه نے شرح معانی الآثار میں متعدد روایتوں سے ثابت کیا ہے تب تو یہ مسئلہ بالکل بے غبار ہی ہوجاتا ہے کہ ”قربانی کے ایک بکرے میں ایک آدمی سے زیادہ افراد کی شرکت کا ناجائز ہونا ہی اقرب الی السنة ہے“.

__________________________

ماہنامہ دارالعلوم ، شماره 9-10 ، جلد: 93 رمضان-شوال 1430 ھ مطابق ستمبر-اكتوبر 2009ء