حرفِ آغاز

۱۱ ستمبر کا حملہ اور اسلام

حبیب الرحمن اعظمی

 

یوں تو یہود و نصاریٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو کبھی بھی برداشت نہیں کیا ہے، تاریخ عالم گواہ ہے کہ اسلام کی بیخ کنی اور قوم مسلم کو صفحہٴ ہستی سے مٹادینے کے لیے اپنی طاقت اور بس کی حدتک انھوں نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، تہذیب و ثقافت کے ان مدعیوں نے اسلام دشمنی میں نہ صرف یہ کہ اپنی عرفی حیثیت کا پاس و لحاظ نہیں کیا بلکہ انسانی روایات اور آدمیت کی جوہری صفات سے انحراف و گریز میں بھی ننگ و عار محسوس نہیں کی، آغاز اسلام کی تاریخ سے واقف کون نہیں جانتا کہ محسنِ انسانیت، رحمت عالم صلى الله عليه وسلم تک کو ”نعوذ باللہ“ قتل کردینے کی انتہائی مذموم بلکہ ملعون سازش سے ان یہودیوں کی تاریخ داغدار ہے۔ عیسائیوں کا حال بھی یہودیوں سے مختلف نہیں ہے انہیں جب بھی مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوا ہے تو مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا ہے چنانچہ خود عیسائی سیرت نگار جان بیکٹ اپنی کتاب میں لکھتا ہے ”۱۰۹۹ء میں جب عیسائیوں نے یروشلم کو فتح کیا تو سترہزار سے زائد مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو تہہ تیغ کردیا“ ایک عینی شاہد کا بیان ہے کہ ”مسجد عمر“ کے صحن میں خون، سواروں کے ٹخنوں اور گھوڑوں کی رکابوں تک پہنچ رہا تھا۔ اسی طرح ۱۴۹۲ء میں جب اسپین میں اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوا تو ساڑھے تین لاکھ مسلمانوں کو عیسائی مذہبی عدالت میں پیش کیاگیا، ان میں سے تقریباً ۳۰ ہزار کو سزائے موت دی گئی اور بارہ ہزار کو زندہ نذرآتش کردیاگیا۔

الغرض اسلام کے خلاف یہودیت و عیسائیت کی جارحانہ روش کا یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں اسلام کے ابتدائی دور سے جاری ہے مگر ۱۱/ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکہ میں پیش آمدہ سانحہ کے بعد سے تو ان کی اسلام دشمنی میں گویا ابال آگیا ہے، امریکہ اور اس کے چشم و ابرو پر رقصاں یورپ، اسلام اور مسلمانوں کو ہر چہار طرف سے گھیرنے اور ان کے دائرئہ اثر و نفوذ بلکہ صحیح معنوں میں عرصہٴ حیات کو تنگ سے تنگ تر کردینے کے لیے ہر طرح کے جائز و ناجائز ہتھ کنڈے استعمال کررہے ہیں۔ بین الاقوامی حالات پر نظر رکھنے والے اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرسکتے کہ اس وقت عالم اسلام (انڈونیشیا سے مراکش تک اور اندلس سے یمن تک) کو مغربی طاقتوں نے اپنے آہنی پنجوں سے جکڑ رکھا ہے، مسلم ممالک کو تباہ و برباد اور مسلم عوام کو نیست و نابود کردینے کے لیے یکسر جھوٹے اور من گھڑت الزامات کا سہارا لینے سے بھی یہ ظالم طاقتیں دریغ نہیں کرتیں۔ ۱۱/ستمبر ۲۰۰۱ء کے مذکورہ حادثہ کا ذمہ دار بغیر کسی معتبر اور قابل اعتماد ثبوت کے اسامہ بن لادن کو ٹھیرایا گیا۔ امریکہ نے افغانستان کی طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ کو اسکے اہم ساتھیوں سمیت امریکہ کے حوالہ کردیں۔ طالبان نے اسکے جواب میں کہا کہ اسامہ پر جرم ثابت ہوجانے پر فوراً افغانستان کے اندر مقدمہ چلایا جائے گا۔ امریکہ نے طالبان کے اس جواب کو مسترد کردیا اور ۴/اکتوبر کو شمالی اتحاد کی مدد سے افغانستان پر تاریخ کی بدترین جنگ مسلط کردی گئی جس میں بعض مقامات پر ایسے بم برسائے گئے جس سے میلوں فضا کی آکسیجن ختم ہوجاتی تھی اور انسانوں سمیت ہر ذی روح دم گھٹ کر ختم ہوجاتا تھا، تقریباً تیس ہزار افغانی اس جنگ میں ہلاک ہوئے اور دو مہینے کے اندر اندر افغانستان کو کھنڈر میں تبدیل کردیاگیا، اور اس خالص ظالمانہ اور مسلم دشمنی پر مبنی جنگ کو درست باور کرانے کیلئے اسامہ بن لادن اور اس کی جانب منسوب شہرت یافتہ ”القاعدہ“ کو امن عالم کے حق میں خطرہ بتانے کیلئے یہود نواز مغربی میڈیا کا بے تحاشا استعمال کیاگیا جس کا سلسلہ ایک حد تک تا ہنوز جاری ہے، امریکہ اور اس کی زرخرید مغربی میڈیا کے اس پروپیگنڈے کو اگر کسی حد تک صحیح مان لیا جائے کہ اسامہ کی دہشت گردی سے امن عالم کو خطرہ ہے لہٰذا بقائے امن کے واسطے اس کا خاتمہ ضروری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جس دہشت گرد کو ختم کرنے کیلئے طالبان کی حکومت کو پامال اور افغانستان کو تہس نہس کردیاگیا وہ آج بھی بقید حیات ، اور امن عالم کے ان نام نہاد محافظوں کی گرفت سے یکسر آزاد ہے اور اس مدت میں اسکے ہاتھوں امن عالم کو یا دنیا کے کسی خطہ کے امن کو حقیقتاً اور واقعی طور پر کیا نقصان پہنچا ہے؟ جبکہ اسکے برعکس فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کی دہشت گردی عالم آشکارا ہے، ماہ و سال کا وہ کونسا دن ہے جس میں نہتے، بے گھر، مظلوم فلسطینیوں کا خون ان انسانی بھیڑیوں کے ہاتھوں نہ بہتا ہو اور بلڈوزروں سے ان کے مکانات زمین بوس نہ کیے جاتے ہوں، اور یہ بات عالمی برادری پر بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ انسانیت کے ساتھ ننگی جارحیت اور کھلی دہشت گردی کا یہ کھیل ”واحد سپرپاور“ کے زعم میں مبتلا طاقت کی سرپرستی ہی میں کھیلا جارہا ہے، طالبان اور اسرائیل کے درمیان معاملات کا اس ہمالیائی فرق کو دیکھ کر ایک غیر جانب دار، انصاف پسند مبصر یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ سب کچھ خالص اسلام دشمنی پر ہورہا ہے۔

آخر اس بات کی کیا توجیہ کی جائے کہ امریکہ اور اس کے حواریوں کو اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی ایک دو نہیں ساٹھ تجویزیں نظر نہیں آتیں جن میں سے ایک پر بھی آج تک اسرائیل نے عمل نہیں کیا، مگر عراق کے خلاف اقوام متحدہ کی محض ایک تجویز کی بنیاد پر ترقی کی جانب گامزن عراق کو تباہی وبربادی کی غار میں دھکیل دیاگیا، حالات وواقعات سے اشارہ مل رہا ہے کہ اب ان خون آشاموں کی نظرِ بدپاکستان پر ہے۔

”سب تباہی کے ہیں آثار خدا خیر کرے“

اسلام اور قوم مسلم پر، مذہبی انتہا پسندی، بنیاد پرستی اور دہشت گردی کی بھپتیاں کسنے والے یہ امریکہ اور اس کے حمایتی مغربی ممالک اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں اور حقیقت پسندی و حق پرستی کی کچھ بھی رمق اگر ان کے اندر ہے تو بتائیں کہ مذہبی انتہا پسند، بنیاد پرست، دہشت گرد اور جنونی کون ہے امریکہ اس کی ناجائز پیداوار اسرائیل اوراس کے اتحادی یا عالم اسلام۔

تو میرے حال پریشاں پہ بہت طنز نہ کر

اپنے گیسو تو ذرا دیکھ کہاں تک پہنچے

ہم آخر میں از راہ ہمدردی ان طاقتوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ دنیاکے نقشہ میں قوم مسلم اور مذاہب و ملل کی فہرست میں اسلام کوئی ذہنی و فکری مفروضہ نہیں بلکہ ایک واقعی حقیقت ہیں، اور حقائق کو آج تک نہ مٹایا جاسکا ہے اور نہ آئندہ مٹایا جاسکے گا۔ اس لیے اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کے بجائے کھلے دل سے اسے تسلیم کرلیں اورٹکراؤ اور آویزش کے بجائے پرامن بقائے باہمی کی راہ ہموار کرنے کی فراخ دلانہ کوشش کریں۔ یہی امن اور سلامتی کا راستہ ہے، اس کے برخلاف اگر مذہبی، سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی لحاظ سے قوم مسلم کے آگے رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی اور دنیا کے نقشے سے انہیں مٹادینے کے منصوبے تیار کیے جائیں گے تو اس سعی لاحاصل سے نہ صرف دنیا کا امن وامان تباہ ہوگا بلکہ خود ان کا وجود بھی خطرے سے محفوظ نہیں رہ سکے گا، اس لیے عالم اسلام اور مغربی دنیا دونوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ موجودہ ٹکراؤ کی روش کو چھوڑ کر رواداری، بقائے باہمی اور زندہ رہو، زندہ رہنے دو کے منصفانہ اصول کو اختیار کیا جائے، اسی کے ساتھ ہم اہل مغرب کو مخلصانہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ خالی الذہن سیرچشمی و فراخ دلی سے اسلام کا مطالعہ اس کے اصل ماخذ کتاب وسنت سے کریں اس سے اسلام کے بارے میں ان کی غلط فہمیاں دور ہونگی جس سے ایک دوسرے کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع پیدا ہونگے اور باہمی رواداری کی راہیں ہموار ہوں گی۔

میرا پیغامِ محبت ہے جہاں تک پہنچے

________________________________

ماہنامہ  دارالعلوم ، شماره 12 ، جلد: 93 ذى الحجہ 1430 هـ مطابق دسمبر 2009ء