عورتوں کیلئے قرآنی دینی تعلیم کی اہمیت

                       

از: محمد اسماعیل طورو‏،راولپنڈی، پاکستان

جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن وسنت میں انسانوں اور جنوں کو صرف اور صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیااور پھر انسانوں میں مردوں اور عورتوں کو تخلیق فرمایا اور تخلیق کا مقصد بھی واضح فرمایا، ”مردوں اورعورتوں میں سے جس نے بھی حالت ایمان میں اعمال صالحہ سرانجام دئیے تو ہم انہیں پاکیزہ زندگی عطا کردیں گے۔ اور ان کے عمل سے بھی بہت بدلہ انہیں دیں گے“۔ (سورة النخل آیت:۹۷)

اور پھر سورة آل عمران آیت ۱۹۵ میں بھی یہی بات کہی گئی اور پھر سورة بقرہ آیت ۳۳۸ میں بھی فرمادیا گیا کہ ”عورتوں کے حقوق اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مردوں کے حقوق کے برابر ہیں“۔

میری بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد ہو یا عورت ان کی حیات کا مقصد اپنی عبادت ہی بتایا ہے۔ ہر ہر شے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حمد وپاکی میں مشغول ہے، بالکل اسی طرح پیدا ہونے سے مرنے تک کا مختصر وقت ہمیں دیاگیا ہے تو محض اس لئے کہ دیکھا جاسکے کہ کون ”احسن عمل“ کرکے آتا ہے۔ اس بات کا ذکر سورة ملک میں موجود ہے۔

ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد کو مختلف بنایا ہے۔ یعنی دونوں کو مختلف دائرہ کار فراہم کئے ہیں۔ جیسے کائنات کی ہر شے ایک نظام اصول اور دائرہ کار میں موجود ہے۔ بالکل اسی طرح عورت اور مرد کیلئے دائرہ کار بنادیاگیا کہ اپنی اپنی حدود میں اصول شرعیہ کے ساتھ زندگی کو بسر کریں۔ مرد کیلئے گھر سے باہر اور عورت کیلئے گھر کے اندر رہنے کیلئے اصول ونظام بتایا، اور پھر اگر پوری کائنات پر غور کیا جائے، تو بعض کو بعض پر فضیلت دی گئی ہے۔ ہر شے اپنے دائرے اور حد میں لیکن کچھ کا کام اور ذمہ داری اس کی استطاعت کے مطابق زیادہ ہے اور کچھ کا کم۔ کچھ کو امیر بنایا، کچھ کو غریب۔ کوئی بادشاہ ہے اور کوئی فقیر، لیکن اس تفریق کا ہرگز ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ محض اس تفریق سے کوئی اعلیٰ یاافضل ہوگیا، یا کمتر ہوگیا بلکہ مقصد اس تفریق سے یہ ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کو متوازن کرے۔ بہتر اورافضل تو صرف وہی ہے جو تقویٰ والا زیادہ ہے۔ (بلاشبہ) یعنی کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے دنیا کو ”دارالامتحان“ بنایا پھر واضح فرمادیا کہ دارالجزاء کے فیصلے کا معیار، ایمان اور اعمال صالحہ ہیں۔ پس عورت اور مرد کو مختلف دائرہ کار دئیے گئے اور پھر مرد کو امیر بناکر فضیلت دی گئی یعنی کہ مرد کو استطاعت زیادہ دی گئی اور ذمہ داری بھی زیادہ دی گئی لیکن ساتھ ہی عورت کو اس کا مددگار بنایاگیا اور پھر دونوں کو ایک دوسرے کیلئے راحت کی شے بنادیاگیا۔ حدیث پاک میں ہے۔ ”طلب العلم فریضة علی کل مسلم“ کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پرفرض ہے۔ اتنا علم تو سبھی پر فرض ہوا کہ حلال وحرام، پاکی ناپاکی، جائز ناجائز کوجانا جاسکے؛ لیکن اس کے بعد جتنا بھی دینی علم ہے اس کیلئے یہ کہیں پر بھی نہیں کہاگیا کہ عورتیں حاصل نہ کریں جب کہ مرد ان کو ضرور حاصل کریں۔ اس کے بعد مقصودی علم تو ہر کوئی حاصل کرسکتا ہے۔ جسے شوق و لگن ہو، اگر عورتوں کیلئے مزید علم حاصل کرنا منع ہوتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ”افقہ الناس“اور ”حسن الناس“ نہ ہوتیں۔ عہد رسالت میں عورتوں کی دینی تعلیم کا باقاعدہ انتظام تھا۔ صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے خصوصی اجتماع میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تشریف لے جاکر تلقین و وعظ فرمایا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرح صحابیات رضي الله تعالي عنهن بھی محدثہ، فقیہ، عالمہ، فاضلہ مفتیہ اور کاتبہ تھیں۔ ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضي الله تعالى عنها فقیہ الامت ہیں۔ ام المومنین ام سلمہ رضي الله تعالى عنها فقیہہ ومفتیہ تھیں۔ حضرت حفصہ رضي الله تعالي عنها لکھنا پڑھنا دونوں جانتی تھیں۔ حضرت خنساء رضي الله تعالى عنها شاعرہ تھیں۔ اسی طرح پہلی اور دوسری صدی ہجری میں پورے عالم اسلام میں احادیث کی روایت و تدوین کا سلسلہ شروع ہوا جن خواتین کے پاس مجموعے تھے ان سے وہ حاصل کئے گئے۔ حدیث کی تحصیل کیلئے محدثین و رواة کی طرح محدثات و راویات نے بھی گھر بار چھوڑ کر دور دراز ملکوں کا سفر کیا۔ اور ان محدثات وطالبات کیلئے محدثین و شیوخ کی درس گاہوں میں مخصوص جگہیں رہا کرتی تھیں، جس میں وہ مردوں سے الگ رہ کر سماع کرتی تھیں اور اسی طرح ان محدثات میں سے بہت سی حافظات، قاریات اور مفسرات تھیں وعظ و تذکیر میں نمایاں تھیں۔ رشدوہدایت، تزکیہ نفس، شعر وادب، خطاطی و کتاب وانشاء، اذکار کی تعلیم و تربیت میں بھی بہت زیادہ نمایاں تھیں اور رہیں۔

چوتھی صدی میں قرآنی مدارس کا انتظام ہوا۔ بنات الاسلام کی طرف سے سب سے پہلا قرآنی مدرسہ مغرب اقصیٰ کے شہر فاس میں ۲۴۵ھ میں قائم ہوا۔ جو آج بھی جامعہ قزوین کے نام سے موجود ہے۔ ایسی عورت جو علوم دینیہ کا شوق نہ رکھتی ہو، وہ کسی بھی حد تک اپنے شوہر کی معاون ہوسکے گی۔ کیا عورت کا وجود محض گھر کو صاف کرنا، کھانا پکانا اور بچے سنبھالنا (سنبھالناکہا ہے تربیت نہیں) تک محدود نہیں رہ جائے گا؟ اور شوہر کو خوش رکھنا، کیا یہ محض اس لئے تو نہیں ہوگا کہ بہرحال شوہر کے گھر کے بعد عورت کیلئے معاشرتی پناہ کہیں اور نہیں ہوتی اور پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی امت کی زندگی تو بہت مختصر ہے نا، اس کی وجہ سے اجر بہت زیادہ ملتا ہے۔ نامہ اعمال کھلاہی رہتا ہے۔ عورت کو صرف ان کاموں میں بند کرکے علمی وعملی کاموں کے اجر وثواب سے محروم نہیں ہوجائے گی؟

 اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو اپنے امر سے بنایا اور صرف انسان کو اپنے دست مبارک سے پیداکیا اور اپنا نائب بنایا۔ اللہ رب العزت اپنے بندے سے ایک ماں کی نسبت سترگنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ رب العزت ہی بہتر جانتے ہیں کہ مرد و عورت کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کن علوم کی پہلے ضرورت ہے۔ چونکہ یہ کتاب خصوصا عورتوں کیلئے لکھی گئی ہے۔ اس لئے ہم عورتوں کی دینی تعلیم کو بیان کرنا چاہیں گے۔ ارشاد ربانی ہے: ”واذکر ما یتلی فی بیوتکن من آیات اللّٰہ والحکمة“ (الآیة)

”اور یاد کرو اے عورتو! اللہ تعالیٰ کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اور دانائی کی باتوں کو۔“

سورہ نور میں چونکہ خواتین سے متعلق احکامات عفت، پردہ، استیذان وغیرہ قدرے تفصیل سے درج ہیں، اس لئے آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے خواتین کو سورئہ نور کی تعلیم دلانے کی خصوصی ترغیب دی (قرطبی)

اب سب سے پہلے اس امر کی ضرورت ہے کہ عورتیں قرآن کی بنیادی علوم سیکھیں کیونکہ قرآنی علوم کا سیکھنا فرض ہے۔ جبکہ ایسے علوم جن کا تعلق معیشت یا سائنسی ترقی سے ہے ان کا سیکھنا مسلمان عورتوں کیلئے ضروری نہیں۔ ہاں مردوں کیلئے اس کا سیکھنا لازم ہے بلکہ فرض کفایہ ہے بلکہ سارے فقہاء و مجتہدین نے لکھا ہے کہ ایسے علوم و فنون جن کی عوام کو ضرورت ہو اور مسلمانوں میں اس کے ماہرین نہ ہوں تو سارے مسلمان گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں گے۔ اسلام علوم جدیدہ کا بھی داعی ہے۔ (دیکھئے فتاویٰ عالمگیری، فتاوی سراجیہ)

آج کل عومومی ذہن یہ بنا ہوا ہے کہ موجودہ تعلیم کے بغیر بچی آداب زندگی Manner of life طرز معاشرت نہیں سیکھ سکتی اور امور خانہ داری کما حقہ سرانجام نہیں دے سکتی وغیرہ وغیرہ تو اس سلسلے میں گذارش ہے کہ شرم و حیا چھوٹوں بڑوں کا ادب، والدین اور بھائیوں بہنوں سے محبت حسن سلوک وغیرہ سیکھنے کیلئے اسکول کالج کے علوم نہیں؛ بلکہ آج کل اسکول کی بچیوں کا لباس، چال چلن، انداز، رفتار، گفتار اور مختلف موقعوں پر فحش ونیم عریاں لباس میں ملبوس اسٹیج ڈراموں نے بچیوں کو ادب کیا سکھایا؟ بلکہ الٹا انکو بے حیا بنادیا ہے (نعوذ باللّٰہ من ذلک) شرم وحیا اور ادب کیلئے تو سب سے بہتر قرآن وحدیث کی تعلیم ہے۔ اس میں اپنی زندگی بھی سنورے گی اورمعاشرے کا بگاڑ بھی ختم ہوگا۔

متقدمین اورمتاخرین دونوں علماء وفقہاء کرام کااس بات پر اتفاق ہے کہ دینی علم حاصل کرنے کا عورت کو بھی بالکل اسی طرح حکم ہے جس طرح مرد کو ہے۔ اس کے دو سبب ہیں:

شرعی اور دینی احکام میں عورت مرد کی طرح ہے۔ اسی طرح آخرت میں سزا اور جزا کے اعتبار سے عورت مرد کی طرح ہے اس لئے کہ اسلام نے عورت پر تمام فرائض لازم کئے ہیں، اور مرد کی طرح عورت کو بھی ان کا مکلف بنایا ہے جیساکہ نماز، روزہ، حج، زکوٰة، نیکی، اطاعت، عدل وانصاف، حسن وسلوک اچھی باتوں کا حکم دینا اور برائی سے روکنا؛ لیکن بعض خصوصی حالات میں اسلام نے عورت سے کچھ فرائض کواٹھالیا ہے یا تو اس وجہ سے کہ عورت مشقت و تکلیف میں گرفتار نہ ہوجائے یا اس کی صحت کی خرابی کی حالت جیسے ماہواری اور زچگی، حیض، نفاس میں عورت سے نماز کو معاف کرنا اور روزہ، سے رخصت دینا یا اس کی وجہ سے وہ کام عورت کی جسمانی وضع سے اور نسوانی طبیعت سے میل نہیں کھاتا مثلاً یہ کہ وہ میدان جنگ میں لڑائی کرے یا لوہاری یامعماری کرے اور وہ ذمہ داریاں اس سے چھوٹ جائیں جس کیلئے اسے پیدا کیاگیاہے یا کوئی کام ایسا ہو جس کے کرنے سے کوئی خطرناک معاشرتی فساد مرتب ہو۔ اہل عقل و بصیرت والوں کے ہاں عورت کو اس کے دائرہ کار سے اٹھاکر دوسری جگہ پر لے جانا عورت کی قدر و منزلت اور عزت کو گھٹانا ہے۔ ترمذی اور ابوداؤد کی روایت میں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف ترغیب دلانے کے بارے میں ارشاد ہے:

من کان لہ ثلاث بنات او ثلاث اخوات او بنتان او اختان فادبہن واحسن الیہن وزوجہن فلہ الجنہ وایما رجل کانت عندہ ولیدة فعلمہا فاحسن تعلیمہا وادبہا فاحسن تادبیہا ثم اعتقہا فلہ اجران (ترمذی)

جس کی تین لڑکیاں یا بہنیں یا دو لڑکیاں یا بہنیں ہوں اور وہ انہیں ادب سکھائے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کی شادی کرے تو اسکو جنت ملے گی۔

دوسری روایت کا ترجمہ ہے کہ جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو وہ اسے تعلیم دے اور اچھی طرح پڑھائے اوراس کو ادب سکھائے اور پھر اسے آزاد کرکے اس سے شادی کرے تو اس کے لئے دو اجر ہیں۔ اسی طرح صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ مسلمان عورتیں مقررہ دن جمع ہوکر نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے دین سیکھ لیاکرتی تھیں“۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضي الله تعالى عنها بڑی محدثہ تھیں مرد اور عورتیں ان سے سوالات کرتے تھے۔ قاضی عیسیٰ بن مسکین صوفی وقت اپنی بچیوں اور پوتیوں کو پڑھایا کرتے تھے اور قاضی عیاض رحمة الله عليه عصر کے بعد بچیوں اور بھتیجیوں کو پڑھایا کرتے تھے۔ چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ جن احکام کی روز مرہ ضرورت پڑتی ہے ان کو حاصل کرنا فرض ہے۔ طلب العلم فریضة بقدر ما تحتاج الیہ لامر لابد منہ من احکام الوضو والصلٰوة وسائر الشرائع ولامور معاشہ وما وراء ذلک لیس بفرض (فتاویٰ سراجیہ)

ترجمہ: علم کا طلب کرنا فرض ہے اتنی مقدار جتنی کہ ضرورت پڑتی ہے ضروری طور پر ایسے معاملات کیلئے جن کا حاصل کرنا ضروری ہو وضو اور نماز اور دیگر سارے شرائع اور اپنی معیشت کے امور کو سرانجام دینے کیلئے علوم حاصل کرنا لازم ہے۔ اس کے علاوہ علوم کاحاصل کرنا فرض نہیں۔

دینی تعلیم کے حصول کی شرائط

۱- سب سے پہلے اس بات کا خیال رکھاجائے کہ دینی تعلیم گھر کے کسی مرد سے حاصل کی جائے اگرایسا محرم نہ ہو جو دینی احکام سے واقف ہو تو وہ کسی محرم عالم سے احکام سیکھ کر اور کتابیں پڑھ کر عورتوں کو سکھائے۔

۲- اگرایسی کوئی صورت نہ نکل سکے کہ گھر کے کسی فرد سے دینی احکام سیکھے جائیں تو ان آداب کا خیال رکھ کر کسی عالم کے پاس باہر نکلا جائے جن کا تذکرہ پہلے گذر چکا ہے۔

۳- دینی علوم دو قسم کے ہیں علوم عالیہ یعنی مقصدی علوم جو یہ ہیں قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ۔ علوم آلیہ وہ علوم ہیں جن کو قرآن وحدیث اور فقہ سمجھنے اور حاصل کرنے کے لئے ان کو آلہ کار بنایاجائے۔ علوم آلیہ یہ ہیں: صرف، نحو، منطق، فلسفہ، علم معانی، علم ادب وغیرہ۔

ہر لڑکی پر اس قدر علم حاصل کرنا فرض ہے جن کا حصول روزمرہ زندگی کیلئے ضروری ہے مثال کے طور پر وضو، غسل، ماہواری، زچگی،نماز، حج، زکوة وغیرہ کے مسائل، عورتیں اپنے مردوں سے سیکھیں یا کتابوں سے پڑھیں۔ اوراگر یہ صورتیں ممکن نہ ہوں تو پھر کسی عالمہ عورت سے معلوم کرے ان علوم (فرض عین) میں سے اچانک اگر عورت کو کسی مسئلہ کی ضرورت پڑی اور اپنا مرد مسئلہ پوچھ کر نہیں آتا یا اجازت نہیں دیتا اور عالمہ عورت نہ ہو تو اس کے حصول کیلئے عورت باپردہ بغیر مرد کی اجازت کے نیک معتمد عالم دین مفتی کے پاس جاسکتی ہے؛ لیکن علوم آلیہ پر کمال حاصل کرنا عورت کے لئے فرض نہیں۔

۴- صرف ان علوم کے حصول کیلئے گھر بار کو چھوڑ کر دوسری جگہ سکونت اختیار کرنا درست نہیں۔ کیونکہ یہ پرفتن دور ہے اور نئے نئے فتنے روز افزوں ابھر رہے ہیں۔ جب دینی مدارس کے بارے میں یہی حکم ہے تو دور جاکر اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں آپ حضرات خود فتویٰ لگائیں۔

یہ بات قابل غور ہے کہ لڑکیوں کیلئے اسکول کالج، یونیورسٹی اور دینی مدرسہ میں حافظہ عالمہ بننے کے لئے محرم رشتہ دار سمیت باہر جانا جائز ہے کوئی اس کو ناجائز نہیں کہہ سکتا، لیکن خارجی امور کو دیکھ کر پرفتن دور کو مدنظر رکھ کر عورت کا دائرہ کار سامنے لاکر یہ کہاجاتا ہے کہ اس طرح کی تعلیم جائز تو ہے (جس کی شرائط آگے آرہی ہیں) لیکن بہتر نہیں ہے۔

۵- پڑھانے والی استانیاں عالمات ہوں مرد نہ ہوں اگر عالمہ مل نہ سکے تو پھر مرد پردہ لٹکاکر یا دور بیٹھ کر لاؤڈاسپیکر کے ذریعے سے پڑھائیں اور یہ دوسرا طریقہ بہتر اور فتنوں سے محفوظ ہے۔ لیکن ان امور کا خیال جامعہ کا منتظم کروائے کہ مرد سریلی آواز میں نہ پڑھائے، عشقیہ اشعار نہ کہے بلکہ علمی ضرورت کے علاوہ کوئی شعر نہ لکھے، طالبہ کا رول نمبر پکار کر حاضری لگائے نہ کہ نام لے کر، غیر ضروری اور غیر درسی باتوں سے اجتناب کرے، پڑھانے کے بعد وہاں بغیر ضرورت کے نہ ٹھہرے، افضل یہ ہے کہ شادی شدہ ہوں اور متقی با اعتبار عالم ہو۔ یہ پانچویں شرط صرف اسی صورت کے لئے ہے جبکہ علاقے میں ایسی کوئی عورت نہ ہو جو پوری عالمہ ہو اور عام عورتیں اس سے مسائل پوچھیں۔ جس طرح کہ موٴمنات صحابیات حضرت عائشہ رضي الله تعالى عنها سے پوچھتی تھیں۔ اگر علاقے میں کوئی مستند عالم، مفتی ہو تو اس کی بیوی کے ذریعے سے مسائل حل کرائے جائیں۔

اس صورت میں عالمہ بننے کی ضرورت نہیں اگرچہ فی نفسہ جائز ہے۔ اس لئے اس سے جو مقصد ہے وہ درست ہے۔

________________________

دارالعلوم ، شماره : 7 ، جلد : 92  رجب 1429 ھ مطابق جولائی 2008ء