سلاطین ہند کے عہد میں

غیرمسلموں کی شرعی حیثیت

از: محمد شمیم اختر قاسمی[1]

 

                نورنبوت کی شعاعیں غار حرا سے چمکیں تواس کا عکس سرزمین ہند پر بھی پڑا، اور پہلی صدی ہجری ہی میں نہ صرف مسلمان ہندوستان میں مقیم وآباد ہونے لگے، بلکہ یہاں باقاعدہ طریقے سے مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی، اس طرح سندھ و نواحی سندھ حکومت اسلامیہ کا ایک حصہ بن گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ محمد بن قاسم(۱) کی طرح کسی اور عرب فاتح نے یہاں حکومت نہیں کی تاہم مرکز سے اس کا تعلق کبھی بھی منقطع نہ ہوا۔ اور برابر بلکہ متواتر عرب ولاة یہاں آتے جاتے رہے۔ محمدبن قاسم کے بعد محمود غزنوی(۲) نے یہاں دوبارہ مسلمانوں کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور سندھ وملتان اور پنجاب وغیرہ کے علاقے کواپنے زیرنگیں کیا۔ اور متعدد حملوں کے ذریعہ دہلی کے اکناف و اطراف تک کی زمین کو نعرئہ تکبیر سے بلند کیا۔ مگر ان کے انتقال کے بعداس خاندان کے دیگر حکمرانوں نے وہ کامیابی دکھانے میں کمزور ثابت ہوئے جس طرح محمود غزنوی نے یہاں کارہائے نمایاں انجام دئیے تھے۔ اس کے بعد شہاب الدین غوری(۳) نے ہندوستان پر منظم حملہ کیا اور متعدد علاقوں کو فتح کرکے مسلم سلطنت سے جوڑا۔ یہاں تک کہ اسی کے غلام قطب الدین ایبک(۴) باضابطہ طریقے سے ہندوستان میں مسلم حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جس کا پایہ تخت دہلی قرار پایا۔ اس کے بعد سے لے کرانگریزی حکومت کے قائم ہونے تک پورا ہندوستان مسلمانوں کے قبضہ و تصرف میں رہا اور مسلم حکمراں اپنی رعایا کی خوش حالی اور ترقی کے لیے برابر کوشاں رہے۔ ان کی رعایا میں نہ صرف مسلمان تھے جو یا تو باہر سے آئے تھے، یا یہاں کی پیداوار تھے بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی ، پارسی اور دوسرے لوگ بھی تھے۔ جنھیں مسلمانوں کی طرح کلی آزادی حاصل تھی اورحکومت میں بھی ان کا عمل دخل تھا اور اونچے عہدوں پر فائز تھے۔ اب چوں کہ مسلم حکومت میں یا تو صرف مسلمان مقیم وآباد ہوں گے،یا پھر اور دوسرے لوگ بھی ہوں گے جن کی شرعی حیثیت کا تعین ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کی زیرنگرانی کس حیثیت سے رہیں گے،اور انہیں یہاں رہنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ اوراگر وہ رہیں گے تو وہ کس حساب سے اورکس قاعدہ کلیہ کے تحت سلطنت اسلامیہ کو ٹیکس ادا کریں گے۔ چنانچہ پیش نظر مضمون میں انہی چیزوں پر قرآن وحدیث اور فقہ کی روشنی میں بحث کی گئی اور غیرمسلموں کی شرعی حیثیت متعین کی گئی ہے۔ تاکہ ان اعتراضات و شبہات کا ازالہ ہوسکے جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام نے غیرمسلموں کے جان ومال، عزت وآبرو کا خیال نہیں رکھا اور ان کے حقوق کی پامالی کا حکم دیا ہے جس کے پیش نظر مسلم فرمارواؤں نے غیرمسلموں کے ساتھ نامنصفانہ سلوک کیا ہے۔

ذمی اور معاہد کواسلامی مملکت میں کیا حقوق حاصل ہوں گے

                جس کسی نئے علاقے یا ملک کو فتح کرکے مسلمان اس پر اپنا قبضہ واقتدار حاصل کرے تو مفتوحین میں سے جو لوگ مسلمانوں کی حکومت تسلیم کرکے یہاں رہنا چاہیں اور عہد کریں کہ وہ مملکت اسلامیہ کے خلاف بغاوت، سرکشی اور کسی سازش میں ملوث نہ ہوں گے تو اب حکومت اسلامیہ کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ان مفتوحین اورمعاہدین کو ذمی کی حیثیت سے تسلیم کرکے اس کے جان و مال اور عزت و آبرو کی بالکل اسی طرح حفاظت کرے جس طرح وہ مملکت میں مقیم و موجود مسلمان رعایا کی محافظت کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ البتہ ایسے مفتوحین اور معاہدین سے اسلامی حکومت کچھ سالانہ ٹیکس (جزیہ) وصول کرنے کا حق رکھتی ہے۔ یہ ٹیکس انہی لوگوں سے حاصل کیے جائیں گے جو فوجی خدمت کے قابل ہوں گے۔ عورت، بوڑھے، بچے، لونڈی، غلام اورمذہبی خدام اس کلیہ سے مستثنیٰ قرار دئیے جائیں گے(۵)۔ ٹیکس کی وصولی میں ذمی کی مالی حیثیت کا بہرصورت خیال رکھا جائے گا(۶)۔ اس رقم کی ادائیگی کے بعداہل ذمہ سے نہ صرف فوجی خدمات ساقط ہوجائیں گے، بلکہ وہ اپنے سماجی اور عائلی معاملات میں بھی اسلامی قانون کے پابند نہ ہوں گے(۷)۔ مگر وہ مسلم علاقوں میں کوئی نئی مذہبی عبادت گاہ اپنی مرضی سے تعمیر نہیں کرسکتے(۸)۔ البتہ پرانے معابد اور خستہ مذہبی مقامات کی دوبارہ تعمیر اورجدید کاری کرسکتے ہیں(۹)۔ انہیں مسلم علاقوں میں رہتے ہوئے اس امرکو ملحوظ رکھنا ہوگا کہ وہ ایسے امورانجام دینے سے پرہیز کریں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہو اوران کے مذہبی معتقدات کو ٹھیس لگتی ہو(۱۰)۔ ان باتوں کے باوجود اگر وہ اپنی مرضی سے اپنے نزاعی معاملات کے حل کے لیے شرعی عدالت سے رجوع کریں تو فیصلہ شرع کے مطابق ہی کیا جائے گا(۱۱)۔ اگر شخصی قانون سے تعلق رکھنے والے کسی معاملہ میں ایک فریق ہندو اور دوسرا مسلمان ہوتوایسی صورت میں بھی فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق ہوگا(۱۲)۔ لیکن کسی معاہد یا مفتوحین کو بلاوجہ کسی مسلمان نے قتل کردیا تو اس کے عوض قاتل کا بھی سرقلم کیاجائے گا اور اگرمقتول کے ورثا اپنی مرضی سے معاوضہ لے کر یا بلا معاوضہ معاف کردے تو قاتل بری ہوجائے گا(۱۳)۔ اسی طرح کوئی مسلمان بغیرکسی اہم سبب کے معاہد سے معاہدہ نہیں توڑسکتا جب تک کہ فریق ثانی کی رضامندی نہ ہو۔ معاہدہ خواہ اہل کتاب سے کیاجائے یا مشرکوں سے(۱۴)۔

غیرمسلموں کی شرعی حیثیت کا مسئلہ ہندوستانی تناظرمیں

                مذکورہ فقہی تصریحات کی روشنی میں سلاطین ہند کے عہد میں غیرمسلموں کی شرعی حیثیت کے تعین کے سلسلے میں غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عہد اموی میں حجاج بن یوسف کے ایما پر محمد بن قاسم نے ہندوستان پر منظم اور کامیاب حملہ کرکے سندھ کو اسلامی قلم رو میں شامل کیا۔ جس کی بناپر یہاں کے ہنود نے مسلمانوں کی ماتحتی قبول کرکے سندھ ہی میں رہناگوارا کیا۔ چنانچہ اس وقت پہلی مرتبہ یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ یہاں کے ہنود کی شرعی حیثیت کیاہوگی اورانہیں کس حد تک اور کہاں تک آزادانہ زندگی بسر کرنے کی اجازت ہوگی۔

                یہ بات متحقق ہے کہ محمد بن قاسم نے یہاں کے باشندے جو بدھ اور برہمنی مت سے تعلق رکھتے تھے کو ذمی کا درجہ دے کر ان سے سالانہ جزیہ وصول کیا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے مذہب پر قائم رہے اور اپنے سماجی اور عائلی معاملات میں بھی سلطنت کے شرعی قوانین سے بری کردئیے گئے۔ انھوں نے اپنے مندروں میں عبادت اور پوجا پاٹ کرنے کے ساتھ ساتھ بعض قدیم اور خستہ عبادت گاہوں کی تعمیر و مرمت کی(۱۵)۔

                تاریخی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب محمد بن قاسم نے سندھ پر اقتدار حاصل کیا تو برابر ان کی مراسلت حجاج بن یوسف سے قائم رہی، اور ہر تیسرے روز حجاج کے پاس خط بھیجنے اور ان کی طرف سے جواب ملنے کی صراحت موجود ہے(۱۶)۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ محمد بن قاسم نے اپنے پہلے حملہ میں کامیابی کے بعد یہاں کے ہنود کی شرعی حیثیت معلوم کرنے کے لیے تفصیلات حجاج بن یوسف کو بھیجی ہوں گی، کیوں کہ ہندوؤں کے ہاں الہامی کتاب کے فقدان کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہوگا کہ یہاں کے لوگ اہل کتاب ہیں یا شبہ اہل کتاب، یا مشرک۔ لہٰذا یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ حجاج نے علماء وقت سے رجوع کرنے کے بعد محمد بن قاسم کو اطلاع دی ہوگی کہ انہیں شبہ اہل کتاب کے زمرے میں شامل کرکے ہرقسم کی آزادی اوران سے سالانہ جزیہ وصول کیا(۱۷)۔ جیسا کہ پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی رقم طراز ہیں:

”ہندوستان کے بعض علماء اورجدید دانشوروں نے ہندوستان کے ذمیوں کو شبہ اہل کتاب کے زمرے میں رکھا۔ جب کہ قدیم ماخذ سے اسکی کوئی وضاحت نہیں ہوتی، لیکن ذمیوں کے منادر کے سلسلے میں محمد بن قاسم کا جو اعلامیہ رہا اس سے صاف واضح ہوتا ہے جو چچ نامہ میں مذکورہے کہ ہندوؤں کی عبادت گاہوں کی وہی حیثیت ہے جو شام و عراق کے یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کی ہے(۱۸)۔“

اہل کتاب سے جزیہ لینا قرآنی فیصلہ

 اور مجوس سے جزیہ لینا حدیث سے ثابت ہے

                اہل کتاب سے جزیہ وصول کرنے کا حکم قرآن سے ثابت ہے جبکہ مجوسیوں سے جزیہ کی وصولی کے سلسلے میں قرآن میں کوئی صراحت نہیں ملتی۔ لیکن رسول خدا نے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے ہجرکے مجوسیوں کو تحریری صورت میں اسلام کی دعوت دی، جس میں تحریر تھا کہ جو شخص اسلام لے آئے گا اس کا اسلام قبول کیا جائے گا اورجونہیں قبول کرے گا اس پر جزیہ لگایا جائے گا۔ نیز اس کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا، نہ اس کی عورتوں سے نکاح کیاجائے گا۔ اسی حکم کو پیش نظر رکھ کر حضرت عمر نے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا، اور جس کی گواہی حضرت عبدالرحمن بن عوف نے دی تھی۔

فقہائے اسلام نے کن لوگوں کو ذمی قرار دیا ہے؟

                اسلام کے علاوہ دوسرے بہت سے قدیم وجدید مذاہب ہیں جن کے ماننے والوں کی خاصی تعداد ہے، جن میں یہودیت،نصرانیت، مجوسیت، بدھ ازم، جین ازم اور ہندو ازم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان میں بعض مذاہب کی وضاحت کتاب و سنت اور فقہاء کرام کی تصریحات سے ہوتی ہیں کہ فلاں فلاں مذاہب اہل کتاب ہیں۔ البتہ کچھ دوسرے مذاہب کے متعلق کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ ان کی حیثیت کیا ہے۔ چنانچہ فقہائے کرام نے ایسے مذاہب کے متعلق جو تفصیلات بیان کی ہیں اس کی روشنی میں ہندوؤں کی شرعی حیثیت کا تعین بہ آسانی کیا جاسکتا ہے، جس کی روشنی میں سلاطین ہند نے غیرمسلموں کو حقوق عطا کیے۔

                امام ابوحنیفہ(۱۹) کے علاوہ امام احمد کے ایک قول کے مطابق اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) کے علاوہ مشرکین و کفار کو ذمی قرار دیاجائے گا۔ البتہ مشرکین عرب اس سے مستثنیٰ ہوں گے جن کے لیے قرآن میں اسلام اور تلوار کے علاوہ تیسری صورت نہیں(۲۰)۔ امام مالک(۲۱) کے نزدیک عرب اور غیر عرب کو بھی ذمی کا درجہ دیاجائے گا(۲۲)۔ اہل کتاب اورمجوسی کو ہی ذمی کی حیثیت حاصل ہوگی امام شافعی(۲۳) کے مسلک کے مطابق(۲۴)۔

جزیہ کن لوگوں سے وصول کیا جائے گا؟

                اسی کے ساتھ جن ذمیوں سے جزیہ وصول کیا جائے گا اس سلسلے میں بھی فقہاء کا اختلاف پایا جاتاہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک جزیہ اہل کتاب سے وصول کیاجائے گا خواہ وہ عرب ہوں یا عجم، اور عجم کے مشرکوں سے بھی لیاجائے گا چاہے وہ مجوسی ہوں یا بت پرست، البتہ مرتدوں سے نہیں لیا جائیگا(۲۵)۔ امام ابویوسف(۲۶) کا قول ہے کہ عرب سے بالکل جزیہ نہیں لیا جائیگا، اہل کتاب ہوں یا مشرک، جزیہ صرف عجمیوں سے لیا جائیگا، اہل کتاب سے بھی اورمشرکوں سے بھی(۲۷)۔

                امام اوزاعی(۲۸) کے نزدیک ہر کافر سے جزیہ لیا جائے گا، خواہ وہ عرب ہوں یا عجمی کتابی یاکوئی اور۔ ہاں مرتدوں سے اور قریش کے مشرکوں سے نہیں لیا جائے گا(۲۹)۔ امام شافعی کے بقول جزیہ مذہب کی بنیاد پر ہے، شخصیت کی بنیاد پر نہیں ہے، لہٰذا صرف اہل کتاب سے جزیہ لیاجائے گا خواہ وہ عربی ہوں یا عجمی، بت پرستوں سے بالکل نہیں لیاجائے گا۔ امام شافعی کے نزدیک مجوسی اہل کتاب ہیں(۳۰)۔

                جن لوگوں نے اہل عرب سے جزیہ وصول کرنے کی صراحت کی ہے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ(۳۱) نے لکھا ہے کہ اہل کتاب اور مجوس سے اس وقت تک مقاتلہ کرنے کا حکم واجب ہے جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائیں یا جزیہ دینا قبول نہ کریں۔ ان کے سوا جو دوسرے ․․․ ہیں ان سے جزیہ قبول کرنے کے متعلق علماء میں اختلاف ہے لیکن عام فقہاء مشرکین عرب سے جزیہ قبول کرنا روا نہیں رکھتے، بعض فرقے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں،لیکن بعض ان شرائع کو جو بالکل ظاہر اورمتواتر ہیں منکر ہیں۔ ان کے خلاف بھی باتفاق مسلمین اس وقت تک جہاد واجب ہے جب تک کہ تمام دین اللہ ہی کا نہ ہوجائے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مانعین زکوٰة سے جہاد کیا تھا، ابتدا میں بعض صحابہ کو ان کے قتال میں توقف تھا، لیکن آخر میں سب متفق ہوگئے۔(۳۲)

محمد بن قاسم کے عہد میں ہندوؤں کی جو شرعی حیثیت

 متعین کی گئی وہ بعد کے عہد میں بھی برقرار رہی

                شبہ اہل کتاب کے زمرے میں یہاں کے ہنود کو شامل کرکے محمد بن قاسم کے عہد میں غیرمسلموں کی شرعی حیثیت متعین کی گئی اور انہیں ذمی کا درجہ دیاگیا۔ چنانچہ غیرمسلموں کی یہی حیثیت بعدکے عہد میں بھی برقرار رہی۔ مگرجب التمش(۳۳) کا زمانہ حکومت آیا اور فقہ نے زور پکڑا تو نئے نئے مسائل درپیش اور مدون ہوئے تو علمائے وقت نے اس مسئلہ کو ابھارا کہ یہاں کے ہندوؤں کی شرعی حیثیت کیاہو؟ ایک طبقہ انہیں اہل ذمہ کے حقوق دئیے جانے کے حق میں نہ تھا اور ان کے ساتھ اما الاسلام اور اما القتل کے اصول پر عمل کرنے پر مصر تھے، کیوں کہ وہ اہل کتاب نہیں ہیں۔ جبکہ دوسرے علماء کی رائے اس کے برعکس تھی۔ جب یہ مسئلہ بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو بادشاہ نے اول الذکر طبقہ کی اس رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے غیرمسلموں کو سابقہ حیثیت پربرقرار رکھا اور اپنے وزیر نظام الملک جنیدی(۳۴) سے کہا کہ ان علماء کو یہ جواب دیں کہ اس وقت مذکورہ اصول پر عمل نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ:

”ابھی ابھی ہندوستان فتح ہوا ہے،اس وقت مسلمانوں کا تناسب بس اس قدر ہے کہ جیسے آٹے میں نمک۔ اس صورت میں اگراس اصول پر عمل کیاگیا تو یہ ممکن ہے کہ ہندو متحد ہوجائیں اور ملک میں فساد برپا کردیں گے اورہماری طاقت کمزور ہے، اس لیے ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے، لیکن جب ذرا وقت گذر جائے گا اورمسلمان ہرجگہ پہنچ جائیں گے اورآباد ہوجائیں گے اور لشکروں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا تو ہم ہندوؤں کے ساتھ یہی معاملہ کریں گے“۔(۳۵)

                یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مشرکین و کفار کو بھی ذمی کا درجہ دیا جائے گا، جب کہ شافعی کے یہاں ایسا نہیں ہے اور جن علماء نے عہد التمش میں اس مسئلہ کو ابھارا وہ اسی آخرالذکر مسلک سے تعلق رکھتے تھے، جن میں ایک عالم دین سید مبارک(۳۶) غزنوی بھی تھے۔ چوں کہ بادشاہ وقت کا تعلق حنفی مسلک سے تھا، لہٰذا اس نے امام ابوحنیفہ کے قول پر عمل کرکے اسے ذمی کا درجہ دیا اور چوں کہ علماء وفد کی باتوں کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا تھا لہٰذا انہیں مذکورہ جواب دے کر خاموش کردیاگیا۔ اس وقت سے لے کر بعد کے عہد میں بھی ہندوؤں کی یہی حیثیت برقرار رہی جیساکہ محمد بن قاسم کے عہد میں تھی۔ چنانچہ پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی لکھتے ہیں:

”سندھ میں محمد بن قاسم کی حکومت کے دوران ہندوؤں کی جو قانونی حیثیت قانونی و عملی طور پر تسلیم کی گئی تھی وہی تیرہویں صدی عیسوی کی ابتدا میں دہلی سلطنت کے قیام کے بعد بھی برقرار رہی جیسا کہ اس زمانہ کی تاریخی کتب اور سرکاری دستاویز سے واضح ثبوت ملتا ہے۔“(۳۷)

ہندوستان میں انبیاء و رسل کے بعثت کا امکان

                قرآنی تصریحات کے مطابق ہر قوم و ملت میں نبی اور رسول بھیجے گئے، تاکہ ان کی زبان اور ان کے مزاج کے مطابق خدا کا پیغام پہنچائیں اور سمجھائیں تاکہ وہ برائیوں اور غلط کاموں سے اجتناب کریں اور اللہ کی رضا حاصل کریں۔ اس اعزاز سے ہندوستان کو محروم کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے عہد میں علماء کی ایک بڑی تعداد نے وضاحت کی ہے کہ ہندوستان میں بھی خدا کے فرستادہ آئے ہیں جنھوں نے احکام الٰہی کی تبلیغ کی۔ حضرت مجددالف ثانی(۳۸) کی یہی رائے ہے۔ حضرت مرزا مظہر جان جاناں(۳۹) نے نبی کی آمد کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ہندوؤں میں وید الہامی کتاب ہے جو برہما فرشتے کے ذریعہ بھیجی گئی ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی(۴۰) کا بھی یہی خیال ہے۔ بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی(۴۱) کا مسلک اس سلسلے میں اتنا محتاط تھا کہ وہ رام چندرجی اور کرشن جی کی شان میں گستاخی کو منع فرماتے تھے؛ کیوں کہ ان کے خیال میں ان کے رسول ہونے کا امکان ہے(۴۲)۔ مولانا مناظراحسن گیلانی(۴۳) نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں نبی و رسول کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا(۴۴)۔ شاہ عبدالرحمن چشتی نے متعدد حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ ہندو دھرم اور سماج میں نبی و رسول کی بعثت کا تصور ہے(۴۵)۔ حضرت تھانوی(۴۷) اور شیخ الحدیث مولانا زکریا(۴۸) کی رائے میں یہاں نبی و رسول کے مبعوث ہونے کے واضح اشارے ملتے ہیں(۴۹)۔ عبدالرزاق ہانسوی، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، جناب اجمل خاں، سید اخلاق دہلوی، شمس نوید عثمانی وغیرہ کی یہی رائے ہے(۵۰)۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی(۵۱) کی تفسیر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں نبی ورسول آئے کیوں کہ وید میں نبی آخرالزماں کے مبعوث ہونے کی شہادت ملتی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

میں کہتا ہوں کہ اگر مجوسیوں کے اسلاف کا اہل کتاب ہونا ان مجوسیوں کے اہل کتاب قرار دینے کیلئے کافی ہے تو ہمارے زمانہ کے ہندو بت پرست بھی اہل کتاب ہوجائیں گے۔ ان کے پاس بھی وید نام کی ایک کتاب ہے، جس کے چار حصے ہیں، اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ خدائی کتاب ہے، پھر ان کے اکثراصول بھی شرعی اصول کے موافق ہیں اور جن اصولوں میں اختلاف ہے وہ شیطانی آمیزش کا نتیجہ ہے۔ جس طرح شیطانی تفرقہ اندازی سے مسلمانوں کی جماعت پھٹ کر بہتر فرقے بن گئی۔ ہندوؤں کے اہل کتاب ہونے کی تائید قرآن سے بھی ہورہی ہے۔ اللہ نے فرمایا وان من امة الاخلا فیہا نذیر ہرامت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر ضرور گذرا ہے۔ مجوسیوں سے توہندو اہل کتاب کہلانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ مجوسیوں کے بادشاہ نے تو نشہ سے بدمست ہوکر اپنی بہن سے زنا کی اوراپنے دین و کتاب کو چھوڑ دیا اور دین آدم کا مدعی بن بیٹھا، مگر ہندوؤں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی، البتہ رسول اللہ کی رسالت کا انکار کرنے کی وجہ سے کافرہوگئے۔ مجھ سے بیان کیاگیا ہے کہ چوتھے وید میں رسول اللہ کی بعثت کی بشارت مذکور ہے جسکو پڑھ کر ہندو مسلمان ہوگئے۔“(۵۲)

                مذکورہ اقتباس میں شامل آیت قرآنی کی تفسیر و توضیح بیان کرتے ہوئے مولانا سید اخلاق حسین دہلوی لکھتے ہیں کہ:

”اس بیان سے یہ مستفاد ہے کہ اگرکوئی قوم یا امت کسی کتاب کے خدائی کتاب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے جیسا کہ مجوس و صائبین تو یہ کہہ کر کہ قرآن پاک میں اس کا نام نہیں ہے،اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ جنہیں قرآن پاک کا علم ہے وہ جانتے ہیں کہ قرآن پاک میں سب ہی آسمانی یا خدائی کتابوں کے نام نہیں ہیں۔ اس لیے کہ قرآن پاک فہرست کتب نہیں ہے، البتہ قرآن پاک میں سابقہ تین آسمانی کتابوں کے نام واضح طورپر ہیں جو اس عہد میں معروف و مروج تھیں، چوتھا نام خود قرآن پاک کا ہے۔ ان کے علاوہ سابقہ آسمانی کتابوں کا ذکر مجملاً ہے، جیسے الزبر والکتاب المنیر وصحف الاولٰی ، بہرحال جن کتابوں کو بعض قومیں آسمانی کتاب مانتی ہیں تو ان کے متنوں کے مطالعہ سے روشنی حاصل کی جاسکتی ہے کہ اگر وہ توحیدی ہدایات سے اور تصور آخرت سے مزین ہیں اور طاغوتی لغویات سے فی نفسہ مبرا ہیں تو ان کا آسمانی کتابیں ہونا اقرب از یقین ہے۔ البتہ تحریف والحاق کو مسترد قرار دینا ہوگا جو آسمانی کتاب میں لاحق ہوتا رہا ہے، لیکن فی نفسہ انکار نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ ہمیں یہ ہدایات بھی نہیں ہے کہ ہم انکار ہی کریں تسلیم نہ کریں، اس لیے خد ما صفا و دع ما کدر پر عمل کرنا ہوگا اور توحید و تصور آخرت کی عظمت کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔“(۵۳)

                اسی طرح مولانا ابوالکلام(۵۴) آزاد نے لکھا ہے کہ اگر مجوسی وصائبی کو اہل کتاب کے زمرے میں شامل کیا جاسکتا ہے تو ہندو بدرجہ اولیٰ اس میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔ اگر مجوسیوں کے پاس زنداوستا خدائی کتاب کا دعویٰ ہے جسے وہ پڑھتے پڑھاتے ہیں تو ہندوؤں کے ہاں بھی اس قسم کی کتابیں موجود ہونے کا امکان ہے اور یہ باتیں وہی کہہ سکتا ہے جنہیں ان کے حالات کا گہرا علم ہے۔(۵۵)

                ان باتوں کے علاوہ مسنداحمد کی حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل بھیجے گئے(۵۶)، جن میں کچھ کی وضاحت قرآن میں موجود ہے، جبکہ بیشتر کے متعلق کوئی صراحت نہیں ملتی۔ اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غیرمسلموں میں نبی و رسول کا امکان ہے۔

                یہ تمام تصریحات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہندوستان میں انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ لیکن ان آرا سے کلی طور پر اتفاق اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ کوئی واضح دلیل سامنے نہ آجائے، لیکن علماء کی رائے کی روشنی میں یہ فیصلہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ مسلم حکومت کے قیام کے ابتدائی زمانہ میں انہی تصریحات کی روشنی میں معاصر علماء و فقہائے ہندوستان کے غیرمسلموں کو شبہ اہل کتاب کے زمرے میں شامل کرکے ان کی شرعی حیثیت متعین کی جس پر محمدبن قاسم اور بعد کے سلاطین نے عمل کیا۔                                                                                    (جاری)

$ $ $

______________________________

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ2، جلد: 91 ‏، محرم 1428 ہجری مطابق فروری2007ء



[1] ریسرچ اسکالر شعبہ سنی دینیات،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ