حج میں رمی جمار کے اوقات: ایک شرعی جائزہ

از: اخترامام عادل القاسمی

 

                ”رمی جمار“ حج کے معروف اعمال میں سے ہے، ”رمی“ کے لغوی معنی ہیں، پھینکنا، ڈالنا، الزام لگانا، بات اڑانا۔ (القاموس المحیط للفیروز آبادی، لسان العرب لابن منظور، الصحاح للجوہری، الموسوعة الفقہیہ ۲۳/۱۵۰)

                قرآن کریم میں یہ لفظ دونوں ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے، اور ”رمی جمار“ کے معنی ہیں چھوٹے کنکر پھینکنا۔ (بدائع الصنائع للکاسانی ۲/۳۲۳)

                شریعت کی اصطلاح میں ”رمی جمار“ کی تعریف ہے۔

                وفی عرف الشرع ہو القذف بالحصٰی فی زمان مخصوص ومکان مخصوص وعدد مخصوص․ (بدائع الصنائع ۲/۳۲۳)

                ترجمہ: مخصوص وقت میں، مخصوص مقام پر مخصوص گنتی کے ساتھ کنکر پھینکنا۔

                جمرات تین ہیں:

                (۱) جمرہٴ اولیٰ، اس کو جمرہٴ ”صغریٰ“ بھی کہتے ہیں، منیٰ میں مسجد خیف کے بعد یہ پہلا اور قریب ترین جمرہ ہے۔

                (۲) جمرہٴ ثانیہ،اس کو جمرہ ”وسطیٰ“ بھی کہتے ہیں، اس لئے کہ یہ جمرہٴ اولیٰ اور جمرہٴ عقبہ کے درمیان واقع ہے۔

                (۳) جمرہٴ عقبہ، اس کو جمرہٴ ”کبریٰ“ بھی کہتے ہیں، یہ مکہ کی طرف منیٰ کا آخری جمرہ ہے۔

                دس، گیارہ، بارہ، تیرہ ذی الحجہ کی تاریخ میں پانچ (یااس سے زائد) ہاتھ کی دوری سے ان جمرات پر سات سات کنکریاں پھینکنے کو حج کی اصطلاح میں ”رمی جمار“ کہتے ہیں۔ (ہدایہ مع فتح القدیر ۲/۴۹۹) اگر کنکریاں جمرات پر نہ پڑیں، اور اس کے قریب تین ہاتھ یا کم از کم ایک ہاتھ کے فاصلہ پر گرجائیں، تو بھی رمی جمرات کے حکم کی تعمیل ہوجائے گی۔ (فتح القدیر۲/۴۹۹)

حکمت رمی

                رمی دراصل ایک یادگاری عبادت ہے، جو شیطانی اور باطل طاقتوں سے اظہارِ نفرت کے لئے، علامتی طور پر اس امت میں باقی رکھا گیا ہے، اس حکم کے پیچھے ایک یادگار واقعہ ہے، جس کا ذکر حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں آیا ہے، بیہقی میں، حضرت ابن عباس کی روایت آئی ہے، فرماتے ہیں کہ

”جب حضرت ابراہیم حکم الٰہی (بیٹے کی قربانی) کی تعمیل کے لئے چلے تو شیطان جمرہٴ عقبہ کے نزدیک سامنے آیا، تو آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر دوسرے جمرہ کے پاس نظر آیا تو آپ نے دوبارہ اسے سات کنکریاں ماریں، یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر تیسرے جمرہ کے پاس سامنے آیا تو آپ نے سہ بارہ اسے سات کنکریاں ماریں، یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ شیطانکو پتھر مارنے کی کارروائی دراصل حضرت ابراہیم کی اتباع میں ہے۔ (السنن الکبریٰ لابی بکر احمد بن الحسین البیہقی، باب ما جاء فی بدوٴ الرمی ۵/۱۵۳)

                گویا رمی جمار امت اسلامیہ کی طرف سے شیطان اور تمام باطل قوتوں کے خلاف اجتماعی نفرت کا علامتی مظاہرہ ہے، جو ہر سال پابندی کے ساتھ انجام دیاجاتا ہے، حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام، ملّی اور دینی طور پر ہمارے روحانی باپ ہیں، اور باپ کے خلاف شیطان نے جس فریب کی کوششیں کی تھیں اور بار بار مزاحمت سے بھی باز نہیں آیا تھا تو اس عظیم باپ کے تمام فرزندوں پر لازم کردیا گیا کہ وہ اس شیطانی مزاحمت کا اجتماعی مقابلہ کریں، تو جمرات دراصل شیطانی قوتوں کی یادگار ہیں۔ ان ستونوں میں کچھ رکھا ہوا نہیں ہے، اصل یہ مقامات ہیں جہاں اللہ کے دشمن (شیطان) نے اللہ کے دوست (حضرت ابراہیم) کو شکار کرنے کی کوششیں کی تھیں۔

                اس طرح اس دین میں امر بالمعروف اور حب فی اللہ کے اجتماعی مواقع کی طرح نہی عن المنکر اور بغض فی اللہ کے بھی اجتماعی مواقع فراہم کئے گئے، کہ جب تک ان دونوں کا توازن امت میں صحیح طور پر قائم نہ ہو، وہ راہ اعتدال پر گامزن نہیں رہ سکتی ہے۔

                دنیا کے مذاہب میں اسلام واحد مذہب ہے، جہاں ظلمت ووحشت، اور ضلالت و سرکشی کے خلاف علامتی نفرت کا اجتماعی مظاہرہ ہوتا ہے، پس یہ دین فطرت اور صراطِ مستقیم ہے، ”اِنَّ ہٰذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ“ ترجمہ: ”بلاشبہ میرا یہ راستہ سیدھا ہے اس کی اتباع کرو! اسی میں کامیابی ہے“

حکم شرعی

                ”رمی جمار“ اکثر علماء کے نزدیک واجب ہے، حج کے ارکان یافرائض میں شامل نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع ۲/۳۲۲)

                امام زہری، علامہ ابن حزم اور بعض علماء ظواہر کو اختلاف ہے۔ ان کے نزدیک یہ فرض ہے۔ (المحلی لابن حزم کتاب الحج مسئلہ ۸۳۵، الموسوعة الفقہیہ ۲۳/۱۵۱) مگر اس قول کو مخالفِ اجماع قرار دیاگیاہے۔

                رمی جمار کے وجوب کے لئے متعدد روایات پیش کی جاتی ہیں: مثلاً:

                $ حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۰/ذی الحجہ کو اپنی سواری پر سوار ہوکر رمی فرمارہے تھے اور ارشاد فرمارہے تھے: ”خذوا عنّی مناسککم“

                مجھ سے اپنے مناسک سیکھ لو،اس لئے کہ میں نہیں جانتا، شاید اس حج کے بعد دوبارہ حج نہ کرسکوں۔ (صحیح مسلم کتاب الحج ۹/۴۴)

                $ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر منیٰ میں وقوف فرمایا، تاکہ لوگوں کے سوالات کے جواب دیں، ایک آدمی نے سوال کیا، کہ میں نے بے شعوری میں ذبح سے پہلے ہی حلق کرلیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا اب ذبح کرلو کچھ حرج نہیں۔ ایک دوسرے شخص نے پوچھا کہ میں نے رمی سے قبل قربانی کرلی، آپ نے فرمایا کہ رمی کرلو کچھ حرج نہیں۔ (بخاری مع الفتح ۱/۱۸۰، مسلم ۲/۹۴۸)

                امروجوب کے لئے ہوتا ہے، اور اخبار آحاد سے فرضیت ثابت نہیں ہوتی، نیز اس میں نیابت جاری ہوسکتی ہے، جبکہ ارکان و فرائض میں نیابت نہیں ہوسکتی۔

رمی کا وقت

                شریعت نے رمی کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہے، رمی کے لئے چار یوم مقرر ہیں: ۱۰/۱۱/۱۲/۱۳/ذی الحجہ، پہلے دن کو یوم النحر اور بقیہ تین دن کو ”ایام تشریق“ کہا جاتاہے۔ قرآن کریم میں ہے:

                واذکرواللّٰہ فی ایام معدودات فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ، ومن تاخر فلا اثم علیہ لمن اتّقٰی واتقو اللّٰہ واعلموا انکم الیہ تحشرون (بقرہ:۲۰۳)

                ترجمہ: اور اللہ کا ذکر کرو (بعد رمی) مخصوص دنوں میں جو پہلے دو دنوں میں جلدی کرکے چلا جائے تو کوئی گناہ نہیں، اور جو دیر سے جائے تو کوئی گناہ نہیں۔ اس کے لئے جو تقویٰ اختیار کرے۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم اسکے پاس جمع کئے جاؤگے۔

                البتہ ان تمام دنوں کے وظائف میں فرق ہے ، اور اس سلسلہ میں احادیث کے مضامین متنوع وارد ہوئے ہیں، جن کی بنا پر فقہاء کے درمیان بھی بعض چیزوں میں اختلاف رائے واقع ہوا ہے، جس کی مختصر تفصیل پیش کی جارہی ہے۔

رمی بتاریخ ۱۰/ ذی الحجہ

                ۱۰/ ذی الجہ کو باتفاق فقہاء صرف جمرہٴ عقبہ (بڑے جمرہ) کی رمی واجب ہے، اس کا وقت کب سے شروع ہوتا ہے،اس میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے، حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ صبح صادق ہی سے اسکا وقت شروع ہوجاتا ہے، اور دوسرے دن کی صبح صادق تک اس کا وقت جواز باقی رہتا ہے، البتہ وقت مسنون طلوع آفتاب کے بعد سے زوال تک ہے، زوال کے بعد سے غروب تک وقت جواز ہے، کوئی کراہت نہیں،اور غروب آفتاب کے بعد سے گیارہ کی صبح صادق تک یا دس کی صبح صادق سے طلوع آفتاب تک کا وقت بھی وقت جواز ہے، مگر کراہت سے خالی نہیں۔ (ہدایہ مع الفتح لابن ہمام ۲/۵۱۱، رد المحتار ۳/۴۷۴)

                مگر وقت جواز میں یہ کراہت غیر معذورین کے لئے ہے، اگر کوئی شخص کسی عذر (مرض کمزوری، ازدحام وغیرہ) کی بنا پر غیرمسنون اوقات میں رمی کرے تو کچھ کراہت نہیں۔

                شامی لکھتے ہیں:

                ویکرہ للفجر ای من الغروب الی الفجر وکذا یکرہ قبل طلوع الشمس بحر وہذا عند عدم العذر فلا اساء ة برمی الضعفة قبل الشمس ولا برمی الرعاة لیلاً کما فی الفتح (رد المحتار۳/۴۷۴)

                علامہ شامی نے ایک ضابطہ ذکر کیا ہے،جس کا حاصل یہ ہے کہ واجب کا ترک اگر کسی عذر کی بنا پر ہو تو اس کے ترک پر کچھ واجب نہیں ہے، البتہ اگر کسی عذر کی بنا پر کسی ممنوع فعل کا ارتکاب ہو، مثلاً سلا ہوا کپڑا پہن لے تو اس پر تاوان ہے، اور اخیر میں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو شخص بغیر عذر کے فجر سے قبل رمی کرلے تو اس نے براکیا، مگر اس پر کچھ نہیں ہے۔ مذہب حنفی کے اکثر فقہاء کا مذہب اسی طرح ہے۔ (رد المحتار لابن عابدین ۲/۴۶۹)

                حضرت امام ابویوسف کی رائے یہ ہے کہ رمی کا وقت پہلے دن زوال تک ہی ہے، اس کے بعد قضا ہوجاتی ہے، کیونکہ بعد کے تینوں دنوں میں رمی کاوقت زوال سے شروع ہوتا ہے، اور نصف آخر میں اس کا وقت رہتا ہے، تو پہلے دن رمی کا وقت زوال تک رہنا چاہئے، تاکہ نصف اول میں اس کی ادائیگی ہو۔ (المبسوط ۴/۶۴، بدائع الصنائع ۲/۳۲۳، ۳۲۴)

                $ اگر کوئی شخص گیارہویں ذی الحجہ کی صبح صادق تک رمی نہ کرے تو حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک قضا کے ساتھ دم بھی واجب ہوگا، قضا کا وقت پورے ایام تشریق ہیں۔

                صاحبین کے نزدیک دم واجب نہیں ہوگا، حضرت امام شافعی کی بھی یہی رائے ہے، دراصل صاحبین کے نزدیک رمی کوئی موقت عمل نہیں ہے۔ (بدائع ۲/۳۲۶)

                $ مالکیہ کی رائے آغاز وقت کے بارے میں وہی ہے، جو حنفیہ کی ہے۔ یعنی ۱۰/ تاریخ کی صبح صادق سے رمی کا وقت جواز شروع ہوجاتا ہے، ایک روایت میں امام احمد کی رائے بھی یہی ہے، مگر ان کا مشہور مسلک اس کے خلاف ہے، البتہ انتہائے وقت کے سلسلہ میں ان کی رائے مختلف ہے، ان کے نزدیک غروب آفتاب پر رمی کا وقت ختم ہوجاتا ہے، اس کے بعد قضا کے ساتھ دم بھی اادا کرنا ہوگا۔ (شرح الکبیر ۲/۲۸، شرح الرسالہ بحاشیہ العدوی ۱/۴۷۷، بحوالہ الموسوعة الفقہیہ)

                $ شافعیہ کے نزدیک یوم النحر کی نصف شب ہی سے رمی کا وقت جواز شروع ہوجاتا ہے، بشرطیکہ اس سے قبل وہ وقوف عرفہ کرچکا ہو ان کے نزدیک وقت کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے۔

                (۱)          افضل وقت: طلوع آفتاب سے زوال تک ۔

                (۲)         وقت اختیار : زوال سے غروب آفتاب تک۔

                (۳)         وقت جواز: آخری ایام تشریق تک۔ (المجموع للنووی ۲/۱۶۲، فتح الباری ۳/۵۲۸)

                $ حنابلہ نے وقت کی صرف دو قسمیں کی ہیں: ان کے نزدیک بھی رمی کا وقت نصف شب سے شروع ہوجاتا ہے۔

                (۱) مگر افضل وقت طلوع آفتاب کے بعد سے زوال تک ہے۔ (۲) اور وقت جواز زوال سے غروب تک ہے، غروب کے بعد وقت ختم ہوجاتا ہے۔ (المغنی مع الشرح الکبیر ۳/۴۴۳، ۴۴۹، المقنع ۱/۴۵۶، زاد المعاد لابن قیم ۲/۲۵۸، ۲۵۹)

متعلقہ روایات پر ایک نظر

                اس سلسلے میں جو روایات کتب حدیث میںآ تی ہیں، اور جن کوائمہ کرام نے اپنے پیش نظر رکھا ہے۔ ایک نظر ان پر بھی ڈال لینا مناسب ہوگا۔

                $ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہم لوگ جب مزدلفہ پہنچے تو حضرت سودہ نے اپنے جسم کے بھاری پن کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ وہ لوگوں کی بھیڑ سے قبل منیٰ روانہ ہوجائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت مرحمت فرمادی اور وہ راتوں رات منیٰ پہنچ گئیں، اور ہم لوگ صبح تک مزدلفہ ہی میں مقیم رہے۔ صبح جب تمام لوگوں کے ساتھ حضرت عائشہ منیٰ پہنچیں، اور وہاں انسانوں کا ہجوم دیکھا تو فرماتی تھیں کہ کاش سودہ کی طرح میں بھی رات ہی چلی آتی تو مجھے بے پناہ خوشی ہوتی۔ (بخاری حدیث نمبر ۱۶۸۰، مسلم ۱/۷۶، حدیث نمبر ۱۲۹۰)

                اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزدلفہ سے منیٰ راتوں رات آنے کی اجازت ہے، مگر اس میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ حضرت سودہ نے منیٰ آکر رمی بھی رات ہی میں کرلی تھی، روایت خاموش ہے، ممکن ہے کہ صبح صادق کے بعد ہی رمی کی ہو، جیسا کہ دوسری روایات سے سمجھ میں آتا ہے،اور پہلے اس لئے پہنچ گئیں کہ تاکہ پہلے مرحلے میں فارغ ہوجائیں، اگر ایسا ہے تو حنفیہ کے نقطہٴ نظر سے بھی کچھ حرج نہیں۔ اس لئے کہ صبح صادق کے بعد وقت جواز شروع ہوجاتا ہے۔

                $ حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور لوگوں کو اور سارا ساز و سامان رات ہی میں منیٰ بھیج دیا تھا، ان سامانوں کے ساتھ حضرت ابن عباس بھی تھے، مگر آپ نے چلتے وقت حکم فرمایا: ”لا ترموا الجمرة حتیٰ تصبحوا“ (شرح معانی الآثار للطحاوی ۲/۲۱۷)

                ترجمہ: صبح سے قبل رمی نہ کرنا۔

                اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ رات میں منیٰ پہنچ جانے کے بعد بھی ان کو حکم دیاگیا کہ صبح سے قبل رمی نہ کی جائے۔ اس روایت سے پہلی روایت کو سمجھنا آسان ہوجاتاہے۔

                $ حضرت اسماء بنت ابی بکر سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ پہنچ کر نماز میں مشغول ہوگئیں، تھوڑی دیر کے بعد اپنے غلام سے کہا کہ بیٹے دیکھو! چاند غائب ہوگیا؟ غلام نے کہا نہیں، وہ پھر نماز میں مشغول ہوگئیں، اور تھوڑی دیر کے بعد پھر دریافت کیا کہ، چاند غائب ہوگیا؟ غلام نے کہا ہاں! انھوں نے کہا تو پھر یہاں سے کوچ کرو، وہاں سے وہ منیٰ پہنچیں،اور منیٰ پہنچنے کے بعد پہلے جمرہٴ عقبہ کی رمی کی اور رمی کے بعد اپنی قیام گاہ پہنچ کر فجر کی نماز ادا کی، غلام نے حضرت اسماء سے کہا کہ شاید ہم نے اندھیرے ہی میں رمی کرلی ہے، انھوں نے کہا بیٹا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے۔ (ابوداؤد ۲/۴۸۱)

                اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند ڈوبنے کے بعد حضرت اسماء منیٰ کے لئے روانہ ہوئیں اور منی پہنچنے تک صبح صادق کا آغاز ہورہا تھا،مگر بہت اندھیرا تھا، انھوں نے نماز سے قبل رمی کرلی، اس لئے کہ صرف ایک جمرہ کی رمی کرنی تھی،اورپھر اپنی قیام گاہ پہنچ کر نماز ادا کی، رمی اور نماز فجر میں کوئی زیادہ وقفہ نہیں تھا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی رمی صبح صادق کے بعد ہوئی تھی، ان کے غلام کو شبہ اس بنا پر ہوا کہ سویرا کھلا نہیں تھا، اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا تھا، اور اوپر کی روایت میںآ چکا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت تھی کہ صبح سے قبل رمی نہ کی جائے، تو حضرت ام سلمہ نے جواب دیاکہ عورتوں کے لئے اس حد تک اجازت اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت اسماء نے کوچ کی تیاری چاند ڈوبنے کے بعد کی، اور دسویں رات کا چاند کم از کم، آٹھ گھنٹے سے قبل نہیں ڈوبتا۔ اس لحاظ سے اندازہ یہ ہے کہ چاند کم از کم رات کے قریب تین بجے غروب ہوا ہوگا، اس کے بعد تیاری میں کچھ وقت صرف ہوا ہوگا، پھر سفر کا مرحلہ طے ہوا ہوگا، اس طرح کم از کم چار بجے سے قبل منیٰ نہیں پہنچ سکی ہوں گی، اور چار بجے صبح صادق ہونا مستبعد نہیں۔ اور اس طرح راتوں رات سفر کرنا اور بالکل اندھیرے میں رمی کرنے کی اجازت خواتین اور معذورین کے لئے ہے۔ اس میں کوئی کراہت نہیں جیسا کہ اس کی توجیہ خود حضرت اسماء نے کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے، یعنی عورتیں ازدھام کے خوف سے اگر تنگی محسوس کریں تو مزدلفہ کا وقوف ترک کرکے راتوں رات منی جاسکتی ہیں، اور صبح کو ہجوم کا اندیشہ ہو تو اندھیرے ہی میں رمی کرسکتی ہیں، اور یہ حکم صرف عورتوں ہی کے لئے نہیں بلکہ بیماروں، کمزوروں اور دیگر معذورین کے لئے بھی ہے، فقہاء حنفیہ کے یہاں بھی اس کی گنجائش عذر کی صورت میں نظر آتی ہے، ابن عابدین شامی تحریر فرماتے ہیں:

                قلت وہو شامل لخوف الزحمة عند الرمی فمقتضاہ انہ لو دفع لیلاً لیرمي قبل دفع الناس وزحمتہم لاشیء علیہ، لکن لا شک ان الزحمة عند الرحمة وفی الطریق قبل الوصول الیہ امر محقق فی زماننا فیلزم منہ سقوط واجب الوقوف بمزدلفة فالاولی تقیید خوف الزحمة بالمرأة لکون ذٰلک عذرًا ظاہرًا فی حقہا یسقط بہ الواجب بخلاف الرجل او یحمل علی ما اذا خاف الزحام فدفع لیلاً فلا شیء علیہ (رد المحتار۳/۴۶۹)

                ترجمہ: میری رائے یہ ہے کہ اس میں بوقت رمی کی بھیڑ بھی شامل ہے،اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی رات ہی میں روانہ ہوجائے، تاکہ لوگوں کی بھیڑ سے قبل رمی کرسکے تو اس پر کچھ عائد نہیں ہوگا، لیکن ظاہر ہے کہ رمی کے وقت کی بھیڑ ہو یا راستے کی ہمارے دور میں یہ لازماً ہوتی ہے، تب تو وقوف مزدلفہ کا حکم سب ہی کے لئے ساقط ہوجانا چاہئے، اس لئے بہتر ہے کہ اس میں عورتوں کی قید لگائی جائے کہ بھیڑ کا خوف عورتوں کے لئے عذر ہے مردوں کے لئے نہیں، الاّ یہ کہ بیمار ہو یا بہت زیادہ کمزور ہو، یا اور کوئی شدید عذر ہو، اوراس کی وجہ سے وہ رات ہی میں مزدلفہ سے منیٰ آجائے تو اس پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔

                $ بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت آتی ہے کہ وہ اپنے گھر کے کمزور لوگوں (عورتوں اور بچوں) کو آگے ہی سے منیٰ روانہ کردیتے تھے، اور باقی لوگ رات کو مزدلفہ میں قیام کرتے تھے، اورجب چاہتے ذکر الٰہی میں مصروف رہتے، پھر وہ امام کے ٹھہرنے اور لوٹنے سے قبل روانہ ہوجاتے تو کچھ لوگ منیٰ میں صبح کی نماز کے وقت پہنچتے اور کچھ نماز کے بعد، اورجو جس وقت پہنچتا اسی وقت جمرہ پر کنکریاں مارلیتا، حضرت ابن عمر فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ اجازت دی ہے۔ (اللوٴلو والمرجان کتاب الحج حدیث نمبر ۸۱۷، بحوالہ رمی جمار کے وقت میں توسیع /۲۶، ڈاکٹر سلطان صلاح الدین)

                اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ صبح صادق کے بعد بھی رمی کرنا جائز ہے، اور اگر کوئی شخص یہ ہجوم کے ڈر سے ایسا کرے تو اس کے لئے اس وقت میں رمی کرنا بلاکراہت جائز ہے۔

                $ حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں:

                ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رمی الجمرة یوم النحر ضحی ورمٰی فی بقیّة الایام بعد الزوال (بخاری باب رمی الجمار ۳/۵۷۹، مسلم باب بیان استحباب الرمی /۱۳۰۰، ترمذی باب الرمی یوم النحر ضحیً حدیث نمبر ۸۹۴)

                ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو چاشت کے وقت (طلوع آفتاب کے بعد) رمی فرمائی اور اس کے بعد کے دنوں میں زوال کے بعد، یہ وقت مسنون ہے، اور باتفاق فقہاء سب سے افضل وقت ہے، مگر مضبوط اور توانا اور صاحب توفیق بندوں کے علاوہ عام لوگوں کے لئے اس فضیلت کو حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔

                $ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان بنی عبدالمطلب کے لوگوں سے ارشاد فرمایا:

                أبنیّ لا ترموا الجمرة حتی تطلع الشمس

                ترجمہ: بیٹے ! جمرہٴ عقبہ کی رمی طلوع آفتاب سے قبل مت کرو۔ (سنن کبریٰ للبیہقی ۵/۳۲، سنن دارقطنی ۲/۲۷۳، ابن ماجہ حدیث ۳۰۲۵، المجتبیٰ من السنن للنسائی باب النہی عن رمی جمرة العقبة قبل طلوع الشمس ۵/۲۷۰، ۲۷۲)

                $  اس حدیث میں تلقین کی گئی ہے کہ ممکن طور پر وقت افضل میں رمی کی کوشش کرنی چاہئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کے مخاطب آپ ہی کے خاندان کے نوجوان لڑکے ہیں، جو مضبوط بھی تھے اور خاندانی شرافت کا تقاضا بھی تھا کہ وقت افضل کو وہ ہاتھ سے جانے نہ دیں۔

                $ حضرت ابن عباس ہی کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں دن میں رمی نہ کرسکا اور شام ہونے کے بعد رمی کی، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ حرج نہیں۔ (بخاری مع الفتح ۳/۵۶۸، باب اذا رمیٰ بعد ما امسیٰ)

                اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غروب آفتاب کے بعد رمی کا وقت باقی رہتا ہے، اور جو لوگ کسی وجہ سے دن میں رمی نہ کرپائیں تو ان کے لئے شام کے بعد رات میں بھی رمی کرنے کی گنجائش ہے۔

                $ چنانچہ ایک دوسری روایت بھی حضرت ابن عباس ہی سے منقول ہے کہ:

                ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم رخص للرعاة ان یرموا لیلاً

                ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رات میں رمی کرنے کی اجازت دی ہے۔ (المجتمع للبیہقی ۳/۲۶۰، الکبیر للطبرانی حدیث نمبر ۱۱۳۷۹، مسند بزاز حدیث ۱۱۳۹)

                ان روایات سے مجموعی طور پر جو تاثر ابھرتا ہے کہ رمی کا اصل وقت جواز صبح صادق سے شروع ہوتاہے اور شام کے بعد رات میں بھی باقی رہتا ہے، جو حضرت امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے، اسی طرح روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پورا وقت ایک حکم میں نہیں ہے؛ بلکہ اس میں افضل و غیر افضل کی تقسیم پائی جاتی ہے، نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عذر اً ادائیگی کی صورت میں پورے وقت میں سے کسی بھی حصے رمی کرنے کی گنجائش ہے اوراس پر کچھ تاوان واجب نہیں۔

ایام تشریق میں رمی

                یوم النحر کے بعد ۱۱/۱۲/۱۳/ کی تواریخ میں تینوں جمرات کی رمی کی جاتی ہے، اور تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ افضل وقت ہر دن کے زوال سے لے کر غروب تک ہے، اختلاف وقت جواز میں ہے۔

                جمہور فقہاء کے نزدیک ۱۱/۱۲/ کی تواریخ میں زوال سے قبل رمی کرنا جائز نہیں ہے، حنفیہ کی مشہور روایت بھی یہی ہے۔ (بدائع الصنائع ۲/۳۲۴، شامی ۳/۴۸۰، الشرح الکبیر ۲/۷۴۸، ۵۰ شرح الرسالہ ۱/۴۸۰، الایضاح /۴۰۵، نہایت المحتاج ۲/۴۳۲، مغنی الحقائق ۱/۵۰۷، المغنی ۳/۴۵۲، الشرح الکبیر سے المغنی تک حوالہ الموسوعہ سے لئے گئے ہیں)

                مگرامام ابوحنیفہ کی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ ان دو دنوں میں زوال سے قبل بھی جائز ہے اوراس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جس طرح یوم النحر میں زوال سے قبل رمی کا وقت ہے تو دوسرے دنوں میں بھی اس کی وقتیت باقی رہنی چاہئے۔ (بدائع الصنائع ۲/۳۳۴، رد المحتار ۳/۴۸۱)

                بعض حنابلہ کا بھی یہی قول نقل کیا جاتا ہے۔ (الفروع ۳/۵۱۸، بحوالہ الموسوعة الفقہیہ/۱۵۸) جمہور علماء کے پیش نظر فعل رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال کے بعد رمی فرمائی ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو روایت کرتے ہیں کہ:

                کنّا نتحین فاذا زالت الشمس رمینا (بخاری مع الفتح ۳/۵۷۹)

                ترجمہ: ہم انتظار کرتے جب سورج ڈھل جاتا تو ہم رمی کرتے تھے۔

                حضرت جابر کی روایت پہلے آچکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر میں چاشت کے وقت اور دیگر دنوں میں، زوال کے بعد رمی فرمائی۔ (مسلم ۲/۹۴۵، مطبوعہ الحلبی)

                مگر ہمارے دور میں لوگوں کے ہجوم کو دیکھتے ہوئے رفع حرج کے لئے امام ابوحنیفہ سے منقول دوسری روایت زیادہ قابل لحاظ معلوم ہوتی ہے،اور روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ فعل رسول کو سنیت اور فضیلت پر محمول کیا جائے اور باقی وقت کو وقت جواز قرار دیا جائے۔

انتہائے وقت جواز

                اسی طرح ان تواریخ میں وقت جواز کے اختتام کے سلسلے میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، شافعیہ اور حنابلہ کی رائے میں وقت کا اختتام ۱۳/ تاریخ کو غروب آفتاب پر ہوتا ہے، اس دوران کسی بھی دن میں رمی کرنے سے رمی ادا ہوجاتی ہے، اور اس کو قضا نہیں قرار دیا جائے گا، شافعیہ کا قول اصح یہی ہے، البتہ ترتیب کی رعایت ضروری ہے، اگر کوئی چھوٹی ہوئی رمی کو ۱۳/ کے غروب آفتاب تک بھی پورا نہ کرسکے تو اس کی رمی فوت ہوجائے گی ، اور اس پر فدیہ واجب ہوگا۔ (الام ۲/۲۴، الایضاح/۴۰۷، نہایت المحتاج ۲/۴۳۵،۴۳۶، مغنی المحتاج ۱/۵۰۸،۵۰۹، المغنی ۳/۴۵۵، الفروع ۳/۵۱۸،۵۱۹، بحوالہ الموسوعة الفقہیہ ۲۳/۱۵۹)

                مالکیہ کے یہاں اس باب میں سب سے زیادہ تنگی ہے، وہ پورے ایام تشریق میں رمی کو زوال سے غروب آفتاب تک محدود کرتے ہیں، ان کے نزدیک غروب کے بعد رمی کا وقت ختم ہوجاتا ہے، اگر کوئی غروب تک رمی نہ کرے تو قضاء کے ساتھ دم بھی واجب ہوگا۔ (الشرح الکبیر ۲/۵۱، شرح الرسالة مع الحاشیہ ۱/۴۷۷، ۴۸۰)

                مگر حنفیہ کے پیش نظر وہ روایات ہیں جن میں آپ نے چرواہوں کو رات میں رمی کرنے کی اجازت دی۔ (طبرانی کبیر حدیث نمبر ۱۱۳۷۹، مسند بزاز رقم ۱۱۳۹)

                علامہ کاسانی لکھتے ہیں کہ چرواہوں کے ساتھ رعایت کسی عذر کی بنا پر نہیں تھی اس لئے کہ عذر کی صورت میں نائب بنانے کی اجازت ہے، اگر فی الواقع وقت نہیں رہتا تو ان کو نائب بنانے کا حکم دیا جاتا، لیکن مغرب کے بعد اجازت دینا وقت میں گنجائش کو ظاہر کرتا ہے۔ (بدائع الصنائع۲/۳۲۴)

حنفیہ کی رائے توسع واعتدال کی حامل ہے

                اسی طرح حنفیہ کے یہاں بڑی حد تک توسع اور اعتدال ملتا ہے، آخری دن (۱۳/ذی الحجہ) کی رمی میں بھی جمہور علماء کے مقابلے میں حضرت امام ابوحنیفہ کے یہاں بہت توسع ہے، ائمہ ثلاثہ اور حنفیہ میں، امام ابویوسف اور امام محمد کے نزدیک آخری دن بھی زوال سے قبل رمی کی اجازت نہیں ہے، جبکہ سب اس پر متفق ہیں کہ غروب آفتاب سے رمی کا وقت ختم ہوجاتا ہے،اور قضا کی بھی مدت باقی نہیں رہ جاتی ہے، یعنی ہر شخص کو زوال سے غروب ہی تک کے دوران رمی کرلینی ہے، ورنہ رمی فوت ہوجائے گی۔ اور دم واجب ہوگا۔ (حوالہ جات سابقہ)

                مگر حضرت امام ابوحنیفہ کی رائے یہ ہے کہ چونکہ یہ آخری اور روانگی کا دن ہے،اگر کوئی شخص غروب کے بعد منیٰ سے روانہ ہو تو راستہ میں اس کے لئے دشواریاں پیش آسکتی ہیں، اس لئے چاہے تو زوال سے قبل ہی، رمی کرکے فارغ ہوجائے۔ (بدائع ۲/۳۲۶)

                امام احمد سے بھی ایک روایت اسی مضمون کی نقل کی گئی ہے۔ (الموسوعہ ۲۳/۱۵۸)

                شامی نے زوال سے قبل رمی کو کراہت کے ساتھ جائز کہا ہے۔ (رد المحتار ۳/۴۸۰) مگر بعض متاخرین حنفیہ نے حج کے موقع پر انسانی ہجوم اور وقت کی تنگ دامانی کو دیکھتے ہوئے امام ابوحنیفہ کے اس قول کو زیادہ لائق ترجیح قرار دیا ہے۔ (الموسوعة الفقہیہ میں البحرالعمیق، ارشاد الساری، اورکتاب المناسک لملاعلی قاری ۱۶۱ وغیرہ کے حوالوں سے یہ عبارت نقل کی گئی ہے)

                فہو قول مختار یعمل بہ بلا ریب وعلیہ عمل الناس وبہ جزم بعض الشافعیة حتی زعم الاسنوی انہ المذہب( ۲۳/۱۵۸)

                ترجمہ: یہی قول مختار ہے بلاشبہ اسی پر عمل کیا جائے گا، اور لوگوں کا عمل اسی پر ہے، اور بعض شوافع نے بھی اسی خیال کا اظہار کیاہے، بلکہ اسنوی تواس کو اصل مذہب قرار دیتے ہیں۔

                موسوعہ کے مرتب نے اپنے خیال کا اظہار ان الفاظ میں کیاہے:

                والاخذ بہذا مناسب لمن خشی الزحام ودعتہ الیہ الحاجة لاسیّما فی زماننا (۲۳/۱۵۸)

                ترجمہ: جس شخص کو بھیڑ کا اندیشہ ہو اور کوئی حاجت درپیش ہو اس کے لئے اسی قول کواختیار کرنا مناسب ہے، بالخصوص ہمارے دور میں۔

مشکلات کو حل کرنے کی ضرورت ہے

                اس تفصیل کی روشنی میں اس سلسلے میں رکھنے والے سوالات اور مشکلات کو حل کیاجاسکنا، آج کل حجاج کی بڑھتی ہوئی مقدار کے پیش نظر رمی جمار کے موقع پر بڑا ہجوم ہوجاتا ہے،جو سخت ترین انتظامات کے باوجود قابو سے باہر ہوتا ہے، اوراس کے نتیجے میں بعض مرتبہ بڑے حادثات رونما ہوتے ہیں مثلاً ۱۴۱۸ھ میں کم از کم (۳۷۵) اور ۱۴۲۴ھ میں (۲۵۰) حجاج شہیدہوئے، جیسا کہ عالمی اخبارات اور ریڈیو سے نشر ہوا، حاجیوں کی یہ تعداد آئندہ اور بھی بڑھ سکتی ہے، حکومت سعودیہ نے اپنی مجبوریوں کے باعث حجاج کی تعداد کی تحدید کررکھی ہے، مگر دنیا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اور اشاعت اسلام کے پیش نظر یہ تحدید بالیقین اسلام کی آفاقیت کے منافی ہے،اوراس تحدید میں مزید توسیع کی ضرورت ہے۔

                اس لئے آج کے دور میں بالیقین رمی کے پورے نظام کا جائزہ لینا چاہئے، اور لوگوں کی جان ومال کی حفاظت، حج کی سعادت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت اورملت اسلامیہ کو خفت و بدنامی سے بچانے کیلئے توسیع کا وہ راستہ اختیار کرنا چاہئے، جو ائمہ اربعہ میں سے کسی کے معتبر قول کے مطابق ممکن ہو، اس لئے کہ

                (۱) اولاً رمی جمار فرض نہیں، واجب ہے، یہی وجہ ہے کہ بوقت ضرورت اس معاملے میں اپنا نائب بنانے کی اجازت ہے، جبکہ ارکان و فرائض میں نیابت جاری نہیں ہوسکتی۔ (فتح القدیر لابن ہمام ۲/۴۹۵) اورانسانی جانوں کی حفاظت فرض ہے، اسلئے واجب کیلئے فرض کو ضائع نہیں کیا جائیگا۔

                (۲) حضرت سلیمان بن عمرو بن الاحوص اپنی ماں کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں، فرماتی ہیں کہ:

                رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یرمی الجمرة من بطن الوادی وہو راکب یکبر مع کل حصاة ورجل من خلفہ یسترہ فسألت عن الرجل فقالوا: الفضل بن عباس، وازدحم الناس فقال علیہ الصلوٰة والسلام یایہا الناس لا یقتل بعضکم بعضاً و اذا رمیتم الجمرة فارموا بمثل حصی الخذف (ابوداؤد حدیث ۱۹۶۶، ابن ماجہ حدیث ۳۰۲۸، احد۳/۵۰۳،نصب الرایة۳/۷۵)

                ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بطن وادی سے سوار ہوکر جمرہ کو رمی فرمارہے تھے، اور ہر تلبیہ کے ساتھ تکبیر فرماتے تھے، اور ایک صاحب آپ کے پیچھے ڈھال بنے ہوئے تھے میں نے ان کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ”فضل بن عباس“ ہیں، لوگوں کا ہجوم آپ نے ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا کہ ”اے لوگو! کوئی کسی کو جانی نقصان نہ پہنچائے، رمی جمرہ کرو تو چھوٹی کنکریوں سے کرو“

                اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقع پر ازدحام فطری چیز ہے۔ اس لئے جانی نقصان کا اندیشہ بہرحال ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ رمی جمار کے دوران کسی کی جان تلف نہ ہونی چاہئے۔

                اس ارشاد عالی کا تقاضا ہے کہ رمی جمار میں ایسے نظام کو اختیار کیا جائے گا جس میں تحفظ جان کی زیادہ سے زیادہ ضمانت ہو، اس لئے ایک طرف منیٰ میں مکانی توسیع کی کوشش تیزہونی چاہئے تو دوسری طرف ایسے مسلک فقہی کواختیار کیا جانا چاہئے جس میں فطری اعتدال دین کے روح و مزاج کی رعایت و تحفظ جان کی ضمانت اور لوگوں کے لئے وسعت و راحت کا سامان موجود ہو۔

                (۳) نیز ضرورت اور حرج کے موقع پر شریعت نے جو وسعت دی ہے اس سے بھی استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم میں ہے:

                ما یرید اللّٰہ لیجعل علیکم من حرج (المائدہ:۶)

                ترجمہ: اللہ نہیں چاہتے کہ تم کو حرج میں ڈالے۔

                دوسری جگہ ارشاد ہے:

                وما جعل علیکم فی الدین من حرج (الحج:۷۸)

                ترجمہ: دین میں تمہارے لئے اللہ نے تنگی نہیں پیدا کی۔

                نیز ارشاد ہے:

                یرید اللّٰہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر (البقرة:۱۸۵)

                ترجمہ: اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتے ہیں دشواری نہیں چاہتے۔

                اسی چیز کو فقہاء نے مختلف ضابطوں کے تحت بیان کیا ہے۔

                $ مثلاً: اذا ضاق الامر اتّسع

                ترجمہ: جب تنگی آتی ہے تو وسعت پیداہوجاتی ہے۔

                $ المشقة تجلب التیسیر

                ترجمہ: دشواری آسانی لے کر آتی ہے۔ (الاشباہ والنظائر)

                شریت کے اس نظریہ اتساع کا تقاضا یہ ہے کہ حرج و تنگی کے سنگین مواقع پر حتی الامکان توسع کا راستہ احتیار کیا جائے۔

زیادہ قابل قبول مسلک

                علماء نے لکھا ہے، ضرورت کے وقت کسی بھی مذہب فقہی پر عمل و فتویٰ کی گنجائش ہے۔ جس کے لئے کچھ حدود اور ضوابط مقرر کئے گئے، لیکن بحیثیت مجموعی ائمہ اربعہ میں حضرت امام ابوحنیفہ کا مسلک اس باب میں زیادہ محتاط، معتدل اور توسع کا حامل ہے، جیساکہ گذشتہ سطور میں آراء کی تشریح کے دوران اس کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔

                مثلاً حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک ۱۰/ ذی الحجہ کو صبح صادق سے دوسرے دن کے صبح صادق تک رمی کا وقت ہے، جو کافی وسیع وقت ہے۔

                حضرت امام شافعی نے نصف شب ہی سے مانا ہے، اور مزید توسع دی ہے، مگر اس میں ایک طرف وقوف مزدلفہ کا حکم متاثر ہوتا ہے، دوسرے کوئی مضبوط اور واضح دلیل اس موقف کے لئے نہیں ہے، اور کام صبح صادق کے وقت کو مان کر بھی حل ہوسکتا ہے۔ اس لئے احتیاط یہ ہے کہ نصف شب سے رمی کا آغاز نہ کیا جائے کہ ممکن ہے اللہ کے نزدیک یہ قبل از وقت رمی قرار پائے۔

                ۱۱/۱۲/۱۳/ کی تواریخ میں بھی حضرت امام ابوحنیفہ ایک روایت کے مطابق صبح صداق سے رمی کا وقت مانتے ہیں،اور رات کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں، جس سے بڑی آسانی ہوجاتی ہے۔ دوسرے فقہاء زوال سے قبل رمی کا وقت نہیں مانتے ہیں۔ مالکیہ نے وقت رمی کو اور بھی زیادہ مختصر کردیا ہے، اور اس کو صرف غروب تک محدود کیا ہے۔

سوالات کے جوابات

                اس لحاظ سے حضرت امام ابوحنیفہ کا مذہب آسان اور دین کے مزاج اور زمانہ سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ اس روشنی میں:

                (۱)          ۱۰/ذی الحجہ کی رمی طلوع آفتاب سے قبل صبح صادق سے کی جاسکتی ہے۔

                (۲)         ۱۱/۱۲/ذی الحجہ کی رمی طلوع صبح صادق سے کرنے کی گنجائش ہے۔

                (۳)         ۱۱/۱۲/ذی الحجہ کی رمی غروب آفتاب کے بعد بلاکراہت جائز ہے۔

                (۴)         ۱۳/ذی الحجہ کی صبح صادق سے قبل منیٰ سے نکل جائے تو حرج نہیں لیکن صبح صادق کے بعد رمی کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ اسلئے اس پر رمی لازم ہوجائے گی، اگر رمی نہ کرے گا تو دم لازم ہوگا۔

                بہتر یہ ہے کہ جس نے ۱۳/ کو نہ کیاہو وہ ۱۲/ کے غروب آفتاب سے قبل منیٰ چھوڑ دے، غروب کے بعد نکلنا مکروہ ہے،مگر تاوان واجب نہیں ہوگا،اور اگر تاخیر ہجوم کی وجہ سے ہوئی ہو تو کراہت نہیں ہوگی، البتہ رمی زوال سے قبل بھی کرسکتا ہے، شامی نے اسے مکروہ لکھا ہے۔ (ردالمحتار۳/۴۸۱) مگر بعض متاخرین حنفیہ نے آج کے حالات میں اسی کو قابل ترجیح کہا ہے۔

                (۵)         بہت زیادہ بوڑھے، بیمار ، معذور اورخواتین کے لئے احتیاط یہ ہے کہ ۱۰/ ذی الحجہ کو صبح صادق میں اندھیرے ہی رمی کریں اس میں کوئی کراہت نہیں ہے، اس لئے کہ وقت میں بہت گنجائش ہے، البتہ اگر معذورین کو اندیشہ ہوکہ وہ صبح کے بعد ہجوم کی وجہ سے رمی نہ کرسکیں گے تو مناسب یہ ہے کہ وہ رمی کے لئے اپنا نائب مقرر کریں اور خود رمی کیلئے نہ جائیں اور نہ نصف شب کے بعد رمی کریں کیونکہ نیابت کی شریعت نے اجازت دی ہے، اس لئے رمی کو قبل از وقت کے خطرہ میں ڈالنا بہترنہیں۔

منیٰ میں حجاج کے قیام کی شرعی حیثیت

                (۱/۲/۳) رمی کے درمیان حاجیوں کو منیٰ میں قیام کرنا مسنون ہے، واجب نہیں، اس لئے منیٰ کے حدود میں قیام کرنا اگرکسی عذر کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو دوسری جگہ قیام کرنا بلا کراہت جائز ہے، البتہ بلا عذر منیٰ کے حدود سے باہر قیام کرنا مکروہ ہے۔ (ردالمحتار۳/۴۷۹)

واللّٰہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم واحکّم

$ $ $

______________________________

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ4، جلد: 91 ‏، ربیع الاول1428 ہجری مطابق اپریل2007ء