دینی مدارس اور علماء کا کردار

درسِ نظامی پر اشکالات کا جواب

از: مولانا سعید احمد جلال پوری

 

گزشتہ دنوں ایک دینی مدرسہ کے طالب علم نے نہایت اضطراب کی حالت میں اور ڈرتے ڈرتے ایک سوال نامہ پیش کیا اور اس کے جواب کی فرمائش کی، ایک صبح اٹھ کر جواب لکھنے بیٹھا تو خلاف معمول ایک ہی نشست میں اُسے مکمل کردیا، جو کسی قدر نوک پلک درست کرنے کے بعد نذرِ ناظرین ہے:

حضرت محترم ! السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ

حضرت ! بندے کے دل میں کافی عرصے سے مدارس کے نصاب کے متعلق چند اشکالات و سوالات ہیں، جنھوں نے ایک اضطرابی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے، لہٰذا بندہ اس سے خلاصی پانے کیلئے تمام اشکالات کو آپ کی نظر کرنا چاہتا ہے۔ امید ہے کہ شفقت کے ساتھ سوالات کاجواب مرحمت فرمائیں گے۔

(۱) مدارس میں جدید فقہی مسائل کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟ حالانکہ وہ تمام قدیم مسائل پوری تشریح و توضیح اور دلائل و بحث کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں، جن کی ہمارے دور (زمانے) میں دُور کی بھی مماثلت نہیں پائی جاتی، اور ان مسائل کی موجودہ زمانے کے لحاظ سے تطبیق دینا بھی ممکن نہیں، ہمیں یہ سب تو پڑھایا جاتا ہے؛ لیکن مروّجہ سودی نظام، لیزنگ، بیمہ پالیسی، بینکنگ، اکاؤنٹ اور پرائز بانڈ وغیرہ کے بارے میں ہم بالکل نا آشنا ہیں۔

(۲) موجودہ زمانہ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں انتہائی تفاوت کی وجہ سے زکوٰة کا نصاب کیاہونا چاہئے؟

(۳) موجودہ زمانہ کے لحاظ سے عشر و خراج کا طریقہ کیا ہونا چاہئے؟ اور ہماری زمینیں عشری ہیں یا خراجی؟

(۴) کاغذی نوٹ کے بارے میں شریعت کی نظر میں ثمنیت کا کیا اعتبار ہے؟ حالانکہ جب کاغذی نوٹ کااجرا کیاگیا تو اس کو سونے اور چاندی کے مساوی قرار دیا گیا، اب اس میں تفاوت پایا جاتا ہے، اس بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔

(۵) تفسیر میں صرف تفسیر عثمانی پر ہی کیوں اقتصار کیاجاتا ہے؟ قرآن وحدیث کی حقانیت کو آج کی سائنس ثابت کررہی ہے، ہمیں اس لحاظ سے کیوں نہیں پڑھایا جاتا؟ حالانکہ ایک عام دنیادار پروفیسر ، علماء سے زیادہ اس کی تحقیق رکھتاہے، اور جدت پسندوں کو ہمیں رجعت پسند کہنے کا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔

(۶) مدارس میں پانچ سال تک منطق کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ اوراس میں فضول قسم کی قیل و قال کی جاتی ہے؟ جن کا نہ فائدہ ہے اور نہ افادہ؟

(۷) مدارس میں پانچ سال تک نحو کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ ”کلمہ کی تعریف کو کلام کی تعریف پر کیوں مقدم کیا؟ کلام کی تعریف کو کلمہ کی تعریف سے کیوں موخر کیا؟“ اس قسم کے فضول فلسفے پڑھائے جاتے ہیں، اور نتیجہ یہ ہے کہ دس سال تک عربی تکلم پر قدرت ہے، نہ انشاء پر۔

(۸) مدارس میں تقابل ادیان سے متعلق کسی قسم کا مواد نہیں پڑھایا جاتا، سوائے ان معتزلہ کے، جن کا وجود دنیا میں نہیں رہا۔

(۹) دس سال مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا شہریت، جغرافیہ اورانگریزی سے نابلد رہتا ہے اور اپنی قومی زبان پر بھی مکمل دسترس حاصل نہیں کرپاتا۔ مدارس میں رائج اس نصاب کی وجہ سے مدارس کے فضلاء میں درج ذیل خرابیاں پیدا ہوگئیں:

(الف) مدارس سے ایسا طبقہ پیدا ہواجسے معاشرے نے قبول نہیں کیا۔

(ب) مدارس دیہاتی ماحول اور چھوٹے طبقے تک محدود ہوگئے اور اہل ثروت کا مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا۔

(ج) علماء کے اندر سے تحقیقی کام کا ذوق ختم ہوتا چلاگیا۔

(د) علماء محدود ذہن کے ہوگئے۔

(ھ) اس کے علاوہ کئی وجوہات حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی صاحب دامت برکاتہم کے اس مکتوب گرامی سے بھی معلوم ہوتی ہیں، جو درج ذیل ہے:

”مکرمان ومحترمان حضراتِ اکابر و ذمہ دارانِ مدارس ․․․․․ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!

اللہ پاک کا شکر ہے! بندہ بعافیت ہے، امید ہے بعافیت ہوں گے، آج ذمہ داران مدرسہ کو ایسے علماء تیار کرنے چاہئیں، جن کی پڑھنے ہی کے زمانہ میں پڑھانے کی نیت کرائی جائے، وہ فارغ ہوکر پڑھائیں اور پڑھنے ہی کے زمانہ میں تھوڑا تھوڑا وقت لگاکر دعوت وتبلیغ سے مناسبت پیدا کریں، اور پڑھنے کے زمانہ میں جس کی طرف اس کا رجحان ہو، بیعت کا تعلق کرادیں، تاکہ پڑھنے کے ساتھ سلوک سے مناسبت ہوجائے، پھر وہ جہاں بیٹھے تینوں کام کرنے والا ہو: ایک طرف تعلیم دے رہا ہو،اور ایک جگہ تبلیغ کی خدمت کررہا ہو،اور ایک طرف اپنے معمولات پورے کررہا ہو،اور دوسروں کے معمولات پورے کرانے کا ذریعہ بن رہا ہو، آج پوری دنیا میں ہرسال اتنے علماء فارغ ہونے کے باوجود، مکاتب میں پڑھانے والے نہیں ملتے، مدارس کی کتابیں پڑھانے والے نہیں ملتے، مراکز میں جماعتیں لے کر چلنے والے نہیں ملتے اور خانقاہوں میں ذاکرین کی وہ مقدار نہیں ہوتی جیسی ہونی چاہئے، پوری دنیامیں جو کچھ اس لائن سے نظر آرہا ہے، وہ صُفّہ پر ایک ہی جگہ ہورہا تھا، وہیں مبلغین تیار ہورہے تھے، وہیں مجاہدین تیار ہورہے تھے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صُفّہ کی ترتیب پر سارے اعمال ایک ہی جگہ ہورہے ہوں، میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ پوری دنیا میں یہ ماحول بنایا جائے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے․․․․․․ فقط والسلام

                                                                                                                                                                                                                                          محمد طلحہ کاندھلوی

                                                                                                                                                                                                                                           ۲۱/محرم الحرام ۱۴۲۶ھ

اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع عطا فرمائے، آمین۔ اللّٰہم انی اعوذبک من علم لاینفع

بندہ محمد عبداللہ، کراچی

جواب: میرے عزیز آپ نے سوالوں کے ساتھ جواب کی جگہ تو چھوڑی نہیں، تاہم الگ کاغذ پر آپ کے تمام سوالات کا مختصر سا جواب نمبر وار درج کیا جاتا ہے:

(۱) میرے عزیز ! یہ تو آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ اسلامی شریعت کے ماخذ چار ہیں: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ اور ان سب کی اصل، بنیاد اورمنبع قرآن کریم ہے،اسلئے کہ قرآن کریم میں بعض احکام تو صراحتاً مذکور تھے، اور جو احکام قرآن کریم میں صراحتاً مذکور نہیں تھے، آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں ان کی وضاحت فرمادی، اسلئے حدیث بھی قرآن کریم کی شرح و تفسیر ہے، پھر جو احکام و مسائل قرآن و حدیث میں صراحتاً مذکور نہیں تھے، حضرات صحابہ کرام، ائمہ مجتہدین اور اکابر علمائے امت نے انہیں ان دو بنیادوں یعنی قرآن و حدیث کی روشنی میں مستنبط فرمایا، اور جن مسائل پر اکابر کا اجماع ہوگیا، وہ اجماعی مسائل قرار پائے، پھر جو مسائل اس کے علاوہ تھے، انہیں ان تین بنیادوں سے ماخوذ اصولوں پر قیاس کرکے معلوم کیاگیا اوراسی کا نام ”فقہ“ ہے۔ لہٰذا فقہ میں پہلے اصول اورکلیات کا درس دیاجاتا ہے، اگرچہ اس میں بیشتر جزئیات سے بھی بحث کی جاتی ہے، مگر چونکہ جدید فقہی مسائل ہردور کے الگ الگ ہوتے ہیں، لہٰذا حضرات علماء کرام نے فقہ کے اصول وضع فرماکر ہردور کے علماء کو اس قابل بنادیا کہ وہ ان اصولوں کی روشنی میں جدید فقہی مسائل کو سمجھااور پڑھاسکیں۔

اگر موجودہ دور کے جدید مسائل کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تواکابر علماء اور اربابِ دینی مدارس نے بنیادی طور پر ان کا درس دیا ہے، چنانچہ قدوری، کنز اور ہدایہ سمجھ کر پڑھ لی جائیں یا بالفاظ دیگر ہضم کرلی جائیں تو سود، جوا اور لاٹری کی تمام مروّجہ شکلیں اوران کا حکم بآسانی سمجھ میں آسکتا ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ علماء جدید مسائل کیوں نہیں پڑھاتے؟ درحقیقت فقہ اور اصول فقہ سے لاعلمی کی علامت ہے۔

قدیم مسائل پوری توضیح و تشریح سے پڑھانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جن طلبہ و علماء کو یہ اصول سمجھ میں آجائیں گے، اُن کو ان اصولوں کی روشنی میں جدید مسائل کا سمجھنا آسان ہوجائے گا،اور جو شخص قدیم مسائل اور ان کے اصول سمجھ لے گا، اس کو جدید مسائل سمجھنا اوران کی تطبیق دینا آسان ہوجائیگا،مثلاً بیع قبل القبض، حرام اشیاء کی بیع، قسطوں کا کاروبار، بیمہ، لیزنگ وغیرہ، کونسا ایسا مسئلہ ہے جو فقہائے امت نے بیان نہیں فرمایا؟ تاہم اکابر علماء امت کے فتاویٰ اوران کی تصنیفات میں ان پر مستقل بحث کی گئی ہے، جو کسی صاحب علم و عقل پر مخفی نہیں،کوئی ایک ایسا مسئلہ بتلایا جائے جو ان اصول، قواعد اور کلیات سے ماورا ہو اوراس پر علماء نے کوئی راہنمائی نہ کی ہو؟

(۲) آپ کا ارشاد کہ: سونے، چاندی کی قیمتوں میں انتہائی تفاوت کی وجہ سے اب زکوٰة کا نصاب کیا ہونا چاہئے؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ :

دور حاضر کے مفتیان کرام اور ہندوپاک کے اربابِ تحقیق نے ان دونو ں نصابوں (سونا اور چاندی) میں سے جو سستا ہو، اس کو وجوبِ زکوٰة کے لئے معیار قرار دیا ہے، اس لئے چاندی کے نصاب پر وجوبِ زکوٰة اور وجوبِ قربانی کا حکم ہے، یہ اگر ایک طرف انفع للفقراء ہے تو وہاں احوط بھی ہے، کیونکہ اگر خدانخواستہ عند اللہ اس آدمی پر زکوٰة فرض تھی اور ہم نے اغنیاء کے نفع اور ان کی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر اس کو زکوٰة سے بری قرار دے دیا تو وہ عند اللہ مجرم ہوگا۔

پھر یہ بھی دیکھا جائے اور غور کیا جائے کہ شریعت کے احکام میں ضعفاء اور فقراء کا خیال رکھا گیا ہے، نہ کہ مالداروں اور طاقتوروں کا، گویا سونے کو نصاب قرار دینے کی صورت میں تو شاید و باید ہی کسی پر زکوٰة اور قربانی واجب ہوسکے گی، اس سے دولت کا ارتکاز ہوگا اور غرباء و فقراء محتاج تر ہوجائیں گے۔

بہرحال میں نہ تو مجتہد ہوں اورنہ ہی مفتی، البتہ اکابر اساتذہ ومفتیانِ کرام کا جدید و قدیم فتویٰ یہی ہے کہ نصاب کا معیار ان دو چیزوں میں سے وہ ہے جو سستی ہو، اور چونکہ چاندی سستی ہے، اس لئے وہی نصاب ہے، اور ایسے شخص پر جو چاندی کے نصاب کا مالک ہو، زکوٰة اور قربانی واجب ہے۔

(۳) موجودہ زمانے کے لحاظ سے عشر و خراج کا طریقہ اور زمینوں میں سے عشری و خراجی کی تعیین کے سلسلہ میں عرض ہے کہ: جہاں تک ہمارے ملک کی زمینوں کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے، چونکہ یہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کون سی عشری اور کون سی خراجی ہے؟ اسلئے احتیاط اسی میں ہے کہ سب کو عشری قرار دے کر سب کا عشر ادا کیا جائے، اسلئے اگر زمین بارانی ہو کہ صرف ہل چلاکر بیج ڈال دینے پر فصل تیار ہوجائے تو اسکی آمدنی پر عشر ہوگا یعنی آمدنی کا دسواں حصہ دیا جائیگا اوراگراسکے اوپر پانی، کھاد اور اسپرے وغیرہ کے دوسرے اخراجات آتے ہوں تو نصف عشر یعنی آمدنی کا بیسواں حصہ بطور عشر دیا جائیگا۔

(۴) جہاں تک کاغذی نوٹ کی حیثیت کا تعلق ہے،اس سلسلہ میں عرض ہے کہ کاغذی نوٹ چونکہ عام طورپر اس سونے،چاندی کا بدل یا زرِ ضمانت ہوتے ہیں، جس کی بنیاد پر کاغذی نوٹ جاری کئے جاتے ہیں، اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ انہیں سونے کا بدل تصور کیا جائے اور ان کے عوض سونے، چاندی کی ادھار خرید و فروخت نہ کی جائے، جبکہ بعض دوسرے حضرات ان کو ثمن عرفی قرار دیتے ہیں، اس لئے اُن کے ہاں ان کاحکم زرِ ضمانت کا نہیں، لہٰذا اُن کے ہاں کاغذی نوٹوں کے عوض سونے، چاندی کی ادھار خرید و فروخت جائز ہے۔

آپ کا یہ فرمانا کہ: اس بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا، اس لئے نادرست ہے کہ میرے نزدیک یہ اضافی بحث ہے، تاہم اکابر نے اس پر مستقل تصنیفات فرمائی ہیں اور اکابر کے مطبوعہ فتاویٰ میں بھی اس کی تفصیلات موجود ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ابتدائی طلبہ کے پڑھانے کی چیز نہیں، اس لئے کہ یہ ان کی ذہنی سطح سے اونچی چیز ہے، ہاں جو طلبہ تکمیل درسِ نظامی کے بعد فقہ میں تخصص کرتے ہیں، ان کو یہ موضوع بھی پڑھایا جاتا ہے اور وہ اس سے باخبر ہوتے ہیں۔

جس طرح دنیا کے دوسرے علوم وفنون میں ابتداءً اصول وکلیات پڑھائے جاتے ہیں، اسکے بعد خاص خاص شعبوں میں تخصصات کرائے جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح یہاں بھی وہی اصول کارفرماہے، مثلاً: جیسے ڈاکٹر بننے والوں کو پہلے ایم بی بی ایس کا کورس کرایا جاتا ہے، اسکی تکمیل کے بعد پھر طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر ان کے منتخب کردہ موضوعات،مثلاً: دل، دماغ، جگر، معدہ، سینہ، کان، ناک اورحلق کے امراض اوران کی جراحی کے اصول و فروع میں تخصص کرائے جاتے ہیں، اور ایسا شخص اس شعبہ کا ماہر کہلاتا ہے، بالکل اسی طرح یہاں بھی وہی انداز اپنایا جاتا ہے کہ پہلے مطلقاً فقہی اصول و مبادیات کی تعلیم دی جاتی ہے، اسکی تکمیل کے بعد طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر حدیث، فقہ، دعوت و ارشاد، معاشیات اور اقتصادیات میں تخصصات کرائے جاتے ہیں، اسلئے کہ جو طالب علم، نفس فقہ اوراس کے اصول و مبادیات سے نا آشنا ہو، اسکو ان مخصوص مسائل میں الجھانے سے کیا اس کا دماغ منتشر نہیں ہوگا؟

(۵) آپ کا یہ ارشاد کہ: ”تفسیر میں صرف تفسیر عثمانی پر ہی کیو ں اقتصار کیاجاتا ہے؟“ اس لئے ناقابل فہم ہے کہ تفسیر عثمانی درسِ نظامی اور وفاق المدارس کے نصاب میں شامل نہیں ہے، اگر کوئی مدرسہ یا کسی مدرسہ کا کوئی استاذ اس کو درساً پڑھاتا ہے تو یہ اس کا انفرادی عمل ہے، بہرحال مقصود تو نفس قرآن کریم کا ترجمہ و تشریح ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اساتذہ اس تفسیر سے استفادہ کرتے ہیں اور طلبہ کو بھی اس تفسیر سے استفادہ کی ترغیب دیتے ہیں، اور ایسا کرنا اس لئے مناسب ہے کہ تفسیر عثمانی کے مطالعہ سے نفس قرآن کریم سمجھ میں آجاتا ہے، لہٰذا تفسیر عثمانی کے مطالعہ کی ترغیب بھی اسی اصول کے پیش نظر ہے کہ طلبہ کو نفس قرآن کریم سمجھ میں آجائے،اور طلبہ غیرضروری طویل لاطائل ابحاث میں نہ الجھیں، پھر جب نفس قرآن کریم سمجھ میں آجائے گا اور استعداد پیدا ہوجائے گی تو دوسری طویل و مبسوط تفسیروں سے استفادہ بھی آسان ہوجائے گا۔

اگر غور کیاجائے تو تفسیر عثمانی تمام متداول اردو تفاسیر کا اختصار و خلاصہ ہے۔اربابِ علم و دانش جانتے ہیں کہ تفسیرعثمانی ”دریا بکوزہ“ کا مصداق ہے، چنانچہ جو شخص پہلے تمام متداول عربی تفاسیر کا بغور مطالعہ کرے اورپھر تفسیر عثمانی کا مطالعہ کرے تو اسے اس کی ایک،ایک سطر، بلکہ ایک، ایک حرف کے مطالعہ سے اندازہ ہوگا کہ یہاں سے کس تفسیر کے کس قول، اعتراض یا اشکال کاجواب اور مختلف تفسیری اقوال میں سے کس قول کو ترجیح دی جارہی ہے۔

اس کے علاوہ برا نہ مانیں تو درسِ نظامی میں تین سال تک قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر جلالین مکمل درساً پڑھائی جاتی ہے، جبکہ تفسیر بیضاوی کا ایک حصہ سبقاً پڑھاکر تفسیری انداز اور قرآن کریم کے علوم ومعارف سے بھی طلبہ کو روشناس کرایاجاتا ہے۔

آپ کا یہ ارشاد کہ قرآن وحدیث کی حقانیت کو سائنس سے کیوں ثابت نہیں کیا جاتا، آپ کی بچکانہ سوچ کا مظہر ہے، کیونکہ سائنس سے اگر قرآن و سنت کی حقانیت کو ثابت کیا جائے تو کیا آئے دن تبدیل ہونے والے سائنسی نظریات کی اقتداء میں قرآن و حدیث کے معانی و مفاہیم کو بھی بدلا جائے گا؟ اگر نہیں تو پھر قرآن و سنت کی حقانیت کو سائنس کی ضرورت نہیں، ہاں سائنس قرآن و سنت کے تابع اوراس کی ممد ہے اوراکابر نے اس پر کام کیا ہے، حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس سرہ کی کتاب ”سائنس اوراسلام“ قابل مطالعہ ہے۔

(۶) دینی مدارس میں منطق اس لئے پڑھائی جاتی ہے تاکہ انسانی دماغ کی گرہیں کھل جائیں، فکری غلطیوں سے حفاظت ہوجائے اور معاندین اسلام کے فکری مغالطوں کاجواب بآسانی دیا جاسکے، پھر چونکہ قدیم وجدید دور کے ملاحدہ عقلیت پسند ہوتے ہیں اور عقلیات کو استعمال کرتے آئے ہیں، اسلئے عقلیت پسندی کے ان مریضوں کا علاج بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا جب علماء کو اس فن سے مناسبت یا آگاہی ہوگی۔

اس سے ہٹ کر اکابر علمائے امت کی تصنیفات میں بھی چونکہ منطق و فلسفہ کی اصطلاحات موجود ہیں، لہٰذا جو شخص اس فن سے ناواقف ہوگا، وہ دوسروں کو سمجھانے کی بجائے خود ان علوم سے استفادہ نہیں کرسکے گا، لہٰذا جس طرح قرآن و سنت کی فہم کے لئے علم صرف، نحو، معانی، بدیع، بلاغت و بیان کا جاننا ضروری ہے، اسی طرح منطق کا جاننا بھی ضروری ہے۔ دیکھاجائے تو یہ بھی قرآن و سنت اورعلوم نبوت کاخادم علم ہے، جس کی تعلیم نہایت ضروری ہے، پھر اکابر واسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو صاف نظر آئے گا کہ جن، جن اکابر نے منطق و فلسفہ پڑھا ہے، وہ اپنے، اپنے دور کے یگانہ روزگار تھے،اورانھوں نے کسی بھی میدان میں ناکامی کا منھ نہیں دیکھا،اس لئے چند سال پہلے تک ہمارے علماء اور طلبہ درسِ نظامی سے فراغت کے بعدایک سال مستقل ”تکمیل“ کے نام سے ان فنون کو پڑھتے تھے، میرے خیال میں جو طلبہ ان فنون کی افادیت و لذت سے ناآشنا ہیں، وہی ان کی مخالفت کرتے ہیں، ورنہ یہ فن فہم و تفہیم دین میں بہت ہی ممدومعاون ہے، ہاں جولوگ جس چیز سے ناآشنا ہواکرتے ہیں، وہی اس کے دشمن و مخالف ہوتے ہیں۔

(۷) نحو کے ذریعہ فعل، فاعل، مفعول، مبتداء، خبر، شرط اورجزا کا پتا چلتا ہے، اگر اس کا پتا نہ چلے تو عربی عبارت کا معنی و مفہوم ہی صحیح طورپر واضح نہیں ہوگا۔ اگر مفعول کو فاعل یا فاعل کو مفعول بنادیاجائے تو آپ اندازہ لگائیں کہ کس قدر خطرناک حد تک معنی بدل جائے گا، مثلاً قرآن کریم کی سورئہ برأة میں ہے کہ:

ترجمہ: ”بے شک اللہ اور اس کا رسول، مشرکین سے بری ہیں۔“ (برأة:۳)

اگر بالفرض کوئی نحو کا فن نہ جانتا ہو اور وہ خدانخواسہ ”وَرَسُوْلُہ“ کا عطف مشرکین پر ڈال کر اس کو مجرور یعنی وَرَسُوْلِہ پڑھے اور نعوذ باللہ! اس کا ترجمہ یہ کرے کہ: ”اللہ مشرکین سے اور اپنے رسول سے بری ہے“ تو وہ کس قدر تحریف کا مرتکب ہوگا، بلکہ قصداً ایسا پڑھنا بدترین کفر ہے،اس لئے نحو کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے تاکہ قرآن و حدیث کو سمجھنا آسان ہوجائے۔

آپ کا یہ فرمانا کہ دس سال تک تعلیم کے باوجود عربی تکلم پر قدرت ہے، نہ انشاء پر، اس کے جواب میں عرض ہے کہ اکابر علماء نے علم صرف، نحو،ادب اورمنطق کی متداول کتب، درسِ نظامی میں اسی غرض سے شامل کی تھیں کہ ان کو پڑھ کر، بلکہ ہضم کرکے قرآن، حدیث، فقہ اور عربیت پر قدرت حاصل ہوجائے، چنانچہ بعض حضرات ان سے کما حقہ استفادہ کرکے دین و شریعت اور علوم نبوت کے علاوہ عربی بول چال پر بھی قدرت حاصل کرلیتے ہیں، جبکہ میرے اورآپ جیسے کوتاہ ہمت، بدمحنت اور ناقص استعداد لوگ اپنی کمی، کوتاہی کو چھپانے کیلئے اسپر اعتراض کرتے ہیں، اس کو فضول جانتے ہیں اوراس پر توجہ نہیں کرتے تواس کے کماحقہ ثمرات و برکات سے محروم رہتے ہیں، ورنہ ہندوپاک کے وہ اکابر،جن کی عربیت، فصاحت اور بلاغت پر دنیائے عرب سردھنتی ہے،اوران کے کلام کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، وہ انہی دینی مدارس کے فارغ و فاضل تھے، ان میں سے حضرت مولانا بدرعالم میرٹھی، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی،حضرت مولانا اعزاز علی، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی، حضرت مولانا محمدیوسف کاندھلوی، حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلوی، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا موسیٰ خان روحانی بازی، مولانا عبدالرشید نعمانی، مولانا عاشق الٰہی بلندشہری،مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار، مولانا وحیدالزماں قاسمی رحمہم اللہ تعالیٰ، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا ابوبکر غازی پوری، مولانا سید ارشدمدنی، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا نور عالم خلیل امینی وغیرہ مدظلہم حضرات انہی مدارس کے پڑھے ہوئے ہیں، جن کی عربیت و عظمت کی دنیا معترف ہے۔ آپ بھی اسی شوق و لگن سے پڑھیں تو آپ بھی ان کے مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔

کیا عصری اسکولوں میں پڑھنے والے تمام طلبہ مکمل انگلش بول سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ان پرکیوں اعتراض نہیں؟ جہاں تک عربی بول چال کا تعلق ہے، یہ ماحول اور ممارست کی محتاج ہے، آپ بھی اس کی مشق کریں تو اچھے عربی انشاء پرداز ہوجائیں گے، چنانچہ ہمارے وہ طلبہ جو عرب جامعات میں پڑھنے جاتے ہیں، کیا وہ عربی لکھتے، بولتے نہیں؟

(۸) آپ کا یہ فرمانا کہ ہمارے مدارس میں سوائے معتزلہ کے دوسرے فرق کی تردید اور تقابل ادیان پر کچھ نہیں پڑھایا جاتا، اس سلسلہ میں دیکھاجائے تو ہماری قدیم کتب میں جن فتنہ پردازوں اور ان کے فتنوں کا تذکرہ ہے،آج بھی ان کے جانشین موجود ہیں، مگر ان کے نام اور شبہات کے انداز بدل گئے ہیں، معتزلہ ”اعتزال“ سے ہے، اوراعتزال کے معنی ہیں: جمہور سے الگ راہ اختیار کرنا، لہٰذا آج بھی جو شخص فرقہ جمہور سے الگ راہ اختیار کرتا ہے وہ معتزلی ہے، معتزلہ بھی عقلیت پسند تھے اورآج بھی عقلیت پسندی کا دور دورہ ہے، لہٰذا عقلیت پسندی کی تردید آج کے دور کے عقلیت پسندوں کی تردید ہے۔

جہاں تک تقابل ادیان کا معاملہ ہے، بحمداللہ! ہمارے دینی مدارس میں اس کی بھی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے، مگر ہر شئی کا ایک موقع، محل اور وقت ہوتا ہے، ہمارے اکابر فرماتے ہیں کہ: پہلے اپنا مسلک و مذہب سیکھو، بعد میں تردید باطل سیکھو، یہ تو کوئی عقلمندی نہ ہوئی کہ اپنا دین و مذہب اور مسلک ومشرب تو معلوم نہ ہو اور دوسروں کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑنا شروع کردیاجائے، پھر تو وہی لطیفہ ہوگا جس طرح ایک جاہل نے کسی کافر کو ڈنڈا دکھاکر کہا کہ: پڑھو کلمہ، ورنہ قتل کردوں گا، جب ڈرے سہمے کافر نے کہا: کہ چلو پڑھا دو کلمہ،تو بیچارہ ڈنڈا بردار مارے شرم کے بغلیں جھانکنے لگا، اسلئے کہ خود اس کو بھی کلمہ نہیں آتا تھا، چنانچہ دل ہی دل میں کہنے لگا: اے کاش کہ ! مجھے کلمہ آتا تو آج ایک کافر مسلمان ہوجاتا۔

(۹) یہ بھی آپ کی بے توجہی ہے کہ مدارس میں دس سال پڑھنے والا شہریت، جغرافیہ اورانگریزی سے نابلد ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تو دینی مدارس کا موضوع ہی دین پڑھانا ہے، نہ کہ دنیا اوراس کے علوم۔ کیا کبھی کسی اسکول وکالج کے طالب علم سے بھی سوال ہوا ہے کہ ۱۶ سال پڑھنے کے باوجود آپ کو بنیادی اسلامی عقائد اور عربی سے نا آشنائی کیوں ہے؟

جبکہ بحمد اللہ! ہمارے مدارس میں یہ دنیوی علوم اب باقاعدہ پڑھائے بھی جاتے ہیں، اس کے علاوہ دیانت داری کی بات یہ ہے کہ جو شخص دینی مدارس کے اس نصاب کو پڑھ لیتا ہے، اُسے یہ دنیوی علوم محض تھوڑی سی توجہ اور مطالعہ سے بآسانی حاصل ہوجاتے ہیں، اورایسی کئی ایک مثالیں موجود ہیں، اگر یقین نہ آئے تو راقم کئی ایک مثالیں پیش کرسکتا ہے۔

(۱۰) آپ کایہ فرمان بھی ناقابل فہم ہے کہ:

(الف) ”مدارس میں رائج اس نصاب کی وجہ سے مدارس کے فضلاء میں یہ خرابیاں ہوگئیں کہ : مدارس سے ایسا طبقہ پیدا ہواجسے معاشرہ نے قبول نہیں کیا۔“ اس لئے کہ انہی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء نے آج تک امت کی راہنمائی کی ہے، اور ہندوپاک میں موجودہ دینی فضا اور دیانت داری کی ساری شکلیں انہیں علماء کی مرہونِ منت ہیں، ورنہ مصر اور دوسرے کئی عرب ممالک میں خود علماء دینی وضع قطع سے محروم ہیں، وہاں ستروحجاب کا تصور معدوم ہے، کافروں اور مسلمانوں کی مستورات کے لباس میں عریانی کی حد تک مماثلت ہے، آج جس طرح ہندوپاک میں علماء پر مسلمان اعتماد کرتے ہیں، دوسرے کئی عرب ممالک کے علماء اس اعتماد سے یکسر خالی ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج دینی مدارس اوران کا خالص دینی و مذہبی نصاب ابنائے کفر کی نگاہ میں کھٹکتا ہے، اگرمعاشرے نے ان کو قبول نہ کیا ہوتا تو معاشرہ ان کی تعلیمات کو کیوں اپناتا؟اور معاشرے کی یہ اچھی حالت کیونکر ہوتی؟

بحمد اللہ! ہندوپاک میں اس نصاب اورمدارس کی اس کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ یہاں دینی مراکز قائم ہیں، خانقاہیں آباد ہیں، تبلیغی جماعت اپنا کام کررہی ہے، قادیانیوں اور دوسرے لادینی طبقات کا ناطقہ بند ہے، مساجد و مدارس آباد ہیں، لوگوں کے چہروں پر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شادابی ہے، خواتین ستروحجاب سے مزین ہیں، دینی اسکول اور حفظ قرآن کے مدارس میں لاکھوں مسلمان بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور بحمد اللہ! کراچی ہی میں ماہانہ ڈھائی سے تین ہزار روپے فیس دے کر مسلمان اپنے بچوں کو حفظ قرآن اور دینی و عصری تعلیم دلارہے ہیں، کیا اب بھی کہا جائے گا کہ معاشرے نے ان کو قبول نہیں کیا؟

(ب) آپ کا یہ فرمان کہ: ”مدارس دیہاتی اور چھوٹے طبقہ کے لئے محدود ہوگئے اوراہل ثروت کا مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا“ کم از کم میرے لئے ناقابل قبول ہے، اس لئے کہ بحمد اللہ! مدارس میں اب ایک تعداد ان بچوں کی ہے جو لکھ پتی نہیں، کروڑپتی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، اگر اہل ثروت کا ان مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا ہوتا تو یہ مدارس بند نہ ہوگئے ہوتے؟ حالانکہ ان مدارس میں سے متعدد ایسے بھی ہیں جن کا سالانہ میزانیہ کروڑوں کا ہے، آخر یہ فنڈ کہاں سے آتا ہے؟ یہ اہل ثروت کے مدارس کی طرف رجحان کی دلیل ہے یا رجحان کے ختم ہونے کی؟ آپ ہی فیصلہ فرمائیں؟

پھر اگر کچھ محروم القسمت ان مدارس کی طرف توجہ نہیں کرتے یا ان کو یہ نظام ناپسند ہے، تو اس میں اس دور کے اہل ثرورت کی کیا تخصیص ہے؟ یہ طبقہ تو خود حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں بھی تھا، جو کہا کرتا تھا:

ترجمہ: ”جولوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اردگرد ہیں، ان پر خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ تنگ آکر وہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔“ (منافقون:۷)

آپ ہی ارشاد فرمائیں کہ کیا نعوذ باللہ! یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے نظام تعلیم کے نقص کی وجہ سے تھا؟ یا ان محروم القسمت کی شقاوتِ ازلی کی بدولت؟

پھر یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ دین کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اور نچلے طبقہ کے لوگ رہے ہیں، جبکہ اصحابِ ثروت الا ماشاء اللہ ! ہمیشہ اس کے مخالف رہے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

ترجمہ: ”اور جب ہم نے چاہا کہ غارت کریں کسی بستی کو، حکم بھیج دیا اس کے عیش کرنے والوں کو، پھر انھوں نے نافرمانی کی اس میں، تب ثابت ہوگئی ان پر بات، پھر اکھاڑ مارا ہم نے انکو اٹھاکر۔“ (بنی اسرائیل:۱۶)

میرے عزیز! غریبوں کا دین پڑھنا یا دین کو اپنانا اورمال داروں کااس طرف توجہ نہ کرنا ان کے اپنے اختیار اور پسند و ناپسند سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ یہ انتخاب، انتخابِ الٰہی ہے، اللہ تعالیٰ دراصل یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ میں چاہوں تو کمزوروں سے اپنے دین کا کام لے سکتا ہوں اور نہ چاہوں تو حکومت و اقتدار اور ملک ومال کے مالک اصحابِ ثروت اور خاندانی شرافت سے متصف افراد کو اس سے محروم رکھ سکتا ہوں، اگر چاہوں تو کافروں کے گھرانوں سے انبیاء پیداکردوں اورنہ چاہوں تو انبیاء کی اولاد کو اس نعمت سے محروم کرسکتا ہوں۔

غور کیا جائے تو اس میں بھی حکمت الٰہی کا یہ راز پنہاں نظرآتا ہے کہ کل کلاں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ دین اسلام اسلئے پھیلا اور پھولا کہ اسکے پیچھے مال و دولت یا ملک و اقتدار کی قوت و شوکت تھی، بلکہ بتلایاگیا کہ دین و مذہب محض اللہ تعالیٰ کی حمایت و نصرت سے پھیلاکرتا ہے اوراسکی پشت پر بظاہر کوئی نہیں ہوتا۔

لہٰذا اس انتخابِ الٰہی پر جہاں دین اور علم دین سے دور، اصحابِ ثرورت کو اپنی محرومی پر افسوس کرنا چاہئے، وہاں دین دار غریبوں کو بارگاہِ الٰہی میں سراپا تشکر و امتنان ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کے باغ کی باغبانی کے لئے منتخب فرمالیا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک اپنے اس دین کے باغ کے لئے پودے لگاتے رہیں گے، جو اس باغ کی سرسبزی و شادابی اوراس کی حفاظت وصیانت کے اعلیٰ مقصد کو پروان چڑھاتے رہیں گے، جیساکہ ابن ماجہ میں ہے:

ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ (قیامت تک) اس دین کیلئے پودے لگاتے رہیں گے اورانہیں اپنی طاعت کے کاموں میں استعمال فرماتے رہیں گے۔“ (ابن ماجہ،ص:۳)

(ج) آپ کا یہ ارشاد کہ: ”علماء کے اندر سے تحقیقی کام کا ذوق ختم ہوتا چلاگیا۔“ اگرچہ منجملہ آپ کی بات درست ہے کہ اب پہلے کا سا ذوق علماء کے اندر بھی نہیں رہا، اور جیسی محنت و جدوجہد اور خلوص و اخلاص ہونا چاہئے تھا، اب ویسا نہیں ہے، لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ اب علماء سرے سے کام ہی نہیں کررہے ، کیونکہ بحمد اللہ! اب بھی علماء حسب استعداد اور حسب ضرورت اپنی، اپنی بساط کے مطابق کام کررہے ہیں، اگر یہ علماء اپنا کام چھوڑچکے ہوتے تو پوری دنیا کا کفر اُن کا مخالف نہ ہوتا، کیونکہ لڑائی اور جنگ وہاں ہوتی ہے جہاں کسی سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیائے کفر کو مسلم علماء کی مساعی اور کاوشوں سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا شدید اندیشہ ہے، اسکی ایک مثال افغانستان پرپہلے روس اوراس کے بعدامریکا کی یلغار ہے، اسی طرح عراق، شام، لبنان وغیرہ،اسکے علاوہ پوری دنیا میں علماء کو ”دہشت گرد’ مذہبی جنونی“ وغیرہ کے القابات اسلئے دئے جاتے ہیں کہ علماء امت دنیائے کفر کی ہاں میں ہاں ملانے کو تیار نہیں۔

جہاں تک تحقیقی کام کا تعلق ہے، تو سو نقائص کے باوجود آج بھی علماء مختلف شکلوں اور مختلف عنوانات پر تحقیقی کام کررہے ہیں، چنانچہ ہندوپاک میں ایسی کئی ایک اکیڈمیاں اور ادارے وجود میں آچکے ہیں جو مسائل حاضرہ پر غور وفکر کرکے امت کی راہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، مثلاً: مولانا مجاہدالاسلام قاسمی، مولانا محمد تقی عثمانی،مولانا سید اسعد مدنی، مولانا مفتی نظام الدین شامزی، مولانا سید نصیب علی شاہ وغیرہ ایسے کئی حضرات ہیں جنھوں نے مختلف سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کرکے امت کو اس طرف متوجہ کیا اور جدید خطوط پر کام کرنے کی دعوت دی،اوراس سلسلہ کا جدید تحقیقی کام مختلف کتابوں کی شکل میں منظر عام پر آچکا ہے، جبکہ ”مجلس مسائل حاضرہ“ کے عنوان سے آپ کے کراچی میں مستقل ایک عنوان ہے، جس کے تحت علماء اہل حق باہمی مشاورت سے جدید وگھمبیر مسائل پر امت کی راہنمائی کافریضہ انجام دیتے آئے ہیں، اس کے علاوہ اگر کسی عنوان پر تحقیقی کام کی ضرورت ہے اور علماء اس سے غافل ہیں تو اس کی نشان دہی کی جائے۔

(د) آپ کے ارشاد کہ: ”علماء محدود ذہن کے ہوگئے“ کا اگر یہ معنی ہے کہ علماء ہر وقت دین ومذہب کی بات کرتے ہیں، اس کے علاوہ، وہ کوئی سوچ نہیں رکھتے، تو آپ کا ارشاد بالکل بجا ہے، کیونکہ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص جس عنوان پر محنت کرے گا، اس کے ذہن میں ہروقت اسی کے تانے بانے ہوں گے، مثلاً : جیسے وکالت پڑھنے والا ہمیشہ وکالت کے بارہ میں سوچے گا، ڈاکٹر اپنی طب اورجراحت سے متلق سوچے گا، لیکن اگراس کایہ معنی ہے کہ علماء جمود پسند ہیں اورمسائل حاضرہ یا بین الاقوامی امور پر نہیں سوچتے، تو آپ کا ارشاد حالات، واقعات اورمشاہدات کی رو سے بداہتاً غلط ہے، کیونکہ ایسے کسی عالم دین کا نام نہیں بتلایا جاسکتا جو حالاتِ حاضرہ یا امت کی حالت زار سے بے خبر ہو، یا اس کے لئے فکرمند نہ ہو، یا اس کے سدباب کے لئے عملاً متحرک نہ ہو، یہ دوسری بات ہے کہ کسی کی حرکت نظر آتی ہے اورکسی کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے۔

(ھ) جہاں تک حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب مدظلہ کے مکتوب کا تعلق ہے،اس میں انھوں نے مدارس کے طریقہ کار اور نصاب پر کوئی اشکال نہیں فرمایا، بلکہ انھوں نے اربابِ مدارس اور علماء کرام کو طلبہ کی ذہنی، فکری استعداد اور عملی قوت میں اضافہ اور نکھار پیدا کرنے کیلئے فرمایا ہے کہ طلبہ کو ان امور کی طرف توجہ دلائی جائے تاکہ ان سے افادہ اور استفادہ زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔

ان کے مکتوب کی غرض یہ ہے کہ اگر ان طلبہ کی ان خطوط پر تربیت کی جائے تو وہ دوسرے میدانوں میں جانے کی بجائے مدارس،مکاتب میں تدریس کے علاوہ اصلاحِ امت کی غرض سے تبلیغی جماعتوں کے ساتھ چلنے اور نکلنے کو اپنی ضرورت سمجھیں گے، توامت کو زیادہ نفع ہوگا۔

جبکہ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے ذی استعداد افراد، دوسرے میدانوں میں کھپ جاتے ہیں،کوئی اسکول و کالج میں چلاجاتا ہے، تو کوئی فوج وعدلیہ کا رخ کرتا ہے،کوئی تجارت کو اپنا پیشہ بنالیتا ہے، تو کوئی بیرون ملک چلاجاتا ہے، یوں ہماری محنت کاپھل اور ثمرہ دوسرے لوگ کھاتے ہیں اور ہماری محنت کا ثمرہ ہمیں کم اور دوسروں کو زیادہ ملتا ہے، گویا ان کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا خام مال اغیار کی بھٹیوں کا ایندھن نہ بنے، بلکہ ان میں کا ہر فرد مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمدگنگوہی، شیخ الہند مولانا محمودحسن، حکیم الامت مولانا محمداشرف علی تھانوی، شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانامحمد الیاس کاندھلوی، مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہم اللہ تعالیٰ کا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا جانشین بن کر مدرسہ صُفّہ کے نظام کو چلانے والا بن جائے۔

برادر عزیز! یہ بھی شیطانی حربہ اور چال ہے کہ وہ طلبہ عزیز کے دلوں میں ایسے وساوس و شبہات ڈال کر دراصل انہیں اسلاف سے بدظن کرکے ان علوم سے محروم کرنا چاہتا ہے، چونکہ شیطان براہ راست تو طلبہ کو ان علوم کی تحصیل سے نہیں روک سکتا، اس لئے وہ ان علوم کو بے مقصد، لایعنی، عبث اور فضول قرار دے کرطلبہ کو ان کی تعلیم سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جن طلبہ کے دل و دماغ میں ان علوم یا کتب کی اہمیت نہیں ہوتی، وہ ان میں محنت بھی نہیں کرتے،اور وہ مسلسل ناکام ہونے کی وجہ سے غبی اور بداستعداد ہوجاتے ہیں اور رفتہ رفتہ مدارس سے ان کا جی بھرجاتا ہے، پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ دینی مدارس سے نکل کر دنیائے دنی کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں۔

شیطان جانتا ہے کہ ایک عالم اس پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے، اس لئے وہ طلبہ کو علوم نبوت سے محروم رکھنے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے، چنانچہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نوراللہ مرقدہ ”آپ بیتی“ میں اپنے زمانہ طالب علمی کے ایک سبق آموز واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

”اس نابکار (حضرت شیخ الحدیث) کو بزرگی کا جوش ہوا اور مغرب کے بعد حضرت گنگوہی قدس سرہ کے حجرے کے سامنے لمبی نفلوں کی نیت باندھ لی، اباجان نے آکر ایک زور سے تھپڑ مارا اور یہ فرمایا کہ: ”سبق یاد نہیں کیاجاتا۔“ میرے چچا جان (حضرت مولانا محمد الیاس) رحمة اللہ علیہ اس زمانے میں بڑی لمبی نفلیں پڑھا کرتے تھے، بعد مغرب سے عشاء کی اذان کے قریب فارغ ہوا کرتے تھے، لیکن والد صاحب کے یہاں مختصر سی نوافل کے بعد تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اس وقت تو مجھے بہت غصہ آیا، کہ خود تو پڑھی نہیں جاتی، دوسرے کو بھی پڑھنے نہیں دیتے، مگر جلد ہی سمجھ میںآ گیا کہ بات صحیح تھی، وہ نفلیں بھی شیطانی حربہ علم سے روکنے کے واسطے تھا، اس لئے کہ جب نفلیں پڑھنے کا دور آیا، اب نفس بہانے ڈھونڈتا ہے۔“ (آپ بیتی، جلد اوّل،ص:۲۰)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت، علوم نبوت، فقہ وحدیث اور دین و شریعت کا سچا پیروکار اوراپنے اسلاف و اکابر کا صحیح جانشین بنائے اور نفس و شیطان کے مکرو فریب سے محفوظ فرمائے۔

وصلی اللّٰہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین

$ $ $

______________________________

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ10، جلد: 90 ‏،رمضان المبارک1427 ہجری مطابق اکتوبر2006ء