ندامت کے دو آنسو

از: مولانا تنظیم عالم قاسمی، استاذ دارالعلوم سبیل السلام، حیدرآباد

 

اللہ کا کوئی ایسا بندہ نہیں جس کے دل و دماغ دنیا کی ہمہ ہمی، چمک دمک اور رنگ رلیوں سے متاثر نہ ہوتے ہوں، نفسانی خواہشات، دنیا کی مختلف لذتیں اور پھر شیطانوں کے مختلف جہتوں سے تسلسل کے ساتھ حملے ہیں جن کے سبب ولی صفت انسان بھی غفلت کا شکار ہوکر گناہ اور قصور کربیٹھتا ہے، لیکن جب وہ ندامت، شرمندگی اور اللہ کے نزدیک جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے اور اپنے کو مجرم اور خطاوار سمجھ کر معافی اور بخشش مانگتا اور آئندہ کے لیے توبہ کرتا ہے تواس کے سارے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور وہ اللہ کی نظر میں اتنا محبوب اور پیارا انسان ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو، قرآن مجید میں توبہ و استغفار کرنے والے بندوں کے لیے صرف معافی اور بخشش ہی کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت و محبت اور اس کے پیار کی بشارت سنائی گئی ہے، ارشاد باری ہے ”انَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ ویُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ“ (بقرہ، آیت ۲۲۲) ”بے شک اللہ محبت رکھتا ہے توبہ کرنے والوں سے اور محبت رکھتا ہے پاک صاف رہنے والوں سے۔“

غلطی اور گناہ کا احساس اور پھر گریہ و زاری اللہ کو بہت پسند ہے، جب کوئی انسان جرم اور گناہ کرنے کے بعداپنے مالک حقیقی کے سامنے روتا ہے تو وہ اس سے بے انتہا خوش ہوتا ہے گویا اس نے اپنی بندگی، عاجزی اور اللہ کی عظمت کااعتراف کرلیا اور یہی وہ تصور ہے جس کے استحکام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب اور بڑی نعمتوں اور رحمتوں کا وعدہ فرمایا ہے، ایک موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے موٴمن بندہ کی توبہ سے اتنا خوش ہوتا ہے جیساکہ وہ سوار جس کی سواری کھانے، پانی کے ساتھ کسی چٹیل میدان میں کھوجائے اور وہ مایوس ہوکر ایک درخت کے نیچے سوجائے، جب آنکھ کھلے تو دیکھے کہ وہ سواری کھڑی ہے ۔ (صحیح مسلم)

ظاہر ہے کہ اگر کوئی سوار تنہا جنگل میں سفر کررہا ہو اور راستہ بھرکے لیے کھانے، پینے کا سامان بھی اس جانور پر لدا ہوا ہو اور پھر وہ سفر کے دوران کسی دن دوپہر میں کہیں سایہ دیکھ کر اترا اور آرام کی نیت سے سوگیا، جب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ اس کی سواری کا جانور اپنے سارے ساز و سامان کے ساتھ غائب ہے تواسے بہت سخت تکلیف ہوگی، اور پریشانی کی شدت سے دوچار ہوکر موت کی تمنا کرے گا لیکن جب کچھ دیر کے بعداسے سواری اوراس کے ساتھ تمام سامان مل جائے تواس کی خوشی کی انتہاء نہیں رہے گی اور وہ رقص و سرور کے عالم کیف میں غرق ہوجائے گا، اسی طرح جب جرم و گناہ کے بعد کوئی بندہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور سچے دل سے توبہ کے ذریعہ اللہ کا قرب چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس مایوس شخص سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنے خطاکار بندہ کو اپنا محبوب بنالیتا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے نزدیک کوئی چیز دو قطروں سے زیادہ محبوب نہیں، ایک آنسو کا قطرہ جو اللہ کے خوف سے نکلا ہو اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کے راستہ میں گراہوا۔ (مشکوٰة ، ص:۳۳۳)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ندامت کا آنسو شہیدوں کے خون کی مانند اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے مولانا رومی فرماتے ہیں:

قطرئہ اشکِ ندامت در سجود

ہمسری خون شہادت می نمود

(ندامت کے آنسوؤں کے وہ قطرے جو سجدہ میں گنہگاروں کی آنکھوں سے گرتے ہیں، اتنے قیمتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو شہیدوں کے خون کے برابر وزن کرتی ہے)

علامہ آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں سورہ انَّا اَنْزَلْنَا کے ذیل میں ایک روایت نقل کی ہے، جس سے گنہگاروں کی ندامت اور شرمندگی کی غیرمعمولی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ گنہگاروں کا رونا، آہ کرنا، گڑگڑانا مجھے تسبیح پڑھنے والوں کی سبحان اللہ کی آوازوں سے زیادہ محبوب ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی اللہ کے نزدیک بندوں کی ندامت اور آنسوؤں کے اس قدر اہم ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ کی عظمت و جلالتِ شان کی جو بارگاہ ہے وہاں آنسو نہیں ہیں، اس لئے وہ ہمارے آنسوؤں کی بہت قدر کرتے ہیں کیوں کہ آنسو تو گنہگاربندوں کے نکلتے ہیں، فرشتے رونا نہیں جانتے، کیوں کہ ان کے پاس ندامت نہیں ہے، ان کو قرب عبادت حاصل ہے، قرب ندامت حاصل نہیں، قرب ندامت تو ہم گنہگاروں کو حاصل ہے۔ اس لیے مولانا شاہ محمد احمد الٰہ آبادی فرماتے تھے:

کبھی طاعتوں کا سرور ہے کبھی اعتراف قصور ہے

ہے مَلک کو جسکی نہیں خبر ، وہ حضور میرا حضور ہے

شاعری کی دنیامیں غالب کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مجرم اور گنہگاروں کے بارے میں ان کا ایک مشہور شعر ہے:

کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالب

شر م  تم   کو   مگر  نہیں  آ  تی

مولانا شاہ محمد احمد الٰہ آبادی فرماتے تھے کہ غالب نے امت کو مایوس کردیا، کیوں کہ جو گنہگار بندے ہیں وہ بقول غالب اس لائق نہیں کہ کعبہ جائیں اوراللہ کے گھر کی زیارت کریں، ایسی مقدس جگہ جاتے ہوئے خطا کاروں اور عاصیوں کو شرم آنی چاہیے کہ ہم گناہوں میں ملوث ہیں کس منہ سے کعبہ جائیں، مولانا فرماتے تھے کہ یہ شعر قرآن و حدیث کے اعتبار سے اصلاح کے قابل ہے اور میں نے اس شعر کی اس طرح اصلاح کی ہے۔

میں اسی منہ سے جاؤں گا

شرم کو خاک میں ملاؤں گا

ان کو رو رو کے میں مناؤں گا

اپنی بگڑی کو یوں بناؤں گا

(حقوق النساء، ازمولانا اختر پاکستانی، ص: ۲۰)

یعنی گناہ اور قصور تو انسان کی صفت ہے، کیااس کی وجہ سے اللہ کا دربار چھوڑ دیاجائے اور اللہ کا دربار چھوڑ کر جائے پناہ بھی کہاں ہے جس کا سہارا لیا جائے، اس لیے تمام گنہگار اللہ سے توبہ کریں اور ندامت کے آنسو بہاکر اللہ سے معافی مانگیں وہ یقینا معاف کرے گا اور خطاؤں کو بخش دے گا۔

گناہ پر اصرار یعنی بے فکری اور بے خوفی کے ساتھ گناہ کرتے رہنا اوراس پر قائم و دائم رہنا بڑی بدبختی اور بہت برے انجام کی نشانی ہے اور ایسا عادی مجرم اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں، اس لیے احادیث میں گناہ پر ندامت اور توبہ کی تاکید کی گئی ہے۔ اگرچہ بظاہر گناہ کا کوئی عمل معلوم نہ ہو پھر بھی توبہ کی عادت بنالینی چاہیے، اس لیے کہ توبہ عاصیوں اور گنہگاروں کے لیے مغفرت و رحمت کا ذریعہ اورمقربین و معصومین کے لیے درجات قرب و محبوبیت میں بے انتہا ترقی کا وسیلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک دن میں ستر مرتبہ اور ایک روایت کے مطابق سو مرتبہ توبہ و استغفار فرماتے تھے۔ اس میں صالحین اور نیکوکاروں کے لیے بڑی نصیحت اور عبرت مضمر ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی گناہ ہوگیاہو اور یاد نہ ہو تو توبہ کے ذریعہ وہ معاف ہوجائے گا اور اگر واقعتا کوئی گناہ نہیں ہوا ہے تو ترقی کا ذریعہ ثابت ہوگا جس کا ہر شخص محتاج ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر مرتبہ توبہ و استغفار کے عمل سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اگرکسی گناہ پر ایک مرتبہ توبہ کرنے کے بعد پھر سے وہی گناہ ہوجائے تو پھر سے توبہ کرلی جائے، اس میں شرم کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایک گناہ کا بارہا ارتکاب ہورہا ہے بلکہ متعدد مرتبہ غلطیوں سے استغفار سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور اس توبہ واستغفار کے نتیجہ میں گناہ کو ترک کرنے کا داعیہ پیدا کردیا جاتا ہے۔ اس بارے میں خواجہ عزیز الحسن مجذوب کا جذب میں ڈوبا ہوا کلام سنئے:

جو  نا کا م  ہو تا  ر ہے  عمر بھر بھی

بہرحال کوشش تو عاشق نہ چھوڑے

یہ  ر شتہ  محبت  کا  قا ئم  ہی  ر کھے

جو  سو با ر  ٹو ٹے  تو  سو با ر جوڑے

یعنی کوشش رہے کہ ایک مرتبہ توبہ کے بعد توبہ نہ ٹوٹے، لیکن اگر بسیار کوشش کے باوجود توبہ ٹوٹ ہی گئی اور وہی گناہ دوبارہ سرزد ہوگیا تو مایوس نہ ہو، پھر توبہ کرکے خدا سے اپنا تعلق جوڑ لواور ایک دن میں بار بار یہ واقعہ پیش آئے تو ہر بار اللہ کے حضور توبہ کرکے گناہوں سے نجات حاصل کرلو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور شان کریمی کی بات ہے کہ ایک گنہگار اورمجرم کے لیے پوری زندگی اللہ کی طرف رجوع کرنے کا موقع فراہم کیاگیا کہ جب بھی اللہ کا خوف پیدا ہو توبہ کرکے اللہ کے نزدیک بندوں میں شمولیت اختیار کی جاسکتی ہے گویا گناہوں سے توبہ کا یہ سلسلہ موت تک قابل قبول ہے، لیکن کیا معلوم زندگی کا چراغ کب بجھ جائے، اس لیے گنہگاروں اور خطا کاروں کو توبہ کرنے میں دیر نہ کرنی چاہئے، پاکستان کے مفتی اعظم مولانا محمد شفیع یہ اشعار اکثر پڑھا کرتے تھے:

ظا لم  ابھی  ہے فرصتِ توبہ نہ دیر کر

وہ بھی گرا نہیں جو گرا پھر سنبھل گیا

البتہ یہاں یہ واضح کردینا مناسب ہے کہ وہ ندامت اور شرمندگی جس سے گناہ معاف ہوتا ہے، سچے دل سے ہونی چاہئے جس کو قرآن مجید میں ”توبہٴ نصوح“ سے تعبیر کیاگیاہے، اس کی تفسیر کرتے ہوئے امام نووی لکھتے ہیں کہ

اگر گناہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے، کسی آدمی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے تو توبہ کی تین شرطیں ہیں: اول یہ کہ گناہ سے باز آئے، دوسرے یہ کہ سچے دل سے اپنے فعل پرنادم ہو، تیسرے یہ کہ وہ عزم کرے کہ گناہ کی طرف کبھی نہ پلٹیں گے اور اگر گناہ آدمی سے متعلق ہے تو اس کی چار شرطیں ہیں: تین تو وہی جو اوپر بیان کی گئیں اور چوتھی یہ ہے کہ جس کا جرم کیا ہواس سے معاف کروائے، اگر مال لیا ہو تو اس کو واپس کردے، اگر تہمت وغیرہ کی کوئی سزا اس پرواجب ہوتی ہے تواس کو موقع دے یا معاف کرائے یا غیبت کی ہے، تو اس سے معاملہ صاف کرلے، اگران شرائط میں سے کوئی فوت ہوگئی تو توبہ صحیح نہیں ہے۔ (ریاض الصالحین، ص:۱۱)

$ $ $

______________________________

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ9، جلد: 89 ‏،    رجب‏، شعبان  1426ہجری مطابق ستمبر 2005ء