نظمِ قرآنی: اسرار و رموز، معانی وحکمتیں

از:   مولانامحمد عارف جمیل مبارک پوری، استاذ دارالعلوم، دیوبند

 

           قرآن کریم ایک زندہ جاویدکتاب ِ الٰہی ہے۔وہ ایک ایسی کتاب ہے ،جس کے عجائب وغرائب ختم ہونے والے نہیں،یہ ایک معجزہ ہے ۔ اس کتابِ الٰہی کا ہر پہلو معجزاتی ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت کے وقت جگہ جگہ آدمی یہ محسوس کرتاہے کہ ایک ہی واقعہ کو مختلف جگہوں پر مختلف الفاظ میں بیان کیا گیاہے۔مختلف مقامات پر ایک ہی مادے کے الگ الگ صیغے اورشکلیں ذکر کی گئی ہیں مثلاً (تنزل ) اور ( تتنزل ) ۔ کہیں مفرد لفظ آیا ہے تو کہیں جمع مثلاً(معدودة)،(معدودات)، (سماء )، (سماوات ) ،کہیں ایک صیغہ کسی باب سے استعمال کیا گیا ہے ،تو دوسری جگہ اسی مادہ کو دوسرے باب سے ذکر کیاگیاہے۔ایک ہی نوع کے واقعہ میں کسی لفظ کو ایک جگہ سیاق میں مقدم رکھا گیا ہے ، تو دوسری جگہ اس کو موخرکیا گیا ہے، مثلاًسورتِ بقرہ میں (والنصاری والصابئین) آیاہے ، لیکن سورتِ حج میں (والصابوٴن والنصاری)میں ” النصاری“ کو موخرکیا گیا ، اسی طرح” لہو“کا لفظ کسی آیت میں ”لعب“پر مقدم ہے،تو کسی آیت میں موخر،لفظ”سمع“کسی آیت میں ”بصر“پر مقدم ہے،تو کسی آیت میں موخر ہے،ایک ہی لفظ کو کہیں معرفہ استعمال کیاگیاہے،تو کہیں نکرہ ،مثلاً سورت ِبقرہ میں (بلداً آمناً)اورسورت ابراہیم (ہذا البلد)معرفہ آیاہے۔

           اس طرح کے موقع پرآدمی یہ سوچتاہے کہ ایساکیوں ہوا؟ یہ محض تفننِ کلام اوراندازِ بیان ہے یا اس میں کوئی حکمت پنہاں ہے ؟واقعہ یہ ہے کہ کلامِ الٰہی کا ایک ایک حرف اورلفظ ،اس میں تقدیم وتاخیر، اورالفاظ کی مختلف شکلوں میں بڑے رموزو اسراراورمعانی وحکمتیں موجود ہیں ۔ ہمارے مفسرین اورعلوم ِ قرآن پر لکھنے والوں نے اس موضوع پر اپنے قلم کو دوڑایاہے۔یہ اسرارو حکم ،یہ لولوومرجان ہمارے تفسیر ی ذخیرے میں بھرے پڑے ہیں ،ان کوجمع کرنے اور ایک لڑی میں پرونے کی ضرورت ہے۔ زیرنظر مضمون میں مختلف کتابوں کے حوالے سے انہی کو تلاش اورجمع کرنے کی حقیر کوشش کی گئی ہے۔

 ۱۔ (ریح )(ریاح)

          ریح کے لغوی معنی ”ہوا“ہے ۔ یہ لفظ قرآن کریم میں کہیں مفرد اورکہیں جمع استعمال ہواہے۔اس طرح کی آیات پر غائرانہ نظرڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ رحم وکرم کے پس منظرمیں جمع کالفظ استعمال کیا گیا ہے ،مثلاً یہ آیاتِ کریمہ :

          وَھُو الَّذِی یُرْسِلِ الرِّیَاحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہ (اعراف/۵۷)

          ”اوروہی ہے جو بارش سے پہلے خوش خبر ی لانے والی ہوائیں چلاتاہے“۔

          وَأَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ (حجر/۲۲)

          ”اورہم نے اوس بھری ہوائیں چلائیں“۔

          وَمِنْ آیاتِہ أَنْ یُرْسِلَ الرِّیاحَ مُبَشِّرَاتٍ (روم /۴۶)

          ”اوراس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ خوش خبری لانے والی ہوائیں چلاتاہے“۔

لیکن عذاب کے سیاق وپس منظرمیں مفرد لفظ (ریح )استعمال ہواہے ‘ مثلاًیہ آیات کریمہ :

          (۱)     فَأَرْسَلْنَا عَلَیْھِم رِیحاً صَرْصَراً(حم سجدہ/۱۶)

          ”پھر ہم نے ان پر بڑے زور کی ہوا بھیجی “۔

          (۲)     وَأَمَّا عَادٌ فَأُھْلِکُوا بِرِیحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَة (حاقہ/۶)

          ”اوروہ جوعاد تھے،سو ایسی ٹھنڈی سناٹے کی ہواسے بربادہوئے ،جو ہاتھوں سے نکل جائے“۔

          (۳)     وَفِیْ عَادٍ اذْ أَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الرِّیحَ العَقِیْمَ (ذاریات/۴۱)

          ”اورعادمیں نشانی ہے،جب ہم نے ان پر خیرسے خالی ہوا بھیجی“۔

          فرمانِ نبوی ہے :

          اللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا رِیَاحاً وَلاَ تَجْعَلْھَا رِیْحاً (معجم کبیر ازطبرانی (11558)

          ”خدایا!اس کو (رحمت )کی ہوا بنا ،(عذاب)کی ہوا نہ بنا“۔

           اصفہانی ”غریب القرآن “(۱/۲۰۶)میں یہ ضابطہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

          ”قرآن کریم میں جہاں جہاں مفرد لفظ (ریح)آیاہے،اس سے مراد عذاب ہے، ،اورجہاں جمع (ریاح )آیاہے،اس سے مراد رحمت ہے ۔اول الذکر کی مثال:(انَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحاً صَرْصَرًا)،(فَأَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحاً)،(کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْھَا صِرٌ)اور(اِشْتَدَّتْ بِہ الرِّیْحَ ) ہے ۔ موخر الذکر کی مثال: (وَأرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ)،(أَنْ یُرسِلَ الرِّیَاحَ مُفَشِّراتٍ) اور(یُرْسِلَ الرِّیَاحَ بُشْرًا)ہیں۔اور (یُرْسِلَ الرِّیَاحَ فَتُشِیْرُ سَحَاباً)میں رحمت کے معنی میں ہونا اظہر ہے، اس میں ایک قراء ت جمع کے لفظ کے ساتھ ہے، اوریہی اصح ہے“۔

           ابن ابوحاتم وغیرہ حضرت ابی بن کعب کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

          ”قرآن میں جہاں(ریاح)آیاہے،اس سے مراد عذاب اورجہاں (ریح)آیاہے،اس سے مرادرحمت ہے“۔

          اس کی حکمت وعلت یہ ہے کہ رحمت کی ہوائیں مختلف جانب سے مختلف فوائدوصفات لے کر اٹھتی ہیں۔ ایک طرف سے جب کوئی ہوااٹھتی ہے ،تو اس کے بالمقابل دوسری طرف بھی ہوا اٹھتی ہے۔ ان ہواؤں کے باہمی اختلاط کے نتیجہ میں ایک خوش گوار نفع بخش ہوا کا وجود ہوتاہے،جس میں انسان وحیوان ہر ایک کے لیے فائدہ ہوتاہے۔اس کے برعکس عذاب کی ہوا ایک طرف سے اٹھتی ہے اور اپنے مقابلہ میں کوئی اورہوا نہیں پاتی ،اسی لیے بعض آیات میں اس کو ”عقیم“کہا گیا ہے۔ (الاتقان ۱/۱۶۷، بحر العلوم ازسمرقندی ۱/۱۳۹)

          ثعالبی اس ضابطہ کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی تفسیر میں رقم طراز ہیں:

          ”ریاح ،ریح کی جمع ہے۔ قرآن کریم میں رحمت کے موقع پر یہ لفظ جمع اورعذاب کے موقع پر مفرد آیا ہے؛ البتہ سورتِ یونس آیت (۲۲):﴿وَجَرَیْنَ بِھِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ﴾اس سے مستثنیٰ ہے۔ عام طورپرقرآن کریم میں یہی انداز ملتاہے۔ حدیث پا ک میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

          اللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا رِیَاحاً وَلاَ تَجْعَلْھَا رِیْحاً (معجم کبیر ازطبرانی (11558)

          ”خدایا!اس کو (رحمت )کی ہوا بنا ،(عذاب)کی ہوا نہ بنا“۔

           اس کی وجہ یہ ہے کہ عذاب کی ہوا سخت ہوتی ہے،جسم واحد کی طرح اس کے اجزاء ملے اورجڑے ہوئے ہوتے ہیں۔اس کے برعکس رحمت کی ہوا میں نرمی ہوتی ہے، مختلف جگہوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہوکر آتی ہے؛ اسی لیے اس کو ریاح(ہواوٴں )سے تعبیر کرتے ہیں ۔ یہاں کشتی کے ساتھ مفرد لفظ (ریح)استعمال ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کشتی چلنے کے لیے یک طرفہ ہواضروری ہے ،نیز (طیبة)کی صفت لانے سے یہ وہم ختم ہوجاتاہے کہ یہ لفظ رحمت اورعذاب کی ہوا میں مشترک ہے“۔(تفسیر ثعالبی تفسیر سورتِ بقرہ/۱۶۴)

          پھر موصوف سورتِ اعراف آیت (۵۷)کی تفسیرمیں رقم طرا ز ہیں:

          ”قرآن کریم میں جہاں ”ریاح“جمع کے ساتھ ،رحمت کے سیاق میں آیا ہے، مثلاً : ﴿مِنْ آیَاتِہ أَنْ یُرْسِلَ الرِّیَاحَ﴾،اور ”ریح“مفرد کے ساتھ عذاب کے سیاق میں آیاہے، مثلاً:﴿وَفِیْ عَادٍ اذْ أَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الرِّیْحَ العَقِیْمَ﴾(ذاریات/۴۱)، اس کی تشریح سورتِ بقرہ میں آچکی ہے۔

          اس آیت (سورتِ اعراف /۵۷)میں افراد﴿ریح ﴾کی قراء ت کو سامنے رکھا جائے ،تو اس سے مراد: اسم ِ جنس ہے،پھر ﴿بُشْراً﴾ کی قید سے اشتراک کے وہم کا ازالہ ہوجاتاہے۔ (ثعالبی تفسیر سورتِ اعراف/۵۷)

          ماورد ی رحمت وعذاب کے مابین استعمال میں اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

          ”رحمت کی ہوائیں : جنوبی ، شمالی ، اورپوروائی ہوتی ہیں،ان سے درخت بار دار ہوتے ہیں، یہ ایک سے زائد ہیں؛اس لیے ان کو جمع کے لفظ سے تعبیر کیاگیا ،جب کہ عذاب کی ہوا پچھوائی ہوتی ہے،اس میں درختوں کو باردار کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی؛اس لیے اس کو مفرد کے لفظ سے تعبیر کیاگیا“۔(النکت والعیون از:ماوردی۳/۲۰۴)

          یہ اصول قرآن کریم میں کلی نہیں ؛بلکہ عمومی اوراغلبی ہے، چند آیات اس سے مستثنی ہیں ،مثلاً

          (أ)        فرمان باری : حَتّٰی اذا کُنْتُمْ فِی الفُلْکِ وَجَرَیْنَ بِھِمْ بِرِیْحٍ طیبةٍ، وَفَرِحُوا بِھَا، جَاءَ تْحَا رِیْحٌ عَاصِفٌ (یونس/۲۲)

          ”یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھے اوروہ تم کواچھی ہواسے لے چلیں ،اوراس سے خوش ہوئے،تو کشتیوں پر تند ہو ا آئی“۔

          یہاں رحمت کی ہوا کے لیے مفرد لفظ (ریح )استعمال کیا گیا ہے،ا س کی دووجوہات ہیں:

          ۱۔       لفظی طورپر یہ (ریح عاصف )کے مقابلہ میں وراد ہے،اس کی رعایت میں مفرد استعمال ہوا ہے۔

          ۲۔       معنوی وجہ یہ ہے کہ رحمتِ الٰہی کی تکمیل ہوا میں اتحاد کی شکل میں ہوسکتی ہے۔ کیوں کہ یک طرفہ ہوا سے ہی کشتی چلے گی،اوراگر مختلف جہات سے ہوائیں آجائیں تو کشتی ٹکراکر غرق اورہلاک ہوجائے گی؛یہاں ہوا کا متحد ہو نا ضروری اورمطلوب ہے ۔ (ریح) کے لفظ سے یہ وہم ہوسکتاتھا کہ یہ آندھی ہے ،اس کے ازالہ کے لیے اس ہوا کو(طیبة)کہاگیا ہے۔

          (من أسرار النظم القرآنی، از:ڈاکٹر محمد عبد اللہ سعادت ص۶۔۷، البرہان فی علوم القرآن ۴/۱۱،تفسیر القطان ۲/۵۳)

          (ب)     فرمان ِباری:انْ یَشَأ یَسْکُنِ الرِّیحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاکِدَ عَلٰی ظَھْرِہ(شوری/۳۳)

          ”اگر چاہے،تو ہوا کو تھام دے،تو سارے دن اس کی پیٹھ پر ٹھہری ہوئی رہیں“۔

          یہ آیتِ کریمہ بھی عام ضابطہ سے مستثنیٰ ہے؛لیکن ابن منیر کہتے ہیں کہ یہ ضابطہ کے مطابق ہے،یہاں عذاب مرادہے؛اس لیے کہ ہوا کا رکنا عذاب اور کشتی والوں کے لیے باعثِ مشقت ہے۔ (الاتقان ۱/۲۲۲)

           ابن عطیہ سورتِ فرقان آیت /۴۸﴿ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ الرِّیَاحَ بُشْرًا﴾کی تفسیرمیں رقم طرازہیں :

          ”جمع کی قراء ت (یعنی ریاح) زیادہ معقول ہے؛ اس لیے کہ عرف کے اعتبار سے قرآن کریم میں لفظ ”ریح“مفرد عذاب کے سیاق میں اوربارش ورحمت کے سیاق میں جمع (ریاح)استعمال ہواہے ۔ اس تفریق کی وجہ یہ ہے کہ بارش کی ہوا متفرق طورپر مختلف مقامات سے ٹھہرٹھہر کر آتی ہے،جب کہ عذاب کی ہوا یک بارگی آتی ہے، متفرق طورپر نہیں آتی ؛ چناں چہ وہ اپنے سامنے آنے والی ہر چیز کو توڑکر رکھ دیتی ہے۔رمانی کہتے ہیں:رحمت کی ہواکو ریاح کے لفظ سے اس لیے تعبیرکیا گیاکہ یہ تین ہوائیں (جنوبی، پروائی ، اور شمالی )ہیں،ان سے درخت باردار ہوتے ہیں، اورعذاب کی ہوا کے لیے مفردلفظ ”ریح “اس لیے استعمال ہوا کہ یہ ایک ہی ہوا (پچھوائی )ہے، اس سے درخت باردار نہیں ہوتے ۔ (ابن عطیہ تفسیرسورتِ فرقان آیت /۴۸)

          شاید ابن عاشور مفردوجمع کے استعمال میں اس تفریق سے مطمئن نہیں ،وہ سورتِ بقرہ آیت /۱۶۴کی تفسیر میں رقم طرازہیں :

          ”کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جمع کا لفظ (ریاح)خیر کی ہوا میں اور مفرد لفظ (ریح)مصیبت کی ہواکے لیے بہ کثرت استعمال ہوتا ہے۔ان استدلال اس حدیث سے ہے،جس میں فرمانِ نبوی ہے:(اللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا رِیَاحاً لاَ رِیْحاً)۔ یہ تفریق فی الغالب ہے، ورنہ مفرد لفظ بھی جمع کے موقع پر استعمال ہواہے،یہاں پر دوسری قراء ت (الریح) بھی ہے۔ مستدل حدیث صحت کے درجہ کی نہیں۔ اوراگر یہ تفریق تسلیم کرلی جائے ،تو اس کی بہترین توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ نفع بخش ہوا ہلکی ہوتی ہے،اس کی موجیں رک رک کر آتی ہیں،جس سے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچتا، اورچوں کہ یہ ٹھہر ٹھہر کر اٹھتی ہیں؛ اس لیے ان کوجمع کے لفظ سے تعبیر کیاگیا ،گویایہ کئی ایک ہوائیں ہیں۔اس کے برعکس عذاب کی ہوا اورآندھی یک بارگی آتی ہے،اس میں لوگوں کو کوئی موقع نہیں ملتا؛لہٰذا یہ ایک ہوا کے درجہ میں ہوئی؛ اس لیے اس کو مفرد کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ۔قرطبی نے یہی لکھا ہے۔ (ابن عاشور تفسیر سورتِ بقرہ/۱۶۴)۔

          لیکن ابن عاشور سورتِ روم آیت /۴۸کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:

          ”ریاح کا لفظ جمع لایا گیا ہے؛اس لیے کہ عام استعمال میں جمع کا لفظ ا ن ہواؤں کے لیے ہوتاہے،جو بارش کی بشارت دیتی ہوں؛ کیوں کہ بادلوں کو ہانکنے والی ہوائیں، مختلف سمتوں سے اٹھتی ہیں،یہ جنوبی،شمالی ، پوروائی اورپچھوائی ہوائیں ہیں۔اس کے برعکس مفرد لفظ (ریح)کا عام استعمال سخت اورطاقت ورہواکے لیے ہوتاہے؛کیوں کہ یہ یک بارگی ایک طرف سے آجاتی ہے، اورتیز ہوتی رہتی ہے۔ روایت میں ہے کہ جب ہواچلتی تو رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے: (اللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا رِیَاحاً لاَ رِیْحاً)۔سورتِ بقرہ میں اس پر بحث آچکی ہے۔ (ابن عاشورتفسیر سورتِ روم /۴۸)

          اس تفریق پر اشکال:

          مفردوجمع کے استعمال میں اس تفریق پر بعض لوگوں نے یہ اشکال کیا ہے کہ قرآن کریم میں بارہ مقامات پر (ریح یا ریاح)کی مختلف قرا ء تیں ہیں، اس کے ہوتے ہوئے یہ تفریق مشکل ہے؟

          لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ قراء توں کے اس اختلاف سے اصل ضابطہ متاثر نہیں ہوتا؛کیوں کہ رحمت کے سیاق میں جن قراء کے یہاں جمع کی قراء ت (ریاح)ہے،وہ اصل ضابطہ کے موافق ہے؛ البتہ رحمت کے سیاق میں جن قراء کے یہاں مفردکی قراء ت ( ریح) ہے،تو ا س کی توجیہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک ا س سے جنس مرادہے۔ عذاب کے سیاق میں جمع (ریاح)کہیں استعمال نہیں ہوا، اور جہاں کہیں رحمت کے سیاق میں مفرد لفظ (ریح)آیاہے،تو اس کی صفت بیان کر دی گئی ہے،جس سے التباس ختم ہوجاتاہے،مثلاً سورتِ یونس میں ﴿بریح طیبة﴾ آیاہے۔ اوراگراس کی صفت مذکور نہیں ،تو اس سے مراد عذا ب کی ہواہے،جیساکہ حدیث پاک میں گزرا ۔

مزید براں یہ کہ بسااوقات قرآن کریم میں کسی لفظ کی کوئی خصوصیت ہوتی ہے، جو اس کے لیے علامت قراردی جاتی ہے، مثلاً : قرآن کریم میں جہاں کہیں (یدریک )آیاہے،وہ مبہم ہے،واضح نہیں،جیساکہ سورتِ شوری میں ہے:﴿یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْب﴾ ( شوری /۱۷)۔ اورجہاں کہیں لفظ (أَدْرَاکَ)آیاہے،وہ مفسر ہے ،مثلاً: ﴿وَمَا أَدْرَاکَ مَاھِیَہْ، نَارٌ حَامة (قارعة / ۱۰۔۱۱) ۔ ( دیکھیے:تفسیر النیسابوری۱/۳۹۱، تفسیر اللباب از ابن عادل ۲/۲۴۴ )

          خطیب شربینی اس تفریق کی تشریح کرتے ہوئے رقم طرازہیں:

          ”نفع بخش ہوا کو ”ریاح“اورمضر ہوا کو ”ریح“کہنے کی کئی وجوہات ہیں:

          ۱۔       نفع بخش ہوا مختلف انواع واقسام واجزاء والی ہوتی ہے؛ اس لیے اس کو جمع کے لفظ سے تعبیر کیاگیا۔ نفع بخش ہواوٴں کے جھونکے شب وروز آتے رہتے ہیں،جب کہ مضر ہواسالوں نہیں بلکہ صدیوں میں کبھی اٹھتی ہے۔

          ۲۔       نفع بخش ہوا ایک نہیں ؛بلکہ متعد د ہوتی ہے، جب کہ مضر ہوا جیسے بادِ سموم ،یک بارگی آتی ہے۔

          ۳۔      حدیث میں آیاہے کہ ہوا چلی تو رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: اللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا رِیَاحاً ولاَتَجْعَلھا رِیْحاً۔اس میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے: ،﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الرِّیحَ العَقِیْمَ﴾(ذاریات/۴۱)(دیکھیے: السراج المنیرتفسیرسورتِ روم ج۱ص۳۲۲۸)

صاحبِ المناراس کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

          ”قرآنی آیات کے تتبع سے معلوم ہوتاہے کہ جمع کا استعمال ،اللہ تعالی کی آیات اوراس کی رحمت خصوصاً بارش کے سیاق میں آیاہے، جب کہ مفرد(ریح)کا استعمال چند آیات میں قومِ عادکے عذاب کے تعلق سے وارد ہے،نیز عذاب کی مثال بیان کرتے ہوئے بھی مفردلفظ استعمال ہواہے،مثلاً:

          مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیَاةِ الدُّنیا کَمَعَلِ رِیْحٍ فِیْھَا صِرٌ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أنفُسَھم فَأَھْلَکَتْہُ (آل عمران/۱۱۷)

          ”اس دنیاکی زندگی میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں،اس کی مثال جیسے کہ ایک ہوا،اس میں پالا ہو“۔

          فرمانِ باری ہے:

          مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أعْمَالُھُم کَرِمادِن اشْتَدَّتْ بِہ الرِّیْحُ فِی یومٍ عَاصِفٍ، لاَ یَقْدِرُوْنَ عَلَی شَیءٍ (ابراھیم/۱۸)

          ”ان لوگوں کا حال ،جو اپنے رب کے منکر ہیں ‘ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے کہ وہ راکھ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے“ ۔

          فرمانِ باری: أَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیحُ فِی مَکَانٍ سَحِیقٍ (حج/۳۱)

          ”یا ہوا نے اس کو کسی دور مکان میں جا ڈالا“۔

          البتہ تقابل کے وقت عذاب ورحمت دونوں معانی میں استعمال ہے، مثلاً فرمانِ باری ہے:

          ھُوَ الَّذِیْ یَسِیْرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حتی اذا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَجَرَیْنَ بِھِمْ بِرِیْحٍ طیبة، جَاءَ تْھَا رِیحٌ عَاصِفٌ (۱۰/۲۲)

          ”وہی وہ ہے،جو تم خشکی اورسمندر میں چلا تاہے،یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھے اوروہ تم کواچھی ہواسے لے چلیں تو کشتیوں پر تند ہو ا آئی“۔

          سورتِ انبیاء، سبا اورص میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواکو ما تحت کیے جانے کے تعلق سے احسانِ الٰہی کے سیاق میں بھی مفرد (ریح )آیاہے۔

 

$       $       $

------------------------------------

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 8-9 ، جلد: 95 ‏، رمضان — شوال 1432 ہجری مطابق اگست — ستمبر 2011ء