عورت ثرىٰ سے ثرىا تك

 

از: مولوى ناىاب سىتامڑھى شىخ الہند اكىڈمى، دارالعلوم دىوبند

 

          اسلام كے بابركت ظہور سے قبل حىات انسانى مىں حد درجہ كجى، انحراف اور بے راہ روى كے  ساتھ ساتھ اىك زبردست المىہ ىہ بھى تھا كہ وہ عورتوں كے حوالے سے عجىب وغرىب اور انسانىت سے بعىد تصورات ركھتے تھے، ان كے ساتھ زندگى بھى گذارتے، انھىں حصولِ اولاد كاذرىعہ بھى بناتے؛ بلكہ ان سے ہر ممكن خواہشات كى تكمىل كرتے، مگر ان كا مرتبہ ان كى نگاہوں مىں بس اتنا سا تھا كہ وہ عام حالات مىں شہوانى تسكىن كا ذرىعہ ىا بىوى ہونے كى صورت مىں حصول اولاد كى مشىن تھى؛ بلكہ اس سے بھى بڑھ كر عورت كو انتہائى غىرعادلانہ روىہ اختىار كرتے ہوئے ہرنوع كى سماجى اور شخصى برائى كا سرچشمہ، گوناگوں سىئات كا پىش خىمہ اور زندگى مىں پىش آنے والى تمام تر آفات وبلىات كا واحد سبب بھى خىال كىاجاتاتھا۔

          پھر ىہ رجحانات عورت كے تئىں صرف غىرمہذب اور تمدن نا آشنا قوموں ہى كے نہىں تھے؛ بلكہ بڑى بڑى تہذىب ىافتہ اور تارىخ مىں اپنى تہذىب، اپنے تمدن، اپنى ترقى اور اپنے عروج كى دھاك بٹھانے والى قومىں بھى ان پست ترىن اورحددرجہ زبوںخىالات سے مستثنىٰ نہ تھىں۔

          تفصىل كا ىہاں موقع نہىں، ہم ان تہذىبوں مىں سے چند اىك كى روداد بہ اجمال بىان كرنے پر اكتفاء كرىں گے، تاكہ حق پرستوں كے ىقىن مىں اضافہ ہو اور سچائى سے سرگردانى كے شكاروں كى آنكھوں سے تذبذب وتردد كى دبىز پٹى ہٹ جائے۔ (ان شاء اللہ)

 

عورت تہذىبِ ىونان مىں

 

          قدىم اقوام مىں سب سے زىادہ روشن اور شاندار تہذىب كے حاملىن اہل ىونان مانے جاتے ہىں، مگر اس قوم كے ابتدائى دور مىں صورت حال ىہ تھى كہ اخلاقى نظرىہ، قانونى حقوق اور معاشرتى برتاؤ ہراعتبار سے عورت كى حىثىت انتہائى گرى ہوئى تھى، ىونانى خرافىات  (Mythology) مىں اىك فرضى عورت پانڈورا (Pandora) كو اسى طرح تمام مصائب وآفات كا موجب قرار دىاگىا تھا، جس طرح ىہودى خرافىات مىں حضرت حوا كو، حضرت حواؑ كے تئىں اس غلط افسانے كى شہرت نے جس طرح ىہودى ومسىحى اقوام كے قانونى معاشرتى اور اخلاقى روىوں پر زبردست اثر ڈالا ہے وہ كسى صاحبِ بصىرت اور اہلِ نظر سے پوشىدہ نہىں، قرىب قرىب اىسا ہى اثر پانڈورا كے حوالے سے اس ىونانى توہم كا اہل ىونان پر پڑا۔ ان كى نگاہ مىں عورت اىك ادنىٰ درجہ كى مخلوق تھى اور معاشرت كے ہر پہلو مىں اس كا مرتبہ گرا ہوا تھا، عزت وشرافت كے تمام حقوق صرف اور صرف مردوں كے ساتھ مخصوص تھے، عورتىں ان سے ىكسر محروم تھىں۔

          تمدنى ارتقاء كے ابتدائى مراحل مىں خواتىن كے تئىں ىہ طرزِ عمل تھوڑى سى ترمىم كےساتھ برقرار رہا اور علم كى روشنى كا صرف اتنااثر ہوا كہ عورت كى قانونى حىثىت تو ماقبل ہى كى طرح رہى، البتہ معاشرتى پہلو مىں كچھ تغىرات رونما ہوئے،اسے گھر كى ملكہ بنادىاگىا، عصمت وعفت كے آبگىنے كى حفاظت كى جانے لگى اور شرىف ىونانىوں كے ہاں پردے كا چلن عام ہوگىا۔

          مگر رفتہ رفتہ اس بے چارى كو پہلے سے بھى زىادہ المناك واندوہناك مقام تك پہنچادىا گىا اور اىك زمانہ وہ آىا جب اسے صرف وہوسناكى اورشہوت رانى كا ذرىعہ بناكر ركھ دىاگىا اور مآل كار ىہى چىز تہذىب ِ ىونان كى تارىخ كے پردے سے نابود ہوجانے كا سبب بنى۔

 

عورت تہذىب ِ روم مىں

 

          ىونانىوں كے بعد جس قوم كو تہذىب وتمدن مىں بامِ عروج نصىب ہوا، وہ اہل روم تھے، مگر ىہاں بھى اتار چڑھاؤ كا وہى افسوسناك پہلو ہمارے سامنے نظر آتا ہے، جو ىونانىوں كے دائمى زوال كا سبب بنا۔

          رومى لوگ جب وحشت كى تارىكى سے نكل كر تارىخ كے روشن منظر پر نمودار ہوئے، تو ان كے نظامِ معاشرت كا نقشہ كچھ ىوں تھا كہ مرد اپنے خاندان كا سردار ہے، اس كو اپنى بىوى پر حقوقِ مالكانہ حاصل ہىں؛ بلكہ بعض حالات مىں وہ اپنى رفىقۂ حىات اور زندگى كے ہر نشىب وفراز مىں اس كى غم خوارى وغم گسارى كرنے والى بىوى كو قتل تك كردىنے كا مكمل اختىار ركھتا ہے، پھر جب وحشت كم ہوئى اور تہذىب مىں رومىوں كا قدم آگے بڑھا، تو اگرچہ قدىم خاندانى نظام برقرار رہا، مگر سابقہ سخت گىرىوں مىں كچھ توازن پىدا ہوا اور اعتدال قائم كرنے كى كوشش كى گئى؛ بلكہ اىك زمانے تك رومىوں كے نظامِ حىات مىں عورتوں كے بارے مىں معتدل اور متوازن رجحانات پائے جاتے رہے؛ چنانچہ عورت كو قابلِ قدر سمجھا جانے لگا، اس كى عزت وعصمت كى حفاظت كى جانے لگى، عورت ومرد كے تعلق كى شكل صرف نكاح كو قرار دىاگىا، اىك عورت كو اسى وقت عزت كى نگاہ سے دىكھا جاتا جب وہ كسى خاندان كى ماں ہو اور بىسوا طبقہ بھى گرچہ موجود تھا، مگر معاشرے مىں اس كو اور اس كے گرد طواف كرنے والے كو معاشرے كا ذلىل فرد تصور كىاجاتا تھا۔

          لىكن تہذىب وتمدن مىں رفتہ رفتہ ترقى كے مدارج طے كرنے كے ساتھ ساتھ عورت كے تعلق سے ان كے نظرىات بھى بدلنے شروع ہوگئے اور اىك زمانہ وہ آىا كہ نكاح صرف اىك قانونى معاہدہ بن كر رہ گىا، جس كا قىام وبقاء فرىقىن كى رضامندى پر منحصر تھا، ازدواجى تعلق كى ذمہ دارىوں كو بہت ہلكا لىا جانے لگا، عورت كو وراثت اور ملكىت ِ مال كے حقوق اس شان سے دىے گئے كہ وہ باپ اور شوہر كے قبضے سے بالكل ہى آزاد ہوگئى اور زن ومرد كے درمىان غىرنكاحى تعلقات كا عىب رومى معاشرے سے اىسا ناپىدہوا كہ اپكٹىٹس  (Epictetus) جو فلاسفۂ رواقىىن مىں سخت ترىن محتسب ِ اخلاق مانا جاتا ہے، وہ اپنے شاگردوں كو ىوں ہداىت كرتا ہے كہ: ’’جہاں تك ہوسكے شادى سے پہلے عورت كى محبت سے اجتناب كرو، مگر جو اس معاملے مىں ضبط نہ ركھ سكىں، انھىں ملامت بھى نہ كرو۔‘‘

          پھر اىك دن وہ آىا كہ عورت صرف اور صرف سامانِ تعىش اور ذرىعۂ لذت اندوزى بن كر رہ گئى، شہوانىت، عرىانىت اور فواحش كاطوفانِ بلاخىز بپاہوگىا، تھپىڑوں مىں بے حىائى وعرىانىت كے مظاہرے ہونے لگے، ننگى اور نہاىت ہى فحش تصوىرىں ہرگھر كى زىنت ٹھہرىں، قُبحہ گرى كے كاروبار كو حىرت ناك حد تك ترقى ملى اور ان كا ذوقِ شہوت پرستى اس قدر شباب پر تھا كہ اس كا اثر زندگى كى ہنگامہ خىزىوں اور پىہم تكان سے چور ذہن كو فرحت بخشنے والے كھىلوں پر بھى پڑا؛ چنانچہ رومىوں مىں فلورا    (Flora) نامى كھىل كو قبولِ عام حاصل تھا؛ اس لىے كہ اس مىں لڑكىاں برہنہ ہوكر دوڑتى تھىں، جنھىں دىكھ كر شائقىن محظوظ ہوتے تھے۔

          قصہ كوتاہ ىہاں بھى عورت تہذىب وترقى كے مختلف ادوار سے گذركر بالآخر شہوت پرستى وہوس رانى كے اسى نقطے پر آٹھہرتى ہے، جہاں اسے تہذىب ِ ىونان نے پہنچاىا تھا اورانجام كار تہذىب روم كا قصرِ شوكت وعظمت بھى اىسا پىوبندِ خاك ہوا كہ پھر اس كے كھنڈرات كا بھى نام ونشان نہ رہا۔

 

عورت قدىم مسىحى ىورپ مىں

 

          ىونان وروم كے نىرِ اقبال كے گہنانے اور آفتابِ عظمت كے كجلانے كے بعد مسىحىت آئى اور اس نے عورت كى زبوںحالى اور اس كے حقوق كے استحصال كى روك تھام كا بىڑا اٹھاىا اور اوّل اوّل اس نے عمدہ خدمات انجام دىں، مگر افسوس كہ اس كا نظرىہ بھى صنف ِ نازك كے بارے مىں انتہاپسندانہ ہى واقع ہوا؛ چنانچہ آباءِ مسحىىن كا ابتدائى اور بنىادى نظرىہ ىہ تھا كہ عورت گناہوں كى ماں اور برائى كى جڑ ہے، معصىت كى تحرىك كا سرچشمہ اور جہنم كا دروازہ ہے، تمام انسانى مصائب كا آغاز اسى سے ہوا ہے،اس كا عورت ہونا ہى اس كے شرمناك ہونے كےلىے كافى ہے، اس كو اپنے حسن ومہ وَشى پر نازاں نہىں؛ بلكہ پشىمان ہونا چاہىے؛ كىوں كہ  پىاسى نگاہوں كو دعوتِ نظارہ دىنے والا اس كا ىہ جمالِ جہاں آراء شىطان كا سب سے بڑا ہتھىار ہے، اس كو دائماً اور لازماً كفارہ ادا كرتے رہنا چاہىے؛ كىوں كہ وہ دنىا اور اہلِ دنىا ہر دو كے لىے مصىبتوں كى پىامبر اور آفتوں كى علم بردار ہے۔

          ترتولىان (Tertulian) جو ابتدائى دور كے ائمہ مسىحىت مىں سے ہے، عورت كے متعلق مسىحى نظرىہ كى ترجمانى ىوں كرتا ہے كہ: ’’وہ شىطان كے آنے كا دروازہ ہے، وہ شجرِ ممنوع كى طرف لے جانے والى، خدا كے قانون كو توڑنے والى اور خدا كى تصوىر ’’مرد‘‘ كو غارت كرنے والى ہے‘‘، كرائى سوسسٹم (Chrysostum)جس كو مسىحىت كے اولىائے كبار مىں شمار كىاجاتا ہے، لكھتا ہے: ’’عورت اىك ناگزىر برائى، اىك پىدائشى وسوسہ، اىك مرغوب آفت، اىك خانگى خطرہ، اىك غارت گر دل ربا اور اىك آراستہ مصىبت ہے۔‘‘

          پىروانِ دىن مسىح كا دوسرا نظرىہ ىہ بھى تھا كہ عورت ومرد كا باہمى تعلق خواہ نكاح ہى كے ذرىعے ہو بہ جائے خود نجس اور قابلِ احتراز چىز ہے، پھر ىہ راہبانہ اور تجردانہ تصور مسىحىت شرىعت كے زىرِاثر جتنے قوانىن مغربى دنىا مىں نافذ ہوئے ان كى خصوصىات ىہ تھىں:

          (۱) معاشى حىثىت سے عورت كو كلىتاً بے بس كركے اسے مرد كى ملكىت مىں دے دىا گىا، وراثت مىں اس كےحقوق محدود تھے اور ملكىت مىں محدود تر؛ چنانچہ وہ اپنى كمائى ہوئى دولت سے بھى دست بردار تھى اور اس كى ہرشى كا مالك اس كا شوہر تھا۔

          (۲) طلاق اور خلع كى سرے سے اجازت نہ تھى، خانگى حالات چاہے جس قدر بھى بدحالى كا شكار ہوجائىں، اگر زوجىن مىں ناچاقى حد سے بڑھ جاتى اور بہ ظاہر مصالحت كى كوئى سبىل نہ نكلتى، تو اس كے تدارك كى ان كے ہاں بس ىہ شكل تھى كہ زن وشوہر كے درمىان تفرىق كردى جائے اور تاعمر دونوں اىك دوسرے سے علىحدہ رہىں، نكاحِ ثانى كى اجازت نہ مذہب كى رو سے تھى اور نا ہى سماج اس كا روادار تھا اوراب ان كے لىے دو ہى شكلىں رہ جاتى تھىں كہ ىا تو وہ بقىہ مدتِ حىات راہب اور راہبہ بن كر گذارىں ىا پورى زندگى بدكارى وہوس كارى كى نذر كردىں۔

          (۳) شوہر كے مرنے كى صورت مىں بىوى كے لىے اور بىوى كى موت كے بعد شوہر كے لىے دوسرے نكاح كى اجازت نہ تھى، مسىحى مذہب كے ٹھىكے دار كہتے تھے كہ ىہ محض شہوت رانى اور ہوس كى بندگى ہے ان كى زبان مىں اس فعل كا نام ’’مہذب زناكارى‘‘ تھا۔

 

دنىا كى دىگر تہذىبىں اور عورت

 

          ىہ حالت تو دنىا كى دو عظىم الشان تہذىبوں اور پھر تىسرى مسىحى تہذىب كا گہوارہ رہنے والى مغربى دنىا كى تھى، مگر دنىا كے دىگر ممالك مصر ،بابل اور اىران بھى عورت كا كوئى مرتبہ جو انسانىت نوازى پر مبنى ہوتسلىم كرنے كو كسى طور پر تىار نہ تھے۔

 

عورت ہندوستانى معاشرے مىں

 

          اسى طرح ہندوستانى سماج كا نظرىہ بھى عورت كى بابت ماسبق اقوام سے مختلف نہ تھا، جوآج بھى ہندومعاشرے مىں بہت حد تك موجود ہے؛ چنانچہ عورت ان كے ہاں اىك داسى اور مرد اس كا سوامى اور پتى دىو ىعنى مالك ومعبود ہوتا، اس كو بچپن مىں باپ كى، جوانى مىں شوہر كى اور بىوگى مىں اولاد كى مملوكہ بن كر رہنا پڑتا،اسے شوہر كى چتا پر بھىنٹ چڑھا دىا جاتا، اس كو وراثت اور دىگر حقوقِ ملكىت سے محروم كىاجاتا، اس پر نكاح كے انتہائى سخت قوانىن مسلط كىے جاتے، جن كے زىرِ اثر وہ اپنى رضا اور پسند كے بغىر اىك مرد كے حوالے كردى جاتى،اور پھر تاحىنِ حىات كسى بھى صورت مىں وہ اس كى ملكىت سےنہىں نكل سكتى، ہندووں مىں عورت كو ىہودىوں اور ىونانىوں كى طرح گناہوں كى جڑ اور مصائب كا سرچشمہ سمجھا جاتا تھا اور اس كى مستقل حىثىت تسلىم كرنے سے انكار كىاجاتا تھا، دوسرى جانب جب اس پر محبت كى نگاہ ہوتى تھى تو خواہشات كا كھلونا بنالى جاتى، وہ مرد كے اعصاب پر اس طرح چھاجاتى كہ خود بھى ڈوبتى تھى اور مردوں كو بھى قعرِہلاكت مىں پہنچاكر دم لىتى تھى؛ چنانچہ ىہ لنگ اور ىونى كى پوجا، ىہ عبادت گاہوں مىں عرىاں اور جڑواں مجسّمے، ىہ دىوداسىاں، ىہ ہولى كى رنگ رلىاں اور ىہ درىاؤں كے نىم عرىاں اشنان؛ آخر كس چىز كى ىادگار ہىں؟ اسى بامِ مارگى ہى كے تو باقىات غىرصالحات ہىںجو اىران، بابل، ىونان، اور روم كى طرح ہندوستان مىں بھى تہذىب وترقى كى انتہاء كے بعد وبا كى طرح پھىلى اور ہندوقوم كو غىرمنتہى مدت كے لىے تنزل وانحطاط كى عمىق ترىن كھائى مىں پھىنك گئى۔

 

عورت عرب جاہلىت مىں

 

          جب تہذىب وتمدن كے مراكز اور تارىخِ اقوام مىں اپنى تہذىب، اپنى ثقافت اور اپنے عروج كى چھاپ چھوڑنے والى قوموں كى نگاہوں مىں عورت ہر طرح كى پستى اور زبوں حالى كى حق دار تھى اور انسان كى حىثىت سے ملنے والى خداداد شرافت وكرامت اور بزرگى مىں اس كا كوئى حصہ نہىں تھا، تو سرزمىنِ حجاز كا كىا كہنا، وہ تو وادى غىرذى زرع اور فطرتاً بنجر واقع ہوئى تھى اوراس كا اثر وہاں كے مكىنوں پر بھى كامل تھا؛ چنانچہ وہ علم وتمدن سے خار كھائے بىٹھے تھے، تہذىب اور شائستگى سے انھىں خداواسطے كا بىر تھا،حسنِ اخلاق اور حسنِ سلوك كے نام سے بھى وہ ناآشنا تھے، كسى كو اس كے حقوق دىنا اور دلانا ان كى جاہلى غىرت وشجاعت كے لىے چىلنج تھا، ان كے ہاں كوئى نظم وضبط نہ تھا، وجہ ظاہر تھى كہ وہ لوگ كسى كے تابع اور زىرحكومت رہنا جانتے ہى نہ تھے۔

          متذكرہ بالا گونا گوں خبىث اوصاف كےساتھ ساتھ ان كے اندر اىك اور خبىث ترىن وصف ىہ تھا كہ ان كے معاشرے مىں عورت كے لىے كسى طرح كى شرافت ِ انسانى كا كوئى خانہ نہ تھا، اس كےساتھ ظلم، تعدى، جفاكىشى اور ہر طرح كى بدسلوكى كارواج عام تھا، اس كے حقوق كو پورى ڈھٹائى كے ساتھ پامال كىا جاتا، اس كے كمائے ہوئے مال پر بھى مرد اپنى ملكىت جتاتا، تركہ ومىراث مىں اس كا كوئى حصہ نہ تھا، شوہر كى وفات ىا طلاق كےبعد نكاحِ ثانى كى اجازت نہ تھى، قرآن كرىم نے عورتوں پر اس جاںگسل زىادتى كى مخالفت كى اور ممانعتى حكم نازل فرماىا (البقرہ:۲۳۳)  دىگر اسبابِ زندگى اور حىوانات كى طرح وہ بے چارى بھى وراثت كے طور پر مرنے والے كے وارثىن مىں منتقل ہوتى رہتى،اس سے بھى اللہ تعالىٰ نے منع فرماىا (نساء:۱۹) اشىائے خوردنى مىں بہت سى چىزىں مردوں كے لىے خاص كرلى گئى تھىں، عورتوں كا ان مىں كوئى حصہ نہ تھا، قرآن كرىم نے ان كى اس زىادتى كا ذكر كىاہے (انعام:۱۳۹) اكثر تو غىرت وجاہلىت كى وجہ سے اور بسا اوقات فقر وتنگدستى كى بنا پر لڑكىوں كو زندہ درگور كرنے سے بھى نہ چوكتے، جب لڑكى پىدا ہوتى تو ان كے چہرے فق ہوجاتے، پژمردگى اور اضمحلال دور ہى سےٹپكتے ہوئے نظر آتے، ان كے دل گھٹتے رہتے اور انھىں اتنى عار محسوس ہوتى كہ وہ معاشرے سے، اپنے ملاقاتىوں سے اور دىدوشنىد ركھنےوالوں سے بھاگے پھرتے اور ىہى عار اور شرمندگى انھىں اپنى لڑكى كے زندہ درگور كردىنے جىسے غىرانسانى اور خالص وحشىانہ فعل پر ابھارتى اور وہ اىسا بہىمانہ اقدام كرڈالتے، فرزدق شاعر كے دادا  صعصعہ  بن ناجىہ نے ظہورِ اسلام سے قبل تك تىن سو لڑكىوں كو زندہ درگور ہونے سے بچاىا تھا اور وہ سرزمىنِ عرب سے لڑكىوں كو زندہ درگور كرنے كى وبا كو ختم كرنے والے پہلے شخص تھے، اسلام لانے كے بعد كئى اصحابِ نبى ﷺ نے اس  اس سلسلے كے بڑے ہى دردانگىز اور جگر خراش واقعات بىان كىے ہىں۔

 

عورت اسلام كے ساىۂ رحمت مىں

 

          تارىخ كے مختلف اور بھىانك مراحل سے گذرنے كے بعد چھٹى صدى عىسوى مىں بھى عورت اسى ذلت وخوارى، اسى آہ وزارى اور اسى بے ىارى ومددگارى كے المناك دوراہے پر كھڑى تھى، جہاں صدىوں پہلے اسے كبھى تہذىبِ ىونان وروم نے پہنچاىا تھا، اس كا كرب انتہا كو پہنچ چكا تھا اور بہ ظاہر كوئى بھى اس كا مونس وىاور نہ تھا۔

          بالآخر صنف ِ لطىف كے درد كى  كَسك اوراس كى پىہم سسكىوں نے رحمت ِ خداوندى مىں جولانى پىدا كى اور پھر اللہ تبارك وتعالىٰ نے حراء كى پہاڑى سے جہاں آپؐ كو بنى نوع انسان كے لىے بالعموم نسخۂ كىمىا اثر دے كر مبعوث فرماىا، وہىں آپؐ كى بعثت صدىوں سے دبى كچلى صنف عورت كے لىے بھى سراپا لطف ورحمت ثابت ہوئى، آپؐ نے خدائى تعلىمات اور اپنے شبانہ روز كے اعمال كے ذرىعے عورت كى حىثىت اور اس كى قدر ومنزلت كو واشگاف كىا، لوگوں كے قلوب پر اس كى كرامت وشرافت كا نقش بٹھاىا اور تاابد كے لىے عورت كو مقام ومرتبے كى اس معراج تك پہنچادىا كہ اس سے بلند مرتبہ بشرى تصورات سے باہر ہے۔

          آئىے ہم قدرے غائرانہ نظر سے دىكھىں كہ اسلام نے عورت كو كب كىا مقام ومرتبہ عطا كىا ہے اور بہ چشمِ خوىش وحقىقت بىں مشاہدہ كرىں كہ اسلام نے؛ بلكہ صرف اسلام نے صنف ِ لطىف كو كس طرح ثرىٰ سے ثرىا تك پہنچانے كا عظىم القدر كارنامہ انجام دىا ہے۔

 

اسلام مىں ماں كا مرتبہ

 

          ىہ اىك مسلّم الثبوت حقىقت ہے كہ اللہ تبارك وتعالىٰ نے دنىا بنائى اور اس وىرانۂ آبادنما مىں رونق، دىدہ زىبى اور دل فرىبى پىداكرنے كى غرض سے ماں كے مقدس وجود كو وجود بخشا، ىہى وجہ ہے كہ ماں كے اندر پاكىزگى اور تخلىقىت كا لافانى ذخىرہ مخفى ہے، ماں سے بہتر اور برتر دنىا مىں كوئى ذات نہىں، ماں اىك اىسا لفظ ہے جو كام ودہن كو لذت بخشتا اوركانوں مىں شہد گھولتا ہے، ماں كى پىشانى مىں نور، آنكھوں مىں سرور، باتوں مىں بے لوث محبت، دل مىں ناپىد كنار درىائے رحمت، ہاتھوں مىں بے پناہ شفقت، پىروں مىں بے بہا نعمت جنت اور ماں كى آغوش مىں بے پاىاں راحت وسكون ہے، ماں كا ذكر آتے ہى ہر انسان كے دل مىں؛ بلكہ اس كى رگ رگ مىں اىك لطىف احساس ابھر آتا ہے، وہ عمر كے كسى بھى مرحلے مىں ہو، ماں كے لمس اور اس كى گود كے گرم احساس كو كبھى نہىں بھول پاتا، انسان پر جب كوئى آفت ٹوٹ پڑتى ہے، كوئى دكھ پرىشانى او ر تكلىف پہنچتى ہے تو خدائے لاىزال كے بعداسے اس دنىائے دوں مىں اگر كوئى غم خوار نظر آتا ہے، تو وہ صرف ماںكى ذاتِ اقدس ہے    ؎

شدتِ حالات نے جب جب بھى ٹھكراىا مجھے

صرف ماں تھى جس نے بڑھ كر لےلىا آغوش مىں

          ماں كى عظمت ورفعت افلاك كى وسعتوں سے پرے ہے، ماں كے قدموں كى دھول مىں شفقت كے پھول اگتے ہىں، ماں اىسى دھوپ ہے جہاں صدق وصفا كے موتى چمكتے ہىں، ماں اىسى روشنى ہے جس مىں ممتا اور محبت كى كلىاں خنداں نظر آتى ہىں، ماں اىك اىسا نور ہے جس مىں تپش نہىں ہوتى، ماں اىك تابندہ ستارہ ہے جو زندگى كى تارىكىوں مىں روشنى بكھىرتا ہے، ماں اىسا دىپ ہے جس كى تابش كے آگے زہرہ ومرىخ اور كہكشاں كى روشنى بھى ہىچ ہے، ماں كى نظرِكرم ولطف وعناىت ابرِ رحمت كا خوش گوار ساىہ ہے، ماں كا دل سمندر سے بھى زىادہ عمق ركھتا ہے جہاں ہر رنج وغم چھپ جاتے ہىں، ماں اىسى راگ ہے جس كى لے اور لورى زندگى مىں لگنے والے بڑے سے بڑے زخم كى ٹىس اور چبھن كو چن لىتى ہے، ماں اىسا چمن زار ہے جس كے گلوں پر كبھى پژمردگى نہىں آتى، ماں اىك اىسى خوشبو ہے جس كے وجود سے پورى كائنات معطر ہے اور سب سے بڑھ كر ىہ كہ ماں دنىا والوں كے لىے قدرت كا عظىم ترىن تحفہ اور خداوندى انعام ہے۔

          اسلام نے بھى اولِ دن سے ہى دنىا كى اس مقدس ترىن ہستى كى عظمت، قداست، كرامت، حرمت اور اس كے جذبے كى صداقت كا بھرپور احساس  اورلحاظ كىا اور ماں كو وہ مرتبۂ بلند وبالا بخشا كہ اس كے زىرِ قدم جنت بسادى،اس عظىم ہستى كے احترام وتكرىم كو اس كى اولاد پر واجب قرار دىا اور اپنے تابعداروں كو ىہ ہداىت دى كہ خدا ورسولؐ كے بعد عزت اوراحترام كى سب سے زىادہ حق دار تمہارى ماں ہے۔

          حضرت ابوہرىرہؓ سے رواىت ہے كہ اىك آدمى حضور ﷺ كے پاس آىا اور اس نے درىافت كىاكہ اللہ كے رسولؐ مىرے حسنِ سلوك كا سب سے زىادہ حق دار كون ہے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرماىا:  ’’أمُّكَ‘‘ قال: ’’ثُمَّ مَنْ؟‘‘  قَالَ: ’’أمُّكَ‘‘ قَالَ: ’’ثم من؟‘‘ قال: ’’أبُوْكَ‘‘. (بخارى ج۲ ص۸۸۳، مسلم ج۲ ص ۳۲۲)

          اس حدىث پاك سے بہ وضاحت وصراحت ىہ معلوم ہوتا ہے كہ انسان كے حسنِ برتاو اور حسنِ اخلاق كى سب سے زىادہ حق دار اس كى ماں ہے اور ماں كا حق اولاد پر باپ سے تىن گنا بڑھا ہوا ہے۔

          قرآنِ كرىم نے بھى جہاں خدائے واحد كى پرستش اور عبادت كى جگہ جگہ تلقىن كى ہے اور ساتھ ہى والدىن كے ساتھ احسان كا حكم دىا ہے، وہىں متعدد مقامات پر ماں كے زمانۂ حمل، ولادت اور رضاعت كى جاںگسل تكلىفوں كو ذكر كركے اس كے مرتبے كے سوا ہونے اوراس كے حقِ تعظىم وتكرىم كے فزوں تر ہونے پر واضح اشارہ دىا ہے۔

          معاوىہ بن جاہمہؓ سے رواىت ہے كہ: ’’مىرے والد جاہمہ آپ ﷺ كى خدمت مىں حاضر ہوئے اور عرض كىا كہ : ’’مىرا جہاد مىں جانے كا ارادہ ہے اور اس سلسلے مىں مىں آپ ﷺ كے پاس مشورے كو حاضر ہوا ہوں‘‘ آپ ﷺ نے  ان سے درىافت فرماىا:  ’’ھلْ لَكَ مِنْ أمٍ؟‘‘ قال ’’نَعَمْ‘‘ قال: ’’فَألزَمْھا؛ فإنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيھا‘‘. (نسائى ج۲ ص۵۳)

          (آپ ﷺ نے درىافت فرماىا: ’’كىا تمہارى ماں حىات ہىں؟‘‘ انھوں نے جواب دىا ’’ہاں‘‘ توآپ ﷺ نے ارشاد فرماىا: ’’انھىں كى خدمت گزارى مىں لگے رہو؛ كىوںكہ ان كے قدموں كے نىچے جنت ہے‘‘)۔

          اىسے وقت مىں جب كہ اسلام كى وسعت محدود تر تھى، كفارِ مكہ كى ىورش كا خطرہ ہمہ وقت منڈلاتا رہتا تھا اور مسلمانانِ مدىنہ كے قلوب پر ہرگھڑى ىہ اندىشہ چھاىا رہتا كہ نہ معلوم كب اور كس جانب سے دشمنانِ اسلام كى كون سى ٹولى مسلمانوں كا قصہ پاك كردىنے كو آدھمكے، اىسى تشوىشناك صورتِ حال كا تقاضا تو ىہى تھا كہ آپ ﷺ حضرت جاہمہؓ كو رزم گاہ حق وباطل كى طرف رخ كرنے كا حكم  دىتے، مگر آپ ﷺ نے حالات كى حددرجہ نزاك كے على الرغم اپنے صحابىؓ كو ماں كى خدمت كا نہ صرف حكم دىا؛ بلكہ اس كے التزام كى ہداىت فرمائى اور علت ىہ بتلائى كہ جنت ان كے قدموں كے نىچے ہے۔ دنىا كے كسى بھى دھرم اور مذہب مىں ماں كے تئىں اىسا اعلىٰ ترىن تصور كب پىش كىاگىا ہوگا؟

 

ماں كى نافرمانى سخت ترىن گناہ

 

          حضرت مغىرہ بن شعبہؓ سے مروى ہے كہ آپ ﷺ نے ارشاد فرماىا:  ’’إنَّ اللّٰہ حَرَّمَ عَلَيكُمْ عُقُوْقَ الأُمَّھاتِ‘‘ (بخارى ج۱ ص۲۰۰، مسلم ۲ ص۷۵)

          (اللہ تبارك و تعالىٰ نے تمہارے اوپر ماؤں كے عقوق (ىعنى ان كى عدم بجاآورى) كو حرام قرار دىا ہے)

          جب تك ماں باپ كسى ناجائز كام كا حكم نہ كرىں اس وقت تك ماں باپ كى اطاعت ضرورى اورنافرمانى حرام ہے؛ ىہاں تك كہ علماء كرام نے فرماىا كہ اگر بىٹے نے نفل كى نىت باندھ ركھى ہو اور ماں باپ لا علمى مىں كسى كام سے آواز دىں، تو نىت توڑ كر آنا ضرورى ہے۔

          حضرت ابوبكرؓ سے مروى ہے كہ آپ ﷺ نے فرماىا: ’’والدىن كى نافرمانى اور قطع رحمى سے بڑھ كر كوئى گناہ نہىں، جس كا عذاب فى الفور ہونا چاہىے اور جوعذاب باقى رہ جائے وہ اس كے علاوہ ہے۔‘‘ (الادب المفرد)

          حضرت عمران بن حصىنؓ سے مروى ہے كہ حضور ﷺ نے فرماىا: ’’زنا، شراب خورى اور چورى كے بارے مىں تمہارا كىا خىال ہے؟ انھوں نے جواب دىا كہ: ’’سب بے حىائىاں ہىں اور ان پر عذاب ہوگا‘‘ حضور ﷺ نے فرماىا ’’ہاں سب سے بڑا گناہ تمہىں نہ بتاؤں وہ ہے اللہ عزوجل كے ساتھ شرىك كرنا اور والدىن كى نافرمانى كرنا، آپ ﷺ اس وقت تكىہ لگائے بىٹھے تھے اس كے بعد سىدھے ہوكر بىٹھ گئے اور فرماىا: ’’اور جھوٹى گواہى‘‘۔ (الادب المفرد)

          حضرت اسماء بنت ابى بكرؓ سے رواىت ہے كہ رسول اللہ ﷺ  اور قرىش مكہ كے (حدىبىہ والے) معاہدے كے زمانے مىں مىرى ماں جو اپنے مشركانہ مذہب پر قائم تھى (سفر كركے مدىنے مىں) مىرے پاس آئىں، تو مىں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض كىا كہ:  ’’إنَّ أمِّى قَدِمَتْ عَلَى وَھى رَغِبَةٌ، أَفَأصِلُھا؟ قال: ’’نَعَمْ صِلِى أمَّكَ‘‘. (بخارى ج۱ ص۳۵۷، مسلم ج۲ ص۸۸۴)

          (مىرى ماں مىرے پاس آئى ہىں اور وہ خدمت كى خواہاں ہىں، كىا مىںان كے ساتھ صلہ رحمى كروں؟ آپ ﷺ نے فرماىا: ’’ہاں، اپنى امى كے ساتھ حسن سلوك كرو‘‘)۔

          حضرت اسماءؓ صدىق اكبرؓ كى صاحبزادى اور دوسرى ماں سے حضرت عائشہ صدىقہؓ كى بڑى بہن تھىں، رواىات مىں ان كى ماں كا نام ’’قيلہ بنت عبدالعزى‘‘ مذكور ہے، انھىں حضرت ابوبكرؓ نے زمانۂ جاہلىت ہى مىں طلاق دے كرالگ كردىا تھا، صلح حدىبىہ كے زمانے مىں جب مسلمانوں كو مكہ اور كفاركو مدىنہ آمد ورفت كى اجازت تھى، وہ اپنى صاحبزادى سے ملاقات كى خاطر آئىں، حضرت اسماءؓ نے درىافت كىا كہ مىرى ماں جو مشركہ ہىں كچھ خواہش لے كر مىرے ىہاں آئى ہىں، ىعنى وہ چاہتى ہىں كہ مىں ان كى كچھ خدمت كروں، بعض شراحِ حدىث نے ’’راغبة‘‘ كا ترجمہ منحرف ہونے سے اور بىزار ہونے سے كىا ہے، اس صورت مىں معنى ىہ ہوںگے كہ مىرى والدہ مجھ سے ملنے آئى ہىں، لىكن وہ دىنِ اسلام سے بىزار ہىں، اىسى صورت مىں مىرا ان سے كىا برتاؤ ہونا چاہىے؟ ماں ہونے كى وجہ سے ان كے ساتھ حسن سلوك كروں ىا كفر وشرك كى بنا پر ان سے تركِ تعلق اور بے رخى اختىار كروں؟ تو رسول اللہ نے انھىں ہداىت فرمائى كہ ان كى خدمت كرو اور ان كے ساتھ حسنِ سلوك كرو جو ماں كا، ماں ہونے كى وجہ سے حق ہے۔

          قرآن كرىم مىں سورہٴ لقمان مىں بھى اولاد كو ىہى ہداىت ہے كہ اگر ماں باپ كا فرومشرك ہوں اور اپنى اولاد كو بھى كفر كو اختىار كرنے پر مجبور كرىں، تو ان كا حكم نہ مانا جائے البتہ خدمت اور حسن سلوك مىں پھر بھى كوتاہى نہ برتى جائے۔

 

اسلام مىں بىٹى كى حىثىت

 

          قبل از اسلام بىٹى كى پىدائش عالمى معاشرے مىں نحوست كى علامت سمجھى جاتى تھى؛ بلكہ آج بھى دنىا كے مختلف خطوں اور مختلف طبقاتِ انسانى مىں لڑكى كو اىك بوجھ اور مصىبت باور كىاجاتا ہے اور اس كى پىدائش چہرے پر رونق اور شادابى لانے كى بہ جائے پژمردگى اور افسردگى كا سبب بن جاتى ہے۔

          اسلام نے بتاىا كہ بىٹى كا وجود باعث ِ ننگ وعار ہونے كى بہ جائے رحمت ِ خداوندى كے نزول كا سبب ہے؛ بلكہ جذبۂ صادق اور كامل شفقت ورافت كے ساتھ اس كى تربىت،اس كى تعلىم، اس كى حقوق رسانى اور اس كے ساتھ احسان كا برتاؤ كرنا جنت مىں داخلے كا باعث ہوگا۔

          حضرت انسؓ سے مروى ہے كہ آپ نے ارشاد فرماىا:  ’’مَنْ عَالَ جَارِييتَينِ حَتّٰى تَبْلُغَا جَاءَ يوْمَ القِيامَةِ أَنَا وَھوْ كَھاتَينِ وَضَمَّ أَصَابِعَہٗ‘‘. (مسلم ج۲، ص۳۳)

          (جو شخص دو لڑكىوں كى ان كے بلوغ تك پرورش كرے تو قىامت كے دن، مىں اور وہ ان دو انگلىوں كى طرح ہوں گے ، راوى كہتے ہىں كہ ’’پھر آپ نے اپنى انگلىوں كو ملادىا‘‘)

 

لڑكىاں دوزخ سے بچاؤ كا سامان

 

          حضرت عائشہؓ سے رواىت ہے كہ آپ نے فرماىا:  ’’مَنِ ابْتُلِى مِنْ ھذِہٖ الْبَنَاتِ بِشَىءٍ فَحَسَّنَ إلَيھنَّ كُنْ لَہٗ سِتْراً مِنَ النَّارِ‘‘. (بخارى شرىف ج۱ ص۱۹۰، مسلم شرىف ج۲ ص۳۳۰)

          (جس شخص پر اللہ كى طرف سے بىٹىوں كى ذمہ دارى ڈالى گئى (اور اس نے اس ذمہ دارى كو نبھاىااور) ان كے ساتھ حسنِ سلوك كىا، تو ىہ بىٹىاں اس كے لىے جنت سے بچاؤ كا ذرىعہ بنىں گى)۔

          ىعنى اگر انسان اپنے گناہوں كى وجہ سے جہنم رسىد ہونے والا ہوگا، تو وہ اپنى بىٹىوں كے ساتھ عمدہ سلوك كى بنا پر بخش دىاجائے گا اور بارى تعالىٰ اس كے لىے دخولِ جنت كا حكم صادر فرمادىں گے۔

 

لڑكىوں اور بہنوں كى عمدہ تربىت كا صلہ

 

          بىٹى كے ساتھ ساتھ اگر كوئى شخص اپنى بہن كى بھى پرورش وپرداخت اور تعلىم وتربىت كى ذمہ دارى لے لے اور اپنى وسعت بھر ان كى تربىت مىں كوئى كسر نہ اٹھا ركھے تو اىسا شخص بہ زبانِ وحى ترجمان جنت كا مستحق بن جاتا ہے۔

          حضرت ابوسعد خدرىؓ نے حضورﷺ سے رواىت كىا ہے:  ’’مَنْ كَانَتْ لَہٗ ثَلٰثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلٰثُ أَخَواتٍ أَوْ بِنْتَانِ أَوْ أُخْتَانِ فَأحْسَنَ صُحْبَتَھنَّ وَاتَّقٰى اللہ فِيھنَّ فَلَہٗ الْجَنَّةُ‘‘. (ترمذى شرىف ج۲ ص۱۳)

          (جس شخص كى تىن بىٹىاں ىا تىن بہنىں ہوں ىا دو بىٹىاں ىا دو بہنىں ہوں اور اس نے ان كے ساتھ حسنِ سلوك كىااور ان كے بارے مىں اللہ سے ڈرتا رہا تو اس كو بدلے مىں جنت ملے گى)

 

لڑكوں اور لڑكىوں كے ساتھ ىكساں روىہ اپنائىں

 

          عبداللہ بن عباسؓ سے رواىت ہے كہ آپ ﷺ نے فرماىا:  ’’مَنْ كَانَتْ لَہٗ اُنْثٰى فَلَمْ يئِدْھا، وَلَمْ يفھنْھا وَلَمْ يوْثِرْ وَلَدَہٗ عَلَيھا - يعْنِى الذُّكُوْرَ - أَدْخَلَہٗ اللہ الْحَنَّةَ‘‘.  (مشكوٰة شرىف ص۴۲۳، مسند احمد ج۱ ص۲۲۳)

          (جس كےپاس لڑكى ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ كرے، نہ اس كى توہىن كرے اور نہ برتاؤ مىں لڑكے كو اس پر ترجىح دے (ىعنى دونوں كے ساتھ ىكساں سلوك روا ركھے) تو اللہ تعالىٰ اس كو جنت مىں داخل فرمائے گا)۔

 

اسلام مىں بىوى كا مقام ومرتبہ

 

          اسلام نے پورى انسانىت كو باخبر كىا كہ بىوى تمہارے لىے اللہ كى دى ہوئى اىك بڑى نعمت ہے، تمہارى ہم راز و دم ساز، تمہارى رفىقۂ حىات، تمہارى زندگى كے نشىب وفراز مىں تمہارى غم خوار وغم گسار؛ بلكہ زندگى كے ہرگام پر تمہارے لىے سكون وطمانىت كا سامان كرنے والى ہے؛ اس وجہ سے اگر تمہارے حقوق كى ادائىگى مىں اس سے كچھ تقصىر سرزد ہوجائے، تو بھى اس كے ساتھ حسنِ معاشرت كا معاملہ كرو۔

          حضرت ابوہرىرہؓ سے رواىت ہے كہ آپ ﷺ نے ارشاد فرماىا:  ’’اِسْتَوْصُوْا بِالنِّسَاءِ خَيراً  فَإنَّھنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعِ وَإنَّ أَعْوَجَ شَىءٍ فِى الصِّلَعِ أَعْلَاہ فإنْ ذَھبْتَ تُقِيمُہٗ كَسَرْتَہٗ وإنْ تَرَكْتَہٗ  لَمْ يزَلْ أَعْوَجَ فَاَسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيراً‘‘. (بخارى شرىف ج۱ ص۶۴۹، مسلم شرىف ج۱ ص۴۷۵)

          (اے لوگو! بىوىوں كے ساتھ بہتر سلوك كرنے كے بارے مىں وصىت حاصل كرلو؛ اس لىے كہ وہ پسلى سے پىداكى گئى ہىں اور سب سے زىادہ كجى پسلى كے اوپرى حصے مىں ہوتى ہے اگر تم اس كو زبردستى سىدھا كرنے كى كوشش كروگے، تو وہ ٹوٹ جائے گى اور اپنے حال پر چھوڑدوگے تو وہ ٹىڑھى ہى رہے گى؛ اس لىے عورتوں كے ساتھ حسنِ معاشرت كے بارے مىں مىرى وصىت قبول كرو)۔

          ىعنى اگر كوئى شخص زبردستى اور تشدد كے بل بوتے پر عورت كى فطرى كجى كو دور كرنے كى كوشش كرے گا، تو كامىابى كى بہ جائے افتراق اور علىحدگى كى نوبت بھى آسكتى ہے؛ اس لىے كہ دماغ و زبان مىں كجى اس كى فطرت مىں داخل ہے اور ىہ اس كے لىے موجب ِ ننگ نہىں؛ بلكہ ىہ تواس كى ادا وناز ہے؛ لہٰذا اگر تم ان سے كوئى فائدہ حاصل كرنا چاہتے ہو، تو اس كى كمزورىوں كو نظر انداز كرتے ہوئے اس كے ساتھ بہتر سلوك اور دل دارى كا معاملہ كرو، لفظ ’’اِسْتَوْصُوْا‘‘ سے آپ ﷺ نے كلام كا آغاز فرماىا تھا اور اسى لفظ پر آپ نے اپنى بات ختم فرمائى، اس سے اندازہ لگاىاجاسكتا ہے كہ آپ ﷺ كو بىوىوں كے ساتھ حسنِ معاشرت كا كس قدر اہتمام تھا۔

 

نىك عورت نعمتِ عظمىٰ

 

          عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروى ہے كہ آپ ﷺ نے ارشاد فرماىا:  ’’اَلدُّنْيا كُلُّھا مَتَاعٌ وَخَيرُ مَتَاعِ الدُّنْيا اَلْمَرْأةُ الصَّالِحَةُ‘‘. (مسلم شرىف ج۱ ص۴۷۵)

          (دنىا كى حىثىت اىك سامان كى سى ہے اور دنىا كا بہترىن سامان نىك عورت ہے)۔

          احادىث مباركہ مىں نىك عورتوں كى متعدد علامتىں بىان كى گئى ہىں، بعض رواىتوں مىں آىا ہے كہ نىك عورت وہ ہے جو شوہر كى آخرت پر (ىعنى اعمال آخرت پر) معاون ہو، بعض مىں آىا كہ بہترىن عورت وہ ہے جو اپنى ذات اور شوہر كے اموال مىں كسى گناہ كى جوىا نہ ہو اور كسى خىانت كا ارتكاب نہ كرے، اىك اور رواىت مىں نىك عورت كى ىہ علامتىں بتلائى گئى ہىں كہ: جب شوہر كوئى حكم دے (شرعى دائرے مىں رہ كر) تو بىوى اس كى اطاعت كرے، جب شوہر اسے دىكھے تو اسے قلبى سرور حاصل ہو، جب شوہر كسى بات پر قسم كھالے، تو بىوى اسے برى كردے اور جب شوہر گھر سے غائب ہوتو بىوى اپنے نفس اور شوہر كے مال مىں خىانت سے محترز رہے۔ (الترغىب والترہىب ج۳ ص۴۱)

 

اسلام كى نظر مىں بہترىن شخص

 

          حضرت ابوہرىرہؓ سے مروى ہے كہ آپﷺ نے ارشاد فرماىا:  ’’أَكْمَلُ الْمُؤمِنِينَ إيمَاناً أَحْسَنُھمْ خُلْقاً وَخِيارُكُمْ لنسائہٖ‘‘. (ترمذى شرىف ج۱ ص۲۱۹)

          (سب سے زىادہ كامل اىمان اس شخص كا ہے، جس كے اخلاق عمدہ ہوں اور تم مىں بہترىن شخص وہ ہے جو اپنى بىوى كے حق مىں بہتر ثابت ہو)

 

اپنى بىوى سے نفرت نہىں، محبت كرو!

 

          حضرت ابوہرىرہؓ سے مروى ہے كہ آپ نے ارشاد فرماىا:  ’’لَا يَفْرَك مُؤمِنٌ مُؤمِنَةً إنْ كَرِہ مِنْھا خُلُقاً رَضِى مِنْھا آخَرَ‘‘. (مسلم شرىف ج۱ ص۴۷۵)

          (كوئى اىمان والا شوہر اپنى مومنہ بىوى سے نفرت نہ كرے، اگر اس كى كوئى عادت اس كى نظروں مىں ناپسندىدہ ہے تو دوسرى كوئى عادت پسندىدہ بھى ہوگى)

          ىعنى اگر بىوى مىں كوئى اىسى عادت ہے جو شوہر كى نگاہ مىں قابل اعتراض اور مكروہ ہو، تو اس كى بنا پر وہ اسے نفرت و كراہت كا شكار نہ بنائے؛ بلكہ اس كے دىگر خصائلِ محمودہ كو دىكھتے ہوئے اس سے درگزر كا معاملہ كرے، ىہ حدىث شرىف آىت كرىمہ:  ’’وَعَاشِرُوْھنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَإِنْ كَرِھتُمُوْھنَّ فَعَسٰى أنْ تَكرَھوا شَيئًا وَّ يجْعَلَ اللہ فِيہ خَيراً كَثِيراً‘‘. (نساء:۱۹) كى سچى اور واضح تشرىح ہے۔

          متذكرہ بالا ٹھوس اور روشن حقائق كے پىش نظر ىہ بات برملا اور بہ بانگِ دُہل كہى جاسكتى ہے (اور كسى عقلِ دانا اور نگاہ بىنا ركھنے والے شخص كو اس سے انكار كى مجال بھى نہىں ہوسكتى) كہ اسلام ہى وہ مذہب ہے، جس نے عورت كو صدىوں كى ذلت اور برسہا برس كے ظلم وجور كى اندوہناك كھائىوں سے نكال كر عظمت وتقدس اور عفت وپاكىزگى كى انتہا تك پہنچادىا،اس كو وہ مقام ومرتبہ عطا كىا جس كا عُشرِ عشىر بھى دنىا كى اب تك كى تمام تر تہذىبىں نہ دے سكىں اور اس كى آغوشِ شفقت ورحمت مىں صنف ِ لطىف كو وہ سكون وطمانىت حاصل ہوئى كہ تارىخِ انسانىت كا كوئى بھى مذہب اور تحرىك ہزاروں دعووں كے باوصف اسے وہ سكون بخشنے مىں كبھى كامىاب نہ ہوئى۔

 

تہذىبِ جدىد كى غلط اندىشىاں

 

           ىہ حقىقت بھى ہر قلب سلىم پر آشكارا ہوجانى چاہىے كہ تہذىب ِ جدىد كے عورت كو اس كے حقوق دىے جانے كے پرفرىب نعرے، داناىانِ فرنگ كى طرف سے مساواتِ مردوزن كى اٹھتى ہوئى صدائىں، مغرب اور مغربى دسترخوان كے زلہ خواروں كى طرف سے صنف ِ اناث كے معاشى استقلال كى صداہائے بازگشت اور اپنى ہوسناكى وشىطنت كو تسكىن فراہم كرنے كى غرض سے زن وشوہر كے آزادانہ باہمى اختلاط كا ڈنكا پىٹنا؛ ان سب كے پىچھے بشرى قوتوں كى كم كوشىاں اور اذہانِ انسانى كى غلط اندىشىاں كارفرما ہىں، ىہى وجہ ہے كہ تہذىب ِ نو اپنى عمر كى صرف اور صرف دو ڈھائى صدىاں بتانے كے بعد ہى پورى طرح مخدوش، شكستہ اور بنى نوع انسانى كى خدمت انجام دىنے مىں برى طرح ناكام ہوچكى ہے؛ بلكہ حقىقت ىہ ہے كہ آج جو پورى انسانىت ذلت ورسوائى، فحاشى وبے حىائى اور انسانىت كے رتبے سے ہزار درجہ گرے ہوئے افعالِ قبىحہ وشنىعہ مىںملوث نظر آرہى ہے ىہ سب اسى تہذىب كى دَىن ہے اور كوئى بھى صاحب بصىرت انسان ادنىٰ تامل كے بغىر ىہ پىش گوئى كرسكتا ہے كہ مستقبل قرىب مىں ہى اس تہذىب كے كَل پرزے بكھرا چاہتے ہىں۔

 

حرفِ انتہاء

 

          اسلام كى آمد سے پہلے جو تہذىبىں عالمِ وجود مىں آئىں اور ان مىں جو صنف ِ نازك كے ساتھ نا انصافى كا، جو روجبر كا اورہوس رانى وشہوت پرستى كا روىہ اپناىا گىا، اس كى وجہ ىہ تھى كہ ان تمام تہذىبوں كے معاشرتى، تمدنى اور اخلاقى قوانىن مىں تفرىط كا بھىانك عنصر غالب تھا، ان كے علم بردار معاشرے كى تشكىل كرنا چاہتے تھے، مگر عورت كو (جو انسانىت كانصف حصہ ہے) كوئى مقام ومرتبہ دىے بغىر اور اسے كسى حىثىت كے قابل سمجھے بغىر اور جہاں تك بات ہے تہذىب ِ جدىد اور اس كى سىہ كارىوں كى، تو سچ توىہ ہے كہ اس كے اولىن معمارقدىم مسىحى تہذىب مىں عورت كے خلاف سنگ دلانہ اصولِ معاشرت مىں نرمى پىدا كرنے اور معاشرے مىں اسے اىك لائق مقام ومرتبہ دلانے كى نىت لے كر اٹھے تھے، مگر افسوس كہ اس تہذىب كى آبادكارى جن اصولوں كو سامنے ركھ كر انجام دى گئى اور جن نقاط كو اس كى ترقى كے اہم عوامل كى حىثىت سے اختىار كىاگىا، ان سب مىں افراط كا چور پوشىدہ تھا؛ چنانچہ رفتہ رفتہ اس منحوس تہذىب كے سہارے عورت ذلت ورسوائى كے ٹھىك اسى مقام تك پہنچ گئى جو تہذىب ِ ىونان و روم اور قدىم مسىحى ىورپ مىں اس كا مقدر تھا۔

          واقعہ ىہ ہے كہ عورت كواىك ممتازشناخت دلانے، معاشرے مىں اسے اس كے لائق قدر ومنزلت عطا كرنے،اسے عظمت وتكرىم كا زرىں تاج پہنانے اوراس كے تمام حقوق (خواہ خانگى ہوں ىا سماجى، شخصى ہوں ىا اجتماعى) بے كم وكاست بخشنے مىں مكمل طور پر اگر نقطۂ عدل كو كوئى پاسكا ہے تو وہ صرف ’’مذہب اسلام‘‘ ہے اور آج بھى اگر انسانى سماج كى سب سے ذلىل، فرىب خوردہ، شىاطىن الانس كى زىاں كارىوں كى شكار اور گُرگہائے انسان نما كى فرىب دہى وبہىمىت كا تختۂ مشق بننے والى معصوم صنف ِ نازك كو اس كا كھوىا ہوا ’’وقار‘‘، اس كى گمشدہ ’’عزت‘‘، اس كى سلب كردہ ’’قدرومنزلت‘‘ اور سعادت اگر مل سكتى ہے تو وہ صرف اور صرف ’’اسلام‘‘ كى آغوشِ رحمت مىں۔

٭٭٭

--------------------------------

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 11 ، جلد: 95 ‏، ذی الحجة 1432 ہجری مطابق نومبر 2011ء