جانوروں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کریمانہ برتاؤ

 

 

از: مولانا رفیع الدین حنیف قاسمی

‏ وادیِ مصطفی، شاہین نگر، حیدرآباد

 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رحیمی وکریمی نہ صرف یہ کہ انسانوں کے ساتھ مخصوص تھی ؛ بلکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رحمة کی وسعت نے جانوروں کے حقوق کے لیے بھی جدوجہد کی اور ان کو اپنے رحم وکرم کے سایہ سے حصہ وافر عطا کیا، جانوروں کے ساتھ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے برتاوٴ اور ان کے حقوق کے ادائیگی کی تاکید ،ان کے ساتھ بہترین سلوک کی دعوت کی روشنی میں اپنے جانوروں کے ساتھ برتاوٴ کا بھی جائزہ لیں کہ کیا ہمارا جانوروں کے ساتھ وہی برتاوٴ ہے جس کی تاکید نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے ، یاہم جانوروں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لے کر عذاب اور وعیدوں کے مسحق بن رہے ہیں؟ اللہ کابڑافضل ہے کہ اللہ عزوجل نے چھوٹے سے لے کر بڑے جانور تک کو ہمارے تابع اور زیردست کردیا ہے ، ایک چھوٹا سابچہ ایک بڑے اونٹ کی مہار تھامے لیے جاتا ہے، یہ بس اللہ عزوجل کی کرم فرمائی اورانسانیت کے ساتھ اس کا فضل ہے کہ ایک بڑے جانور کو ایک چھوٹا بچہ بھی اپنے تابع کیے دیتا ہے ، ورنہ یہ ضعیف اور ناتواں انسان کی کیا حیثیت کہ وہ اس قدر بڑے اور قوی ہیکل ، تند ومند اس سے کئی کئی گنا بھاری بھرکم جسم وجثہ کے مالک جانوروں کو رام کرسکے ؟۔

جانوروں میں خیر وخوبی

جانورں کی اہمیت اور ان خوبیوں اور خصوصیات کو بتلانے کے لیے یہ بتلادینا کافی ہے کہ قرآن کریم نے متعدد جانوروں اورحیوانات کاتذکرہ کیا ہے ، اتنا ہی نہیں؛ بلکہ کئی ایک سورتین جانوروں کے نام سے موسوم ہیں جیسے :سورة البقرہ(گائے )، الا ٴنعام(چوپائے)، النحل (شہد کی مکھی)، النمل (چیونٹی)، العنکبوت (مکڑی)، الفیل (ہاتھی)۔

اور ایک جگہ اللہ عزوجل نے جانوروں کے فوائد وخصائص اور ان کے منافع کو یوں بیان کیا :

”اور اس نے چوپائے پیدا کیے ، جن میں تمہارے لیے گرم لباس ہیں اور بھی بہت سے منافع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں،ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کر لاوٴ تب بھی اور جب چرانے لے جاوٴ تب بھی،اور وہ تمہارے بوجھ ان شہروں تک اٹھالے جاتے ہیں جہاں تم آدھی جان کیے نہیں پہنچ سکتے تھے ، یقینا تمہارا رب بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔“ (النحل : ۵-۸)۔

حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض جانوروں کے صفات حمیدہ اور ان کے معنوی اور اخلاقی خوبیوں کے حامل ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ احسان اورسلوک کا حکم کیا ہے ، گھوڑے کے تعلق سے فرمایا: ”گھوڑے کے ساتھ روزقیامت تک خیروابستہ ہے“ (مسلم : باب الخیل فی نواصیہا : حدیث: ۴۹۵۵)اور ایک روایت میں فرمایا:”اونٹ اپنے مالک کے لیے عزت کا باعث ہوتاہے اور بکری میں خیر وبرکت ہے“(ابن ماجة :باب اتخاذ الماشیة ، حدیث:۲۳۰۵)اور ایک حدیث میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”مرغ کو گالی نہ دو چونکہ وہ نماز کے لیے جگاتا ہے ۔“(ابوداوٴد: باب ما جاء فی الدیک ، حدیث:۵۱۹۱)

جانوروں کے ساتھ احسان وسلوک اجر وثواب کاباعث

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے ساتھ احسان کا حکم دیا اور اس کو اجر وثواب کاباعث بتلایا:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدکار عورت کی بخشش صرف اس وجہ سے کی گئی کہ ایک مرتبہ اس کا گذر ایک ایسے کنویں پر ہوا جس کے قریب ایک کتا کھڑا پیاس کی شدت سے ہانپ رہا تھا، اور قریب تھاکہ وہ پیاس کی شدت سے ہلاک ہوجائے ، کنویں سے پانی نکالنے کو کچھ تھا نہیں، اس عورت نے اپنا چرمی موزہ نکال کر اپنی اوڑھنی سے باندھا اور پانی نکال کر اس کتے کو پلایا، اس عورت کا یہ فعل بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوا،اور اس کی بخشش کر دی گئی۔(مسلم: باب فضل ساقی البہائم، حدیث:۵۹۹۷)

    ایک شخص نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنے حوض میں پانی بھرتاہوں اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کے لیے ، کسی دوسرے کا اونٹ آکر اس میں سے پانی پیتا ہے توکیا مجھے اس کا اجر ملے گاتو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہر تر جگر رکھنے والے میں اجر وثواب ہے“ (مسند احمد:مسند عبد اللّٰہ بن عمرو،حدیث: ۲۰۷۵)

جانوروں کے ساتھ بدسلوکی پرآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذکرکردہ وعیدیں

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے جانورں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور بدسلوکی کوعذاب وعقاب اور سزا کی وجہ گردانا او رانتہائی درجہ کی معصیت اور گناہ قرار دیا او رانسانی ضمیر جھنجوڑنے والے سخت الفاظ استعمال فرمائے؛ چنانچہ حضرت امام بخاری نے روایت نقل کیا ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی نہ کھلاتی نہ پلاتی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائے(مسلم : باب تحریم قتل الہرة : حدیث: ۵۹۸۹)

حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گذرا ، جس کے منہ پر داغا گیا تھا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا :اس شخص پر لعنت ہو جس نے اس کو داغا ہے(مسلم : باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ، حدیث:۵۶۷۴)اور ایک روایت میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور داغنے سے منع فرمایا ہے(مسلم : باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ، حدیث:۵۶۷۴)اور ایک روایت میں ہے کہ غیلان بن جنادة کہتے ہیں کہ میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ پر آیا جس کی ناک کو میں نے داغ دیا تھا، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جنادہ ! کیاتمہیں داغنے کے لیے صرف چہرے کا عضو ہی ملا تھا، تم سے تو قصاص ہی لیا جائے(مجمع الزوائد:باب ما جاء فی وسم الدواب،حدیث :۱۳۲۴۳)

جانوروں کو لڑانے ، چھیڑ خوانی کرنے پرآں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ گھریلو جانورں کے ساتھ بدسلوکی اوربے جا مارپیٹ کی ممانعت کی ؛ بلکہ غیر پالتو جانوروں کو بھی بے جاپریشان کرنے ، چھیڑ خوانی کو منع فرمایا :

حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایاہے(ترمذی : باب کراہیة التحریش بین البہائم : حدیث: ۱۷۰۹)حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا ایک مرتبہ ہم لوگ رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے جب ایک موقع پر آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا کو دیکھا جس کے ساتھ دو بچے تھے ہم نے ان دونوں بچوں کو پکڑ لیا ، اس کے بعد چڑیاآئی اور اپنے بچوں کی گرفتاری پر احتجاج کرنے لگی جب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حمرہ کو اس طرح بیتاب دیکھا تو فرمایا کہ کس نے اس کے بچوں کو پکڑ کر اس کو مضطرب کر رکھا ہے؟ اس کے بچے اس کو واپس کر دو(ابوداوٴد: باب فی کراہیة قتل الذر ، حدیث۵۲۶۸)حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گذر قریش کے چند نوجوانوں کے پاس سے ہوا جو کسی پرندہ یا مرغی کو نشانہ بنا رہے تھے ، حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا تو وہ وہاں سے منتشر ہوگئے ،اور فرمایاکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندار چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ لگائے(مسلم: باب النہی عن صبر البہائم ، حدیث: ۱۹۵۷)

حضرت مقداد بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے چوپایوں کے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے(مجمع الزوائد:باب النہی عن الضرب علي الوجہ والنہی عن سبہ)۔

مذبوح جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیے جانے والے جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تاکید فرمائی: ”جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اپنی چھری کو تیز کرلو، اور جانور کو آرام دو“ (ترمذی: باب النہی عن المثلة،حدیث:۱۴۰۹) امیر الموٴمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جانور کے ساتھ احسان اور بھلائی یہ ہے کہ اس کو مذبح تک کھینچ کر نہ لے جایا جائے(مجلة الجامعة الاسلامیة ، حقوق الحیوان :۱۱/۴۶۱)

فقہاء نے ذابح کو ذبیحہ کے سامنے چھری تیز کرنے سے منع فرمایا ہے ، اور اس کو بری طرح سے لٹانے سے منع کیا ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بکری کو لٹایااور اپنی چھری کو تیز کرنے لگا تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اس کو دو موت مارنا چاہتے ہو؛ کیوں تم نے اپنی چھری کو اس کے لٹانے سے پہلے تیز نہیں کر لیا(مستدرک حاکم:کتاب الذبائح، حدیث:۷۵۷۰)

ایک حدیث میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں بکری کو ذبح کرتا ہوں تو مجھے اس پر رحم آتا ہے ، حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اگر تم بکری پر رحم کرتے ہو تو خدا تم پر رحم کرے گا(مجمع الزواید:باب النہی عن صبرالدواب والتمثیل بہا،حدیث:۶۰۲۹)

حضرت حین بن عطاء سے مروی ہے کہ فرمایا کہ ایک قصاب نے بکری کو ذبح کرنے کے لیے اس کے کوٹھے کا دروازہ کھولا ، تو وہ بھاگ پڑی ، اس نے اس کا پیچھا کیا ، اور اس کو اس کے پیر سے کھینچ کر لانے لگا ، تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے قصاب ! اس کو نرمی سے کھینچ لاوٴ)(مصنف عبد الرزاق:باب سنة الذبح،حدیث:۸۶۰۹)

موذی جانوروں کو مارنے میں آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کاحکم کیا

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے موذی اور تکلیف دہ جانوروں کو مارنے کاحکم ضرور دیا ہے، مثلاسانپ ، بچھو وغیرہ؛ لیکن ان کے مارنے میں بھی احسان اور بھلائی کاحکم آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے :اللہ نے ہر چیز میں احسان کرنا فرض کیا ہے؛ اس لیے جب تم لوگ کسی جانور کو مارو تو اچھے طریقے سے مارو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو ۔(مسلم : باب الأمر بإحسان الذبح ، ہدیث ۱۹۵۵) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کس نے جلایا؟ ہم نے کہا ہم نے جلایا ہے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ آگ سے تکلیف پہنچائے سوائے آگ کے پیدا کرنے والے کے۔ (ابوداوٴد: باب فی کراہیة حرق العدو بالنار)

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم فرمایا ہے؛ لیکن اس کے مارنے میں بھی نرمی اور احسان کا حکم کیا ہے ، اس کو ایک ہی وار میں مارے ،اس کو متعدد مار میں مارنے پر کم اجر حاصل ہونے کی بات ارشاد فرمائی ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار ڈالا تو اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں(مسلم: باب استحباب قتل الوزع،حدیث:۲۲۳۹۰) اور جس نے اسے دوسری ضرب سے مارا، اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں؛ مگر پہلی دفعہ مارنے والے سے کم اور اگر اس نے تیسری ضرب سے مارا تو اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں؛ لیکن دوسری ضرب سے مارنے والے سے کم۔

مسلم کی روایت میں ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گرگٹ کو ایک ہی وار میں مار ڈالے ، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی ، دوسرے وار میں اس سے کم اور تیسرے وار میں اس سے بھی کم نیکیاں لکھی جائیں گی(مسلم : باب استحباب قتل الوزع، حدیث: ۲۲۴۰)

جانوروں کی سواری کرنے میں بھی حسن سلوک کا خیال رہے

جانور سواری کے لیے ضرور ہیں، یہ حمل ونقل کا ذریعہ بھی ہیں، اسی کو اللہ عزوجل نے فرمایا: ”لِتَرْکَبُوْھَا وَزِیْنَة“

طویل سفر میں اس کے لیے آرام لینے اور چرنے چگنے کا موقع فراہم کرنے کو کہا ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو انکا حصہ دو(مسلم: باب مراعاة مصلحة الدروس،حدیث:۱۹۲۶)یعنی اثنائے راہ اگر ہریالی نظر آئے تو ان کو کچھ چرنے اور آرام لینے کا موقع دو ،بھوکا ، پیاسا مسلسل چلاکر ان کو نہ تھکاوٴ۔

ایک جانور پر تین آدمیوں کو سوار ہونے سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے(مسلم: باب فضائل عبداللہ بن جعفر، حدیث:۲۴۲۸)ابنِ ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ انھوں نے تین لوگوں کو خچر پر سوار دیکھا تو فرمایا : تم میں سے ایک شخص اتر جائے؛کیونکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے شخص پر لعنت فرمائی ہے(مصنف ابن ابی شبیة: من کرہ رکوب ثلالة عل الدابة، حدیث:۲۶۳۸۰)یہ اُس صورت میں ہے؛ جب کہ وہ جانور تین آدمیوں کے بوجھ کو اٹھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، اگر استطاعت رکھتا ہوتو جائز ہے(فتح الباری: ۱۲/۵۲۰)

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور پر اس طرح کھڑے ہونے سے منع فرمایا ہے کہ جس سے اس کو تکلیف ہو۔سنن ابی داوٴد میں ہے : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جانوروں کی پشت کو منبر نہ بناوٴ(ابوداوٴد : باب فی الوقوف علی الدابة، حدیث : ۲۵۶۷)

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو محض اس لیے تمہارے تابع کیا ہے کہ وہ تمہیں ان شہروں اور علاقوں میں پہنچا دیں جہاں تم (پیدل چلنے کے ذریعہ)جانی مشقت ومحنت کے ساتھ ہی پہنچ سکتے تھے یعنی جانوروں سے مقصود ان پر سواری کرنا اور ان کے ذریعہ اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے؛ لہٰذا ان کو ایذا پہنچانا رَوا نہیں ہے۔جس جانور کی خلقت سواری کے لیے نہیں ہوئی جیسے گائے وغیرہ تو ان کی سواری کرنا جائز نہیں۔

جانوروں پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادیں

جانور پر اس کی طاقت اور قوت سے زیاد ہ بوجھ لادنا جائز نہیں،اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے: صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس بات کا علم تھا کہ جو شخص جانور پر اس کی طاقت اور قوت سے زیادہ بوجھ لادے گا تو اس کو روز ِ قیامت حساب کتاب دینا ہوگا ، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے اونٹ سے کہا : اے اونٹ تم اپنے رب کے یہاں میرے سلسلہ میں مخاصمہ نہ کرنا ، میں نے تم پر تمہاری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں لادا (احیاء علوم الدین: الباب الثالث فی الآداب:۱/۲۶۴)

ایک دن نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے، اچانک ایک اونٹ آیا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لوٹنے لگا، اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمر پر اور سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا جس سے وہ پرسکون ہوگیا، پھر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ تو وہ دوڑتا ہوا آیا ،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:”اس کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری ملکیت میں کر دیا ہے، اللہ سے ڈرتے نہیں، یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو، اور اس سے محنت ومشقت کا کام زیادہ لیتے ہو“(ابوداوٴد: باب ما یوٴمر بہ من القیام، حدیث:۲۵۴۹)

حضرت سہل ابن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ بھوک و پیاس کی شدت اور سواری وبار برداری کی زیادتی سے اس کی پیٹھ پیٹ سے لگ گئی تھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان بے زبان چوپایوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب کہ وہ قوی اور سواری کے قابل ہوں اور ان کو اس اچھی حالت میں چھوڑ دو کہ وہ تھکے نہ ہوں(ابوداوٴد: باب ما یومر بہ من القیام، حدیث:۲۵۴۸)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بیل پر بوجھ ڈالے ہوئے اسے ہانک رہا تھا کہ اس بیل نے اس آدمی کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہوں؛ بلکہ مجھے تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے حیرانگی اور گھبراہٹ میں سبحان اللّٰہ کہا اور کہا کیا بیل بھی بولتا ہے؟ تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اس بات پر یقین کرتا ہوں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی یقین کرتے ہیں (مسلم: باب فضائل أبی بکر،حدیث:۲۳۸۸)اس حدیث سے بھی پتہ چلاکہ جانورپر اس کی طاقت سے زیادہ اور مقصدِخلقت کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے اس کا استعمال نہ کیاجائے ۔

خلاصہ کلام

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان آیات واحادیث کی روشنی میں جانوروں کے اہمیت وخصوصیت اور ان کے منافع کا پتہ چلتا ہے اور جانوروں کے تعلق سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ او رنمونہ کابھی پتہ چلتا ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم بقدم جانوروں کے ساتھ رحم وکرم کاحکم دیا ہے ، نہ صرف گھریلو اور پالتو جانوروں؛بلکہ غیر پالتو جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تاکید کی ہے ، نقصان دہ ضرر رساں جانوروں کو بھی کم مار میں مارنے کا حکم دیا ہے اور مذبوحہ جانوروں کے ساتھ بھی بے رحمانہ سلوک سے منع کیا ہے اور جانوروں پر بوجھ کے لادنے اور سواری میں بھی ان کے چارہ پانی کی تاکید کی ہے اور زیادہ بوجھ لادنے اور زیادہ افراد کے سوار ہونے سے منع کیا ہے ۔

$ $ $

 

------------------------------------

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ4، جلد: 99 ‏، جمادی الثانیہ 1436 ہجری مطابق اپریل 2015ء