سلام کا پیغام -قرآن کی روشنی میں

 

 

از: مفتی محمد تبریز عالم قاسمی

‏ استاذ دارالعلوم حیدرآباد  

 

۱- وَإِذَا حُیِّیْتُم بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّواْ بِأَحْسَنَ مِنْھَا أَوْ رُدُّوھَا إِنَّ اللہَ کَانَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبا(النساء: ۸۶)

اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انھیں الفاظ کو لوٹا دو؛ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سلام اور جوابِ سلام کے آداب بتائے ہیں:

حیّاہُ، تحیةً: کے اصل معنی ہیں: کسی کو زندگی کی دعا دینا، مثلا: حیّاک اللہ(اللہ آپ کی عمر دراز کرے) کہنا، سلام اور اس کے ہم معنی دوسرے دعائیہ کلمات بھی چوں کہ کم و بیش یہی یا اسی سے ملتے جلتے مفہوم اپنے اندر رکھتے ہیں، اس وجہ سے لفظ کے عام مفہوم میں وہ سب اس کے اندر شامل ہوجاتے ہیں، اسلام نے حیّاک اللہ یا أنعم صباحاً جیسے طرزِ تحیہ کو بدل کر ”السلام علیکم“ کہنے کا طریقہ جاری کیا؛ چناں چہ جمہور مفسرین کی رائے ہے کہ یہاں تحیہ سے مراد سلام کرنا ہے۔

صاحبِ روح المعانی لکھتے ہیں:

وھي في الأصل کما قال الراغب: الدعاء بالحیاة وطولھا، ثم استعملت في کل دعاء، وکانت العرب إذا لقی بعضھم بعضا تقول: حیاک اللہ تعالیٰ، ثم استعملھا الشرع في السلام وھو تحیة الإسلام(روح المعانی:۵/۱۰۰)

آیت کا پس منظر

جن حالات میں یہ آیت نازل ہوئی، مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات کشیدہ تھے اورعموماً جب تعلقات کشیدہ ہوں تو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں تلخ کلامی کی نوبت نہ آجائے اور گفتگو میں کج روی یا کج خُلقی کی صورت نہ ہو جائے، ان دونوں باتوں کو پیشِ نظر رکھ کر مسلمانوں کو ہدایت دی جارہی ہے کہ تم باہم ملو، تب بھی شائستہ انداز ہونا چاہیے، پیار ومحبت کا برتاوٴ ہونا چاہیے اور دوسروں سے ملو تب بھی تہذیب واخلاق کے دائرے میں رہنا چاہیے، دوسرے احترام سے پیش آئیں تو تم بھی اس کے جواب میں زیادہ احترام سے پیش آوٴ، شائستگی کا جواب، شائستگی ہو، ترش روئی تمہارے منصب کے خلاف ہے، مسلمان دنیا کے لیے داعی ہیں، ان کو تو دوسروں سے بڑھ کر مہذب وشائستہ ہونا چاہیے، سخت کلامی اور دُرشتی سے نفس کی تسکین بھلے ہوجائے؛ لیکن ساتھ ہی وہ شخص نظروں سے گرجاتا ہے اور اس کے کاز کو نقصان پہنچتا ہے۔ (تفسیرانوارالقرآن:۲/۳۱۸)

اس آیت میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم ہے، اور حسنِ اخلاق ومعاشرت کی اس اصل پر زور دیا ہے کہ جب کبھی کوئی شخص تمہیں سلام کرے، تو چاہیے کہ اس نے جو کچھ کہا ہے، اس سے بہتر طور پر اس کا جواب دو، اور اگر بہتر طور پر نہ دو تو کم از کم اسی کی بات اس پر لوٹا دو، یہ حکم یہاں اس مناسبت سے آیا کہ جنگ کی حالت ہو یا امن کی، منافق ہو یا ایمان دار؛ لیکن جو کوئی بھی تم پر سلامتی بھیجے، تمہیں بھی اس کا ویسا ہی جواب دینا چاہیے، اس کے دل کا حال خدا جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔(تفسیر ترجمان القرآن:۱/۳۸۲)

اس آیت سے ثابت شدہ مسائل واحکام ان شاء اللہ ”مسائل واحکام“ کے تحت لکھے جائیں گے۔

۲- یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتاً غَیْرَ بُیُوتِکُمْ حَتَّی تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَی أَھْلِھَا(النور: ۲۷)

اے ایمان والو! تم اپنے گھروں کے سو ادوسرے گھروں میں داخل مت ہو؛ جب تک اجازت حاصل نہ کرولو(اور اجازت لینے سے پہلے) ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو۔

یعنی اول باہر سے سلام کر کے پھر ان سے پوچھو کہ کیا ہمیں اندر آنے کی اجازت ہے اور بغیر اجازت لیے ایسے ہی مت داخل ہو، یعنی کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے دو کام کرنا ضروری ہیں اول کام استیناس یعنی اجازت لینا اور دوسرا گھر والوں کو سلام کرنا۔

۳- فَإِذَا دَخَلْتُم بُیُوتاً فَسَلِّمُوا عَلَی أَنفُسِکُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِندِ اللہِ مُبَارَکَةً طَیِّبَةً(النور: ۶۱)

جب تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے لوگوں کو (یعنی وہاں جو مسلمان ہوں ان کو) سلام کر لیا کرو(جوکہ) دعا کے طور پر (ہے) اور جو خدا کی طرف سے متعین ہے۔ اس آیت میں گھریلو معاشرت کی جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ آمدورفت کے وقت اہل خانہ کے ساتھ کیسا معاملہ ہونا چاہیے۔

۴- وَإِذَا جَاء کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ (الانعام: ۵۴)

اور یہ لوگ جب آپ کے پاس آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ ان کو سلام علیکم کہیے۔

یعنی ان کو سلام کر کے یا ان کے سلام کا جواب دے کر ان کی تکریم اور قدر افزائی کریں، فأکرمھم برد السلام علیھم(تفسیر ابن کثیر: ۲/۱۳۶)

مفتی محمدشفیع دیوبندیلکھتے ہیں:

یہاں سلام علیکم کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ ان کو اللہ جل شانہ کا سلام پہنچا دیجیے، جن میں ان لوگوں کا انتہائی اعز از واکرام ہے، اس صورت میں ان غریب مسلمانوں کی دل شکنی کا بہترین تدارُک ہوگیا، جن کے بارے میں روٴساء قریش نے مجلس سے ہٹا دینے کی تجویز پیش کی تھی اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو سلامتی کی خوش خبری سنا دیجیے، کہ اگر ان لوگوں سے عمل میں کوتاہی یا غلطی بھی ہوئی ہے تو وہ معاف کردی جائے گی، اور یہ ہر قسم کی آفات سے سلامت رہیں گے۔(معارف القرآن: ۳/۳۳۷)

۵- وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً (النساء: ۹۳)

اورتم سے سلام کہے تو اسے یہ مت کہو کہ تو ایمان والانہیں۔

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے: مسلمانوں کادستہ بنو سُلیم کے ایک آدمی سے ملا، تو اس آدمی نے مسلمانوں کو ”السلام علیکم“ کہا، مسلمانوں نے کہا: کہ اس نے جان بچانے کے لیے مسلمانوں والا سلام کیا ہے؛ چناں چہ اسے قتل کر کے اس کی بکریاں ساتھ لے آئے، تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر ابن کثیر: ۱/۵۳۹)

اس سے معلوم ہوا کہ سلام، اسلام کی نشانی ہے اور جوشخص اسلامی سلام کرے، اسے قتل کرنا جائز نہیں؛ بلکہ اسے مسلمان تصور کیا جائے گا، اس کے دل کا حال خدا جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔

۶- ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ ضَیْفِ إِبْرَاھِیْمَ الْمُکْرَمِیْنَإِذْ دَخَلُوا عَلَیْہِ فَقَالُوا سَلَاماً قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنکَرُونَ (الذاریات: ۲۴،۲۵)

کیا آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معزز مہمانوں کی خبر (بھی) پہنچی ہے؟ وہ جب ان کے یہاں آئے تو سلام کیا، حضرت ابراہیم علیہ الصلاة والسلام نے جواب میں) سلام کہا اور (کہا) یہ اجنبی لوگ ہیں۔

ایک نکتہ: حضرت ابراہیم اور فرشتوں کی باہمی ملاقات میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ فرشتوں نے ”سلاماً“ نصب کے ساتھ کہا؛ جب کہ خلیل اللہ نے جواب میں ”سلامٌ“ رفع کے ساتھ کہا، اس کی وجہ ابن کثیر یہ بتاتے ہیں کہ رفع، نصب سے اقوی اور زیادہ بہتر ہے؛ کیوں کہ سلام کے مرفوع ہونے کی صورت میں یہ جملہ اسمیہ بنا؛ جس میں دوام واستمرار اور پائیداری ہوتی ہے اور سلاماً نصب کی صورت میں جملہ فعلیہ بنا سلمت سلاما، جو حُدوث وتجدُّد پر دلالت کرتا ہے، تو جیسا کہ قرآن کریم میں حکم ہے کہ سلام کا جواب، سلام کرنے والے کے الفاظ سے بہتر الفاظ میں ہو، حضرت خلیل اللہ نے اس کی تعمیل فرمائی، اس کی مزید تفصیل ”رموزِ سلام“ کے تحت آئے گی۔(ابن کثیر: ۴/۲۳۶)

۷- تَحِیَّتُھُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہُ سَلَامٌ وَأَعَدَّ لَھُمْ أَجْراً کَرِیْماً (الاحزاب: ۴۴)

جس دن مومنین کاملین اپنے رب سے ملاقات کریں گے، ان کاتحیہ سلٰمٌ ہوگا اور اللہ نے ان کے واسطے بڑا اچھا اجر تیار کررکھا ہے۔

مفتی محمدشفیع دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:

یہ اسی صلاة کی توضیح وتفسیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں پر ہوتی ہے، یعنی جس روز یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملیں گے تو اس کی طرف سے ان کا اعزازی خطاب، سلام سے کیا جائے گا، یعنی السلام علیکم، کہا جائے گا، اللہ تعالیٰ سے ملنے کا دن کون سا ہوگا؟ امام راغب وغیرہ نے فرمایا کہ مراد اس سے روز قیامت ہے اور بعض ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ جنت میں داخلے کا وقت مراد ہے؛ جہاں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی سلام پہنچے گا اور سب فرشتے بھی سلام کریں گے، اور بعض حضرات مفسرین نے اللہ تعالیٰ سے ملنے کا دن موت کا دن قرار دیا ہے کہ وہ دن سارے عالم سے چھوٹ کر صرف ایک اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کا دن ہے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ ملک الموت جب کسی مومن کی روح قبض کرنے کے لیے آتا ہے تو اول اس کو یہ پیام پہنچاتا ہے کہ تیرے رب نے تجھے سلام کیا ہے، اور لفظ لقاء ان تینوں حالات پر صادق ہے؛ اس لیے ان اقوال میں کوئی تضاد وتعارض نہیں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سلام تینوں حالات میں ہوتا ہو۔(روح المعانی)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا باہم ایک دوسرے کو تحیہ لفظ ”السلام علیکم“ ہونا چاہیے، خواہ بڑے کی طرف سے چھوٹے کے لیے ہو یا چھوٹے کی طرف سے بڑے کے لیے ہو۔(معارف القرآن: ۷/۱۷۶)

علامہ قرطبی نے ایک روایت ذکر کی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن بندے کی روح قبض کرنے سے پہلے ملک الموت، اسے خود سلام کرتے ہیں۔

وقد ورد أنہ لا یقبض روح موٴمن إلا سلم علیہ، روي عن البراء بن عازب قال: ”تحیتھم یوم یلقونہ سلم“ فیسلم ملک الموت علی الموٴمن عند قبض روحہ، لا یقبض روحہ حتی یسلم علیہ (مختصر تفسیر القرطبی: ۳/۴۷۹)

اب کل چار اقوال ہوگئے۔

۸- وَیُلَقَّوْنَ فِیْھَا تَحِیَّةً وَسَلَاماً (الفرقان: ۷۴)

یعنی جنت کی دوسری نعمتوں کے ساتھ، ان کو (مومنین) کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوگا کہ فرشتے ان کو مبارک باد دیں گے اور سلام کریں گے۔(معارف القرآن ۶/۴۹۸)

۹- لَا یَسْمَعُونَ فِیْھَا لَغْواً وَلَا تَأْثِیْماً إِلَّا قِیْلاً سَلَاماً سَلَاماً (الواقعة: ۲۵،۲۶)

(اور) وہاں نہ بَک بَک سنیں گے اور نہ وہ کوئی اور بے ہودہ بات (سنیں گے، یعنی شراب پی کر یا ویسے بھی ایسی چیزیں نہ پائی جاویں گی جن سے عیش مُکَدَّر ہوتی ہے) بس (ہر طرف سے) سلام ہی سلام کی آواز آوے گی․․․․(جو کہ دلیل، اکرام واعزاز کی ہے، غرض روحانی وجسمانی ہر طرح کی لذت ومسرت اعلیٰ درجہ کی ہوگی) (معارف القرآن: ۸/۲۶۷)

سورہ واقعہ کی ابتدائی آیات میں، میدانِ حشر میں حاضرین کی جو تین قسمیں ہوں گی، ان میں سے ”سابقین“کے لیے بہت ساری نعمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ وہ لوگ ہر طرف سلام کے ترانے سنیں گے، جو رحمت اور محبت کی نشانی ہے اور غالباً اسی وجہ سے جنت کا ایک نام ”دارالسلام“ بھی ہے۔

۱۰- سَلاَمٌ عَلَیْکُم بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ (الرعد: ۲۴)

سورہ رعد کی آیات ۲۰ تا ۲۴ میں اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بندوں کی نو صفات کا تذکرہ ہے، اس کے بعد ان کی جزاء کا بیان ہے، اخیرمیں، دارِ آخرت میں ان کی فلاح وکامیابی کا مزید بیان یہ ہے کہ فرشتے ہر دروازے سے ان کو سلام کرتے ہوئے داخل ہوں گے اور کہیں گے: تمہارے صبر کی وجہ سے تمام تکلیفوں سے سلامتی ہے اور کیسا اچھا انجام ہے دار آخرت کا۔

۱۱- سَلَامٌ قَوْلاً مِن رَّبٍّ رَّحِیْمٍ (یس:۵۸)

اور ان کو (اہل جنت) پروردگار مہربان کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا(یعنی حق تعالیٰ فرمائیں گے السلام علیکم یا أہل الجنة(رواہ ابن ماجة) (معارف القرآن: ۷/۴۰۰)

۱۲- تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلاَمٌ(یونس: ۱۰)

(پھرجب (اہل جنت) ایک دوسرے کو دیکھیں گے تو ان کا باہمی سلام یہ ہوگا السلام علیکم․

اس آیت میں اہل جنت کا حال بتایا گیا ہے کہ تحیتہم فیہا سلٰم، تحیہ عرف میں اس کلمہ کو کہا جاتا ہے، جس کے ذریعہ کسی آنے والے یا ملنے والے شخص کا استقبال کیاجاتا ہے جیسے سلام یا” خوش آمدید“ یا ”أہلا وسہلا“ وغیرہ، اس آیت نے بتادیا کہ اللہ جلَّ شانہ کی طرف سے یا فرشتوں کی طرف سے اہل جنت کا تحیہ لفظ سلام سے ہوگا، یعنی یہ خوش خبری کہ تم ہر تکلیف اور ناگوار چیز سے سلامت رہو گے، یہ سلام خود حق تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جیسے سورہ یس: ۵۸ میں ہے سَلَامٌ قَوْلاً مِن رَّبٍّ رَّحِیْمٍ اور فرشتوں کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے، جیسے دوسری جگہ ارشاد ہے: والملئکة یدخلون علیھم من کل باب سلم علیکم یعنی فرشتے اہل جنت کے پاس ہر دروازہ سے سلام علیکم کہتے ہوئے داخل ہوں گے اور ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں کہ کسی وقت براہ راست اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچے اور کسی وقت فرشتوں کی طرف سے اور سلام کا لفظ اگر چہ دنیا میں دعا ہے؛ لیکن جنت میں پہنچ کر تو ہرمطلب حاصل ہوگا؛ اس لیے وہاں یہ لفظ دعا کے بجائے خوشی کا کلمہ ہوگا۔(روح المعانی)(معارف القرآن: ۴/۵۱۲)

۱۳- وَقَالَ لَھُمْ خَزَنَتُھَا سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوھَا خَالِدِیْنَ․(الزمر: ۷۳)

یعنی جب متقی لوگ جنت میں پہنچ جائیں گے تومحافظ فرشتے ان سے کہیں گے السلام علیکم تم پر سلامتی ہو، تم مزے میں رہو، پس جنت میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ! یعنی ان جنتی مہمانوں کے سرپر عزت وشرافت کا یہ زریں تاج لا محدود زمانے تک کے لیے باندھ دیا جائے گا اور اہل جنت کا یہ استقبال ایک تاریخ ساز استقبال ہوگا، اس آیت میں قابل غور بات یہ ہے کہ ایسے مرحلہ پر خطبہٴ استقبالیہ کے قائم مقام یہ الفاظِ سلام ہی قابلِ ترجیح سمجھے گئے، آخر کیوں؟ یقینا اس میں کوئی خصوصی تاثیراور معنویت کا عنصر چھپا ہوا ہے؛ جس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔

۱۴- وَنَادَوْاْ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ (الاعراف: ۴۶)

مذکورہ آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو جہنم سے تو نجات پاگئے؛ مگر ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے؛ البتہ اس کے امیدوار ہیں کہ وہ بھی جنت میں داخل ہوجائیں، ان لوگوں کو اہل اعراف کہا جاتاہے۔

اب اصل آیت کا مضمون دیکھیے، جس میں ارشاد ہے: اہل اعراف اہلِ جنت کو آواز دے کر کہیں گے (سلامٌ علیکم) یہ لفظ دنیامیں بھی باہمی ملاقات کے وقت بطور تحفہ واکرام کے بولا جاتا ہے اور مسنون ہے اور بعد موت کے، قبروں کی زیارت کے وقت بھی، اور محشر اور جنت میں بھی؛ لیکن آیات اور روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں السلام علیکم کہنا مسنون ہے اور اس دنیا سے گذرنے کے بعد بغیر الف لام کے سلامٌ علیکم کا لفظ مسنون ہے، زیارتِ قبور کاجو کلمہ قرآن مجید میں مذکور ہے، وہ بھی سلامٌ علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدارآیا ہے اور فرشتے جب اہلِ جنت کا استقبال کریں گے اس وقت بھی یہ لفظ اسی عنوان سے آیا ہے، سلامٌ علیکم طبتم فادخلوہا خالدین اور یہاں بھی اہل اعراف اہل جنت کو اسی لفظ کے ساتھ سلام کریں گے۔(معارف القرآن: ۳/۷۶۸)

۱۵- لَھُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِندَ رَبِّھِمْ وَھُوَ وَلِیُّھُمْ بِمَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ(الانعام: ۱۲۷)

یعنی جو لوگ قرآنی ہدایات قبول کرنے والے ہیں، ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے، ان کے رب کے پاس۔

اس آیت میں صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کے لیے ثمرہ کا بیان ہے کہ ان کے واسطے دارالسلام ہے؛اسی لیے دخولِ جنت کے وقت ہی انھیں سلامتی کا پیغام سنا دیا جائے گا اور کہا جائے گا ادْخُلُوھَا بِسَلاَمٍ آمِنِیْنَ (الحجر: ۴۶)

حضرت مفتی محمدشفیع دیوبندی لکھتے ہیں:

اس آیت میں لفظ دار کے معنی گھر اور سلام کے معنی تمام آفتوں، مصیبتوں اور محنتوں سے سلامتی کے ہیں، اس لیے دارالسلام اس گھر کو کہاجاتا ہے، جس میں کسی تکلیف ومشقت اور رنج وغم اور آفت ومصیبت کا گذر نہ ہو اور وہ ظاہر ہے کہ جنت ہی ہوسکتی ہے۔

اور حضرت عبد اللہ ابن عباس نے فرمایا: کہ ”السلام“ اللہ جل شانہ کا نام ہے اور دارالسلام کے معنی ہیں اللہ کا گھر اور ظاہر ہے کہ اللہ کا گھر امن وسلامتی کی جگہ ہوتی ہے؛ اس لیے حاصل معنی پھر یہی ہوگئے کہ وہ گھر جس میں ہر طرح کا امن وسکون اور سلامتی واطمینان ہو، جنت کو دارالسلام فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ جنت ہی صرف وہ جگہ ہے جہاں انسان کو ہر قسم کی تکلیف، پریشانی اور اذیت اور ہر خلافِ طبع چیز سے مکمل اور دائمی سلامتی حاصل ہوتی ہے، جو دنیا میں نہ کسی بڑے بادشاہ کو کبھی حاصل ہوئی اور نہ بڑے سے بڑے نبی ورسول کو؛ کیوں کہ دنیائے فانی کا یہ عالم ایسی مکمل اور دائمی راحت کا مقام ہی نہیں۔

․․․․․ اور رب کے پاس ہونے کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ دارالسلام یہاں نقد نہیں ملتا؛ بلکہ جب وہ قیامت کے روز اپنے رب کے پاس جائیں گے اس وقت ملے گا، اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ دارالسلام کا وعدہ غلط نہیں ہوسکتا، رب کریم اس کا ضامن ہے وہ اس کے پاس محفوظ ہے، اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس دارالسلام کی نعمتوں اور راحتوں کو آج کوئی تصور میں بھی نہیں لا سکتا، رب ہی جانتا ہے جس کے پاس خزانہ محفوظ ہے۔(معارف القرآن:۳/۴۴۸)

مذکورہ آیات میں سلام کاتذکرہ، بطور تحیہ کے تھا اور عام طور سے مومنین کا ملین کے لیے استعمال ہوا ہے،یا ادب وتہذیب سکھانے کے لیے؛ اس کے علاوہ قرآن میں یہ کلمہ انبیاء ورسل کے لیے بھی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اکرام اور بشارت کے استعمال کیا گیا ہے؛ جس میں عنایت وتوجہ اور محبت کارس بھرا ہوا ہے، وہ آیات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۶-  وَسَلَامٌ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیّاً(مریم: ۱۵)

اور سلام پہنچے ان پر (حضرت یحییٰ) جس دن وہ پیدا کیے گئے اور جس دن دنیا سے رخصت ہوں اور جس دن (قیامت میں) زندہ ہوکر اٹھائے جائیں۔

یعنی حضرت یحییٰ علیہ الصلاة والسلام ایسے وجیہ اور مکرم تھے کہ ان کے حق میں، منجانب اللہ یہ ارشاد ہوتا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچے، جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں اور جس دن(قیامت میں) زندہ ہوکر اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تین اوقات میں سلامتی کی دعا جو دی گئی ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں اوقات میں انسان انتہائی ضعیف اور ضرورت مند ہوتا ہے، اور اللہ کی طرف سے نصرت ، مدد اور سلامتی کا خواہاں ہوتا ہے، پیدائش کاوقت، موت کا وقت بڑا نازک ہوتا ہے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کے وقت کی نزاکت کا کیا پوچھنا!(بدائع الفوائد:۲/ ۱۶۸)

علامہ طبری کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں”سلام“ سے مشہور ومتعارف سلام مراد نہیں ہے؛ بلکہ یہ سلام امن وامان کے معنی میں ہے؛ لیکن ابن عطیہ نے اس رائے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اظہر قول یہ ہے کہ یہاں سلام سے وہی متعارف تحیہ مراد ہے، اور امن وامان کے مقابلہ میں یہ معنی زیادہ بہتر اور قرینِ قیاس ہے؛ کیوں کہ امن وامان کا مفہوم تو حضرت یحییٰ علیہ الصلاة والسلام سے عصیان کی نفی کر کے حاصل ہوجاتا ہے، شرف وسعادت تو اس میں ہے کہ اللہ انھیں سلام کریں۔(القرطبی: ۳/۵۸)

۱۷- سَلَامٌ عَلَی نُوحٍ فِیْ الْعَالَمِیْنَ(الصافات: ۷۹)

اور ہم نے ان کے لیے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی کہ نوح پر سلام ہو دنیا والوں میں)

اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد جو لوگ پیدا ہوئے،ان کی نظر میں حضرت نوح کو ایسا معزز ومکرم بنادیا کہ وہ قیامت تک حضرت نوح علیہ السلام کے لیے سلامتی کی دعا کرتے رہیں گے؛ چناں چہ واقعہ بھی یہی ہے کہ تمام وہ مذاہب جو اپنے آپ کو آسمانی کتابوں سے منسوب کرتے ہیں، سب کے سب حضرت نوح علیہ السلام کی نبوت اورتقدس کے قائل ہیں، مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور نصرانی بھی آپ کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔(معارف القرآن:۷/۴۴۴)

۱۸-  سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاہِیْمَ (الصافات: ۱۰۸، ۱۰۹)

سلام ہو ابراہیم پر!

۱۹- سَلَامٌ عَلَی مُوسَی وَھَارُون(الصافات:۱۲۰)

سلام ہے موسیٰ وہارون پر۔

۲۰- سَلَامٌ عَلَی إِلْیَاسِیْنَ(الصافات: ۱۳۰)  

سلام ہے الیاس پر۔

۲۱- وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْن(الصافات: ۱۸۱)

اور سلام ہے رسولوں پر۔

شروع میں اللہ تعالیٰ نے کچھ پیغمبروں کے اسماء کی صراحت کر کے سلام بھیجا ہے اور اخیر آیت میں ”المرسلین“ کا لفظ استعمال کر کے جملہ انبیاء ورسل پر سلامتی بھیجی ہے؛ چناں چہ اس کا اثر دنیا میں یہ ظاہر ہوا کہ جب بھی انبیاء ورسل کے نام آتے ہیں، مسلمان اُن کے ناموں کے ساتھ”علیہ السلام“ کا اضافہ کرتے ہیں، اِس طرح اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل کو لوگوں کی دعاوٴں اور سلامتی کی بشارتوں کا مرکز بنادیا۔

۲۲- قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلَی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفَی(النمل: ۵۹)

انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کے کچھ حالات اور ان پر عذاب آنے کے واقعات کا ذکر کرنے کے بعد یہ جملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کی امت کو دنیا کے عذابِ عام سے مامون کردیا گیا ہے، اور انبیاء سابقین اور اللہ کے برگزیدہ بندوں پر سلام بھیجئے۔

جمہور مفسرین نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے اور بعض نے اس کا مخاطب بھی حضرت لوط علیہ السلام کو قرار دیا ہے، اس آیت میں الَّذِیْنَ اصْطَفٰی کے الفاظ سے ظاہر یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام مراد ہیں؛ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ہے وسلٰمٌ علی المرسلین اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہٴ کرام ہیں، سفیان ثوری نے اسی کواختیار کیا ہے(أخرجہ عبد بن حمید والبزاز وابن جریر وغیرہم)

اگر آیت میں الذین اصطفٰی سے مراد صحابہٴ کرام لیے جائیں جیسا کہ ابن عباس کی روایت میں ہے تو اس آیت سے غیر ابنیاء پر سلام بھیجنے کے لیے انہیں ”علیہ السلام“ کہنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔

مسئلہ: اس آیت سے خطبہ کے آداب بھی ثابت ہوئے؛ کہ وہ اللہ کی حمد اور انبیاء علیہم السلام پر درود وسلام سے شروع ہونا چاہیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام کے تمام خطبات میں یہی معمول رہا ہے؛ بلکہ ہر اہم کام کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام مسنون ومستحب ہے،کذا فی الروح۔ (معارف القرآن :۶/۵۹۲)

۲۳- قُلْنَا یَا نَارُ کُونِیْ بَرْداً وَسَلَاماً عَلَی إِبْرَاھِیْمَ (انبیاء: ۵۹)

ہم نے (آگ کو) حکم دیا کہ اے آگ تو ٹھنڈی اور بے گزند ہوجا، ابراہیم کے حق میں (یعنی نہ ایسی گرم رہ جس سے جلنے کی نوبت آوے اور نہ بہت ٹھنڈی برف ہوجا کہ اس کی ٹھنڈک سے تکلیف پہنچے؛ بلکہ مثل ہوا ئے معتدل کے بن جا؛ چناں چہ ایسا ہی ہوگیا)

بردو سلام کا مفہوم

اوپر گذر چکا ہے کہ آگ کے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر برد وسلام ہونے کی یہ صورت بھی ممکن ہے کہ آگ، آگ ہی نہ رہی ہو؛ بلکہ ہوامیں تبدیل ہوگئی ہو؛ مگر ظاہر یہ ہے کہ آگ اپنی حقیقت میں آگ ہی رہی، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آس پاس کے علاوہ دوسری چیزوں کو جلاتی رہی؛ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جن رسیوں میں باندھ کر آگ میں ڈالا گیا تھا، اُن رسیوں کو بھی آگ ہی نے جلا کر ختم کیا؛ مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بدن مبارک تک کوئی آنچ نہیں آئی (کما في بعض الروایات)

تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس آگ میں سات روز رہے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے عمر میں کبھی ایسی راحت نہیں ملی جتنی ان سات دنوں میں حاصل تھی (مظہری) (معارف القرآن: ۶/۲۰۲)

۲۴- سَلَامٌ ھِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر: ۵)

(اور وہ شبِ قدر) سراپا سلام ہے (جیسا کہ حدیث بیہقی میں حضرت انس سے مرفوعاً مروی ہے: کہ شب قدر میں حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کے ایک گروہ میں آتے ہیں اور جس شخص کو قیام، قعود اورذکر میں مشغول دیکھتے ہیں تو اس پر صلاة بھیجتے ہیں یعنی اس کے لیے دعاء ِرحمت کرتے ہیں، اور خازن نے ابن الجوزی سے اس روایت میں، یسلّمون بھی بڑھایا ہے، یعنی سلامتی کی دعا کرتے ہیں، اور یصلون کا حاصل بھی یہی ہے ؛کیوں کہ رحمت وسلامتی میں تلازُم ہے، اسی کو قرآن میں سلام فرمایاہے اور امرِ خیر سے مراد یہی ہے اور نیز روایات میں، اِس میں توبہ قبول ہونا، ابواب سماء کا مفتوح ہونا اور ہر مومن پر ملائکہ کا سلام کرنا آیاہے، (کذا فی الدر المنثور)․․․․( اور) وہ شب قدر (اسی صفت وبرکت کے ساتھ) طلوع فجر تک رہتی ہے۔

سلامٌ،عبارت کی اصل ہي سلامٌ ہے، لفظ ہيحذف کردیا گیا، معنی یہ ہیں کہ یہ رات سلام اور سلامتی ہی ہے اور خیر ہی خیر ہے، اس میں شرکا نام نہیں(قرطبی) اور بعض حضرات نے تقدیر عبارت سلام ہو قرار دے کر اس کو من کل أمر کی صفت بنایا اور معنی یہ ہوئے کہ یہ فرشتے ہر ایسا امر لے کر آتے ہیں جو خیر وسلام ہے۔(مظہری) (معارف القرآن:۸/۷۹۴)

راقم الحروف عرض گزار ہے :کہ ان تمام آیات اور اس کی تفاسیرسے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ لفظ ”سلام“ راحت اور سلامتی کے حوالے سے ایک بحربیکراں ہے، جس کی گہرائی وگیرائی اللہ کو ہی معلوم ہے اور اسی لیے یہ دعا اتنی اہم اور با عظمت سمجھی گئی، اس کے باوجود اگر کوئی سلام سے بے رخی برتے یا سلام کی اصلی شکل کو مسخ کر کے غیروں کی رَوِش اپنائے یا سلام کو جوں کا توں رکھے؛ مگر اس کے تقاضوں سے نابلد رہے تو یہ قابلِ افسوس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک لمحہٴ فکریہ ہے، جس کی اصلاح ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ سلام پھیلانے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔

$ $ $

 

-----------------------------------

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ5، جلد: 99 ‏، رجب 1436 ہجری مطابق مئی 2015ء