موسمِ گرما اور پانی پلانے کی فضیلت

 

از: مولانا رفیع الدین حنیف قاسمی

وادی مصطفی شاہین نگر ،حیدرآباد

 

موسمِ گرما کی آمد آمد ہے ، ایسے میں انسان کو پیاس شدت سے لگتی ہے ، اس موقع سے بلا لحاظِ مذہب وملت مخلوقِ خدا کی خدمت کی شوقین لوگ مختلف مقامات اور بازاروں اور چوراہوں پر پانی پلانے کانظم کرتے ہیں، اس عمل کی ہمت افزائی کی جانی چاہیے ، اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی جانی چاہیے اور یہ عمل بڑے ثواب کا حامل ہے پھر کیوں کر رسول ِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی ترغیب نہ دیتے ؟ اسلام جیسا انسانیت کابہی خواہ ، اور انسانیت کا پاسدار مذہب اس کی تعلیم سے کیسے پہلو تہی کرتا؟ چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں اس کی اہمیت وافادیت پر زوردیا گیا ہے ، یہ عمل بہ ظاہر نہایت معمولی ہونے کے باوجود نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔میں نے شہر حیدرآباد میں دیکھا ہے کہ بعض غیر مسلم تنظیموں کی طرف سے بھی بڑے پیمانے پر موسم گرما میں پانی پلانے کا نظم بڑے ہتمام سے ہوتا ہے ۔ہم تو اس نبی کے امتی ہیں جن کی تعلیم یہ ہے کہ اللہ کے راہ میں خرچ کرنا در اصل یہ اللہ کے خزانے میں اپنے لیے جمع کرنا ہے۔بعض علاقوں میں گرما کے موسم میں پانی کے لیے لوگ ترس جاتے ہیں ، ایسے میں جب کہ بورویل وغیرہ بھی سوکھ جاتے ہیں ، اس طرح کی بستیوں میں پانی کے ٹینکروں کے ذریعے آب رسانی کی خدمت میں شامل ہونا اور اپنے اور اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے پانی کا نظم کرنا ثواب کا ذریعہ ہوگا ۔یہ تو انسان ہیں،نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں جانوروں تک کے لیے پانی کے نظم کرنے پر اجر وثواب اور جنت کی بشارتیں سنائی گئی ہیں ۔

ٹھنڈا پانی اللہ کی عظیم نعمت

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے مبارکہ ہے : ”اللّٰھم اجعل حبّک أحبّ إلی من نفسي وأھلي ومن الماء البارد“ (ترمذی: باب ما جاء فی عقد التسبیح بالید، حدیث:۳۴۸۰)

( اے اللہ میرے دل میں اپنی محبت میری جان میرے اہل اور ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی زیادہ پیاری بنادے ) یہاں پر اللہ عزوجل کی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت سے زیادہ کرنے کو کہا گیا، جس سے پتہ چلا کہ ٹھنڈا پانی بڑی نعمت ہے ۔

پانی پلانا - صدقہ جاریہ

پانی پلانی کو احادیث نبویہ میں صدقہٴ جاریہ فرمایا گیاہے ، جس کا ثواب مرنے کے بعد بھی انسان کو ملتارہتا ہے ، کنویں ، بوریل، ٹانکی وغیرہ کی شکل میں غریبوں اور ناداروں کے لیے پانی کا نظم کرنا یہ مرحومین کے لیے صدقہٴ جاریہ ہوسکتا ہے ۔

سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول : میری والدہ وفات پاگئی ہیں اوران کی طرف سے کونسا صدقہ افضل رہے گا؟ اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کا صدقہ؛ چنانچہ انہوں نے ایک کنواں کھدوا کر وقف کردیا اور کہا یہ سعد کی والدہ کے ثواب کے لیے ہے ”فحفر بئرا وقال : ھذہ لأم سعد“ (ابوداوٴد: باب فی فضل سقی الماء، حدیث:۱۶۸۳)۔

پانی پلانا بہترین صدقہ

پانی پلانے اور پیاسوں کی سیرابی کا عمل یہ ایک نہایت بہترین صدقہ ہے ، جس کی احادیث میں ترغیب دی گئی ہے؛چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”بہترین صدقہ پانی پلانا ہے ، کیا تم نے جہنمیوں کے اس قول کو نہیں سناجب انہوں نے اہل جنت سے مدد چاہی او ران لوگوں نے کہا:”أَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ“ ہم پر تھوڑا سا پانی بہا دو ،یا کچھ اس چیز میں سے دو جو تمہیں اللہ نے دیا ہے(مسند ابی یعلی، مسند ابن عباس، حدیث: ۶۲۷۳) ۔

اورایک روایت میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے سعد! کیا میں تمہیں ایسا ہلکا صدقہ جس میں بوجھ بالکل کم ہو نہ بتاوٴں؟ فرمایا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”سقی الماء“ پانی پلانا؛ چنانچہ حضرت سعد نے پانی پلایا۔(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث:۵۲۴۷)

اور فرمایا کہ : جہاں پانی کی کثرت ہو ، ایسی جگہ اگر کسی نے پانی پلایا تواس کو غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جہاں پانی کی کثرت نہ ہو یعنی بمشکل پانی ملے ، ایسی جلہ اگر کسی نے پانی پلایا تو اس کو ایسا ثواب ملتا ہے، جیسے اس کو زندگی بخش دی ہو ”من سقی مسلما شربة من ماء حیث یوجد الماء فکأنما اعتق رقبة، ومن سقی مسلما شربة من ماء حیث لا یوجد الماء؛ فکأنما أحیاھا“ ( ابن ماجة : باب المسلمین شرکاء فی الثلث، حدیث: ۲۴۷۴)

پانی پلانا -مغفرت وبخشش کا باعث

پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ، ثواب، اجر آخرت اور خوشنودی رب کا نہایت بڑا ذریعہ اور مغفرت کا باعث ہوتا ہے ،صرف اسی عمل کی وجہ سے انسان جہنم سے خلاصی حاصل کر کے جنت کا مستحق ہوسکتا ہے ، اسی کوحدیث میں یوں فرمایا گیا:

ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی چل رہا تھا، اسی دوران میں اسے پیاس لگی وہ ایک کنویں میں اترا اور اس سے پانی پیا، کنویں سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے کہا کہ اس کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہوگی جیسی مجھے لگی تھی؛ چنانچہ اس نے اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑا پھر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا، اللہ نے اس کی نیکی قبول کی، اور اس کو بخش دیا، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا چوپائے میں بھی ہمارے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر تر جگر والے یعنی جاندار میں ثواب ہے”فی کل کبد رطبة أجر“(بخاری: باب فضل سقی الماء: حدیث: ۲۲۳۴،)۔

دنیا کے پانی کے بدلے جنت کی شراب

دنیا میں پانی پلانے کا اجر وثواب اس قدر ہے کہ اس پانی پلانے کے عوض اللہ عزوجل قیامت کے دن اس شخص کو اس پانی کے بدلے جنت کی شراب مرحمت فرمائیں گے؛ چنانچہ حدیث میں آیا ہے:

 حضرت ابوسعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کسی ننگے کو کپڑا پہنائے گا تو اللہ تعالی اس کو جنت کا ہرا لباس پہنائے گا اور جو مسلمان کسی بھوکے کو کھانا کھلائے تو اللہ تعالی اس کو جنت کے پھل کھلائے گا، اور جو مسلمان کسی پیاسے کو پانی پلائے تو اس کو اللہ تعالی جنت کی شراب پلائے گا۔(ابوداوٴد: باب فی فضل سقی الماء ، حدیث: ۱۶۸۴)

جنت سے قریب اور جہنم سے دور کرنے والا عمل

انسانوں کو پانی پلانا اور شدت پیاس میں ان کو سیراب کرنایہ ایساعمل ہے جس کو جنت سے قربت اور جہنم سے دوری کاباعث بتلایا گیا ہے ۔ایک روایت میں ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا، اور کہنے لگا: مجھے کوئی ایسا عمل بتلادیجیے جو مجھے اللہ عزوجل کی اطاعت سے قریب اور جہنم سے دور کردے ، فرمایا: کیا تم ان دونوں پر عمل کرو گے ؟ تو اس نے کہا : ہاں ، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصاف کی بات کہو اور زائدچیز دوسروں کو دے دو، اس نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نہ تو انصاف کی بات کرسکتا ہوں اور نہ زائد چیز کسی کو دے سکتا ہوں ، فرمایا: کھانا کھلاوٴ اور سلام کرو، اس نے کہا : یہ بھی مشکل ہے ، فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں، اس نے کہا:ہاں، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک اونٹنی اور ایک مشکیزہ لو، پھر ان لوگوں کے گھر جاوٴ جن کو پانی کبھی کبھی ملتا ہے ، انھیں پانی پلاوٴ، شاید کہ تمہاری اونٹنی ہلاک ہواور تمہارے مشکیزہ پھٹ جائے اس سے پہلے تمہارے لیے جنت واجب ہوجائے گی، راوی کہتے ہیں کہ : وہ دیہاتی تکبیر کہتا ہوا چلا، کہتے ہیں : اس کے مشکیزہ کے پھٹنے اور اس کی اونٹنی کے ہلاک ہونے سے پہلے وہ شہادت سے مشرف ہوگیا ”فما انخرق سقائہ ولا ہلک بعیرہ حتی قتل شھیدا“(السنن الکبری للبیہقی، باب ما ورد فی سقی الماء، حدیث: ۷۵۹۸)

جانوروں کو سیراب کرنا بھی ثواب کا باعث

اتنا ہی نہیں کہ انسانی تشنگی دور کرنے پر ہی انسان کو ثواب ملتا ہے ؛ بلکہ کسی پیاسے جانور کوپانی پلانے اور اور اس کی سیرابی کا سامان کرنے پر بھی اجر وثواب کاوعدہ کیا گیا ہے؛ چنانچہ ایک روایت میں حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں حاضر خدمت ہوا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات پوچھنا شروع کر دیئے، حتی کہ میرے پاس سوالات ختم ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ اور یاد کرلو، ان سوالات میں سے ایک سوال میں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) وہ بھٹکے ہوئے اونٹ جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ جب کہ میں نے وہ پانی اپنے اونٹوں کے لیے بھرا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔(مسند احمد، حدیث سراقة بن جعشم، حدیث: ۱۷۶۲۴)

خلاصہ یہ کہ پیاسوں کو پانی پلانا، تشنہ لبوں کی سیرابی کاسامان کرنا، انسانوں کی پانی کی ضروریات کی تکمیل یہ نہایت اجر وثواب اور بلندی درجات کا باعث ہے، نہ صرف انسانوں کو پانی پلانا ؛ بلکہ پیاسے جانوروں کے لیے پانی کانظم کرنا بھی ثواب اور اجرِ آخرت کا باعث ہے ۔

$$$

 

-------------------------------------------------------------

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ5-6، جلد:101 ‏،شعبان۔رمضان 1438 ہجری مطابق مئی۔جون 2017ء