ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 8-9 ، جلد: 95 ‏، رمضان — شوال 1432 ہجری مطابق اگست — ستمبر 2011ء

 

 

نبیِ رحمت ﷺ اور کسبِ معاش

از:  مولانا توحید عالم بجنوری، مدرس عربی دارالعلوم دیوبند

 

                یٰایُّہا الرُّسُلُ کُلُوْا مّنَ الطَّیِّبَاتِ (الآیة) اس خدائی حکم اور قانونِ الٰہی پر تمام انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام نے اپنے اپنے زمانے اور عہد کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے عمل کیا بالخصوص نبی آخر الزماں، رحمت عالم، ہادیٴ دوعالم حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بھی مذکورہ قرآنی دستور کو عملی جامہ پہنایا، آقائے دو جہاں کبھی دایہ حلیمہ کے بچوں کے ساتھ بکریاں چراتے ہیں، تو کبھی خواجہ ابوطالب کے ساتھ بغرض تجارت شام کا سفر کرنے پر بضد ہوتے ہیں، محبوب رب العالمین اگر خدیجتہ الکبریٰ کا مال، مضاربت کے طور پر لے کر شام کا سفر فرماتے ہیں، تو اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے بدلے جنگل میں چراتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں؛ کیوں کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہوتا اور اللہ کے نبی حضرت داؤد علیٰ نبینا وعلی الصلوٰة والسلام اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے تھے اور حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمة اللہ علیہ ”معارف القرآن“ میں فرماتے ہیں کہ: کسبِ معاش کے ذرائع میں تجارت اور محنت سب سے افضل اور اطیب ذریعہٴ معاش ہے؛ لہٰذا رسولِ خدا ﷺ نے تجارت اور سوداگری فرمائی ہے۔

شغل تجارت

                (۱) حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء سے روایت ہے کہ میں نے بعثت سے قبل ایک مرتبہ محمد بن عبداللہ ﷺ سے ایک معاملہ کیا، میرے ذمہ کچھ دینار باقی تھا، میں نے آپ ﷺ سے وعدہ کیا کہ میں ابھی لے کر آتا ہوں، اتفاق سے گھر جاکر وعدہ بھول گیا، تین دن کے بعد یاد آیا کہ آپ ﷺ سے وعدہ کرکے آیا تھا، یاد آتے ہی فوراً وعدہ گاہ پہنچا تو آپ ﷺ کو اسی مقام پر منتظر پایا۔ آپ ﷺ نے صرف اتنا فرمایا کہ: تم نے مجھ کو زحمت دی، میں تین روز سے اسی جگہ تمہارا انتظار کررہا ہوں۔

                (۲) آپ ﷺ نے بعثت سے قبل عبداللہ بن سائب کے ساتھ بھی تجارت میں شرکت فرمائی تھی، وہ آپ ﷺ سے کہتے ہیں کنتَ شریکی فنعم الشریکُ لا تداری ولا تماری (آپ ﷺ تو میرے شریک تجارت تھے اور کیا ہی اچھے شریک تھے، نہ کسی بات کو ٹالتے تھے اور نہ کسی بات میں جھگڑتے تھے)۔

                (۳) آپ ﷺ نے قیس بن سائب کے ساتھ بھی تجارت میں شرکت فرمائی تھی، وہ فرماتے ہیں کان خیرَ شریکٍ لا یماری ولا یشاری (آپ بہترین شریک تھے، نہ جھگڑتے تھے، نہ کسی قسم کا مناقشہ کرتے تھے)۔

                (۴) حضرت خدیجہ بنت خویلد کے مال میں بطور مضاربت ملکِ شام جاکر تجارت کرنا تواتر کی حد تک مشہور ومعروف ہے، اسی سفر میں حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ ساتھ تھے، انھوں نے آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کا خوب مشاہدہ کیا اور واپسی پر وہ رُودادِ سفر بیان کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک صاحب نے آپ ﷺ سے کہا: لات وعزی کی قسم کھاؤ! آپ ﷺ نے فرمایا میں نے کبھی لات وعزّٰی کی قسم نہیں کھائی، یہ سن کر وہ صاحب کہنے لگے یہ نبی آخر الزماں کی علامت ہے؛ غرض یہ کہ یہی سفر عقدِ مسنون کا سبب اور ذریعہ ثابت ہوا۔

اصولِ تجارت

                قرآن کریم، احادیث رسول ﷺ اور سیرتِ طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بزنس اور تجارت بہترین پیشہ اور نبی کی سنت ہے، بشرطیکہ اسلامی اصول اور آداب کا لحاظ رکھا جائے؛ لہٰذا تجارت پیشہ لوگوں کو بہت سے اہم اور شرعی امور کی پابندی کرنی چاہیے اور متعدد کاموں سے بچنا اور پرہیز کرنا چاہیے اور ساتھ ہی عقیدہ یہ ہو کہ ان امور کی پابندی اور پرہیز سے دارین کی فلاح مقدر ہوگی۔

تجارت میں مطلوب اوصاف

                (۱) تقویٰ: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تاجر لوگ قیامت کے دن نافرمان لوگوں میں شامل کرکے اٹھائے جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈریں، نیکی اختیار کریں اور سچ بولیں۔

                (۲) امانت ودیانت: رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: التاجرُ الصدوقُ الأمینُ مع النبیین والصدیقین والشہداء (سچا امانت دار تاجر آخرت میں انبیا، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا) (ترمذی،ج۳،ص۱۴۵)

                (۳) سچائی: اوپر کی روایت میں دیانت وامانت کے ساتھ ایک وصف صدق اور سچائی بھی مذکورہے۔

                (۴) نرمی اور حسن اخلاق: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مزارعت کو حرام نہیں فرمایا؛ بلکہ یوں ارشاد فرمایا کہ: ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو (مشکوٰة شریف،ص۳۱۵)

                (۵) بہتر ادائیگی: آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جو ادائیگی میں سب سے بہتر ہو (بخاری شریف، ج۱،ص۳۲۲)

                (۶) تول میں جھکاؤ: اجرت لے کر وزن کرنے والے سے حبیب کبریا ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ زِنْ وأرْجحْ (تولو اور جھکاہوا تولو)

                (۷) صبح سویرے بیداری: اللہ کے نبی ﷺ نے دعاء فرمائی کہ اے اللہ میری امت کے لیے اس کی صبح کے اوقات میں برکت عطا فرما، لہٰذا راویِ حدیث حضرت صخرغامدی اپنے تاجروں کو صبح کے وقت ہی بھیجتے تھے؛ چنانچہ وہ مالدار ہوگئے اور ان کے مال میں اضافہ ہوگیا۔ (مشکوٰة شریف،ص۳۳۹)

                (۸) صدقہ: قیس بن غرزہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اس زمانہ میں ہمیں ”سماسرہ“ کہا جاتا تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ”تجار“ کی جماعت! بیشک شیطان اور گناہ دونوں خریدوفروخت میں آجاتے ہیں، پس تم اپنی تجارت کے ساتھ صدقہ کو ملالو (مشکوٰة شریف،ص۲۴۳)

                (۹) سخاوت: نبیِ آخر الزماں ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ سخی انسان پر رحم فرمائے جب وہ بیچے جب وہ خریدے اور جب وہ تقاضہ کرے (بخاری شریف ج۱،ص۲۷۸)

                (۱۰) تنگ دست کی رعایت: نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا معاف کردے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اللہ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا (ترمذی شریف، ج۱،ص۱۵۶)

                مذکورہ بالا اوصاف کے علاوہ تاجر میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع بہت ضروری ہے اور حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی رحمة اللہ علیہ سیرتِ المصطفیٰ کی پہلی جلد میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سب سے زیادہ بامروت، سب سے زیادہ خلیق، سب سے زیادہ پڑوسیوں کے خبرگیر، سب سے زیادہ حلیم وبردبار، سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ امانت دار تھے، لہٰذا یہ تمام اوصاف ہر مسلمان میں ہونے چاہئیں خواہ وہ تاجر ہو یا نہ ہو۔

جن چیزوں جن سے تاجر کو بچنا چاہیے

                (۱) ناپ تول میں کمی: ارشاد باری ہے وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِیْنَ الَّذِیْن اذا اکْتَالُوا علی الناسِ یَسْتَوفُونَ وَاذا کَالواہُمْ أوْ وَزَنُواہم یُخْسِرُونَ (تطفیف) (بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے کہ جب وہ لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیتے ہیں اور جب لوگوں کو ناپ کریا تول کر دیں تو گھٹادیتے ہیں)

                (۲) دھوکہ: رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا مَنْ غَشّ فَلَیْسَ مِنَّا (جو کوئی دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں) (مشکوٰة شریف ص۲۴۸)

                (۳) جھوٹ: ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتلاؤں، صحابہ نے عرض کیا: ضرور بتلائیے اے اللہ کے رسول ﷺ! فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ ﷺ سہارا لگاکر بیٹھے ہوئے تھے تو بیٹھ گئے اور فرمایا: یاد رکھو اور جھوٹ بات اور جھوٹی گواہی سے بچے (راوی نے) دو مرتبہ کہا، پھر آپ ﷺ اسی کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ ﷺ خاموش نہ ہوں گے (بخاری شریف ص۸۸۴)

                (۵) وعدہ خلافی کرنا: اوپر حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء کی روایت میں گزرا کہ آپ ﷺ حسب وعدہ تین روز تک وعدہ گاہ پر انتظار فرماتے رہے اور بعد میں کوئی جھگڑا یا برا بھلا بھی نہیں کہا (سیرت المصطفیٰ جلد۱)

                (۶) قسم کھانا: عام طور پر تجارت پیشہ لوگوں میں جھوٹی سچی قسمیں کھانے کی عادت ہوتی ہے، لیکن حضرت خدیجہ کے مال کو لے کر جب شام تجارت کے لیے گئے تھے تو میسرہ بیان کرتے ہیں ایک صاحب قسم کھلانے لگے تو آپ ﷺ نے قسم کھانے سے انکار فرمادیا (سیرت مصطفی جلد۱)

                (۷) بیجا مناقشہ کرنا: حضرت قیس بن سائب کی روایت گزری کہ آپ ﷺ بہترین شریک تجارت تھے اور جھگڑا کرتے تھے نہ کسی قسم کا مناقشہ کرتے تھے (ایضاً)

                (۸) کسی کو نقصان پہنچانا: نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی مسلمان کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور کسی کو مشقت میں ڈالے اللہ اس پر مشقت ڈالے گا (مشکوٰة شریف ص۲۴۹)

                (۹) گالی گلوج: فحش گوئی اور ہر بُری بات سے اجتناب بھی ضروری ہے، کیوں کہ آپ ﷺ ان چیزوں سے سب سے زیادہ بچتے اور پرہیز کرتے تھے۔

بکرایاں چرانا

                فخرالاولین والآخرین، امام الانبیاء والمرسلین، شفیع المذنبین، رحمة للعالمین اور حبیب ربّ العالمین حضرت محمد ﷺ نے جب آنکھیں کھولیں اور ذرا ہوش سنبھالا تو رضاعی والدئہ محترمہ حلیمہ سعدیہ سے پوچھا کہ: رضاعی بھائی عبداللہ نظر نہیں آتے، حضرت سعدیہ نے فرمایا کہ: وہ بکریاں چرانے جاتے ہیں، اسی وقت فرمایا کل سے میں بھی بھائی عبداللہ کے ہمراہ بکریاں چرانے جاؤں گا، گویا اسی وقت یہ احساس فرمالیا کہ: اپنا بار دوسروں پر ڈالنے کے بجائے خود اٹھانا چاہیے، نیز جب آپ مکہ میں رہتے تھے تو اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے بدلے چراتے تھے۔

                حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مقام” الظہران“ میں ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ وہاں پیلو کے پھل چننے لگے، آپ ﷺ نے فرمایا: سیاہ دیکھ کر چنو وہ زیادہ خوش ذائقہ اور لذیذ ہوتے ہیں، ہم نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ ﷺ بکریاں چرایا کرتے تھے؟ کہ آپ کو یہ بات معلوم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے بھی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ہاں میں اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط پر چرایا کرتا تھا۔

اجرت پر بکریاں چرانا

                اجرت لے کر کوئی کام کرنا، خواہ بکریاں چرانا ہو یا کوئی دوسرا کام کرنا شانِ نبوت ورسالت کے خلاف نہیں ہے، بعض سیرت نگاروں کو ایسا محسوس ہوا تو انھوں نے اس واقعہ کی تاویلات فرمائی ہیں؛ حالاں کہ محققین کی رائے یہی ہے کہ کام کی اجرت اور مزدوری لینا کوئی غیرشرعی امر نہیں ہے اور نہ ہی مقامِ رسالت کے خلاف ہے، ہاں! تبلیغ احکام اور اشاعت دین پر اجرت لینا شانِ نبوت کے خلاف ہے، جس کو جابجا کلام الٰہی میں بیان کیاگیا ہے، نسائی شریف میں حضرت نصر بن حزن سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ اونٹ والے اور بکریوں والے آپس میں فخر کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ موسیٰ علیہ السلام نبی بناکر بھیجے گئے اور وہ بکریوں کے چرانے والے تھے، داؤد علیہ السلام نبی بناکر بھیجے گئے اور وہ بھی بکریاں چرانے والے تھے اور میں بھی نبی بناکر بھیجا گیا اور میں بھی اپنے گھروالوں کی بکریاں مقامِ اجیاد میں چرایا کرتا تھا۔

حضرات انبیا علیہم السلام سے بکریاں چروانا

                حاملینِ نبوت ورسالت حضرات انبیا ورسل علیہم الصلوٰة والسلام کو چوں کہ بارگاہِ ایزدی سے ایک خاص مقصد اور مشن کے تحت بھیجاگیا تھا اور وہ ہے امت کی گلہ بانی یعنی بعثت ونبوت سے سرفراز فرمانے کے بعد بنی نوعِ آدم کو ہر ہر نشیب و فراز سے بچاتے ہوئے ہموار راستہ پر چلانا اور گمراہ کن اور پیچیدہ راستوں سے نکال کر صراطِ مستقیم اور معتدل راہ پر چلاتے ہوئے منزلِ مقصود تک پہنچانا، اس مقدس و پاکباز گروہ اور جماعت کا فریضہٴ منصبی ہوتا تھا اور افرادِ انسان بالکل بے خبر اور بے نکیل جانور کی طرح ہر طرف دوڑنا اور ہر چراگاہ سے چرنا، اپنا فطری عمل جانتے ہیں، پس انبیاء علیہم السلام ہر ہر گام پر حفاظت فرماتے ہیں، جبکہ ہر چہار جانب سے انسانی بھیڑیے شیطان کے حملے ہوتے ہیں، ساتھ ہی نفوس کا مستقل من چاہا راستہ ہوتا ہے، جو رب چاہے راستوں سے ذرہ برابر میل نہیں کھاتا، پس یہ دونوں درندے یعنی شیطان اور نفسِ امّارہ گمراہ کن راستوں کو تمام تر زیبائش و آرائش سے آراستہ کرکے اولادِ آدم اور حوّا کے لاڈلوں کو راہِ راست اور خدائی ڈگر سے ہٹاکر کسی بھی غلط راستے پر ڈالنے کو مقصدِ زندگی سمجھتے ہیں اور شیطان اپنی ذریات کو اسی پر انعامات سے نوازتا ہے کہ کسی صورت بھی انسانوں کو راہِ جنت سے برگشتہ کرکے راہِ جہنم پر گامزن کردیا جائے، اس صورتِ حال میں اگر انبیاء اور رسولوں کی مقدس جماعت کی اور ان کے پیروکاروں کی کاوش وکوشش اور جدوجہد نہ ہوں تو راہِ راست کے راہرو حضرات اور خدا کے فرماں برداروں کا کیا حال ہوگا؟ وہ کسی ادنیٰ عقل رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں ہے، اولادِ آدم اور بناتِ حوّا کی یہ حالت جانوروں میں بکریوں سے بہت زیادہ میل کھاتی ہے کہ اونٹ، گائے، بیل اور بھینس کو چرانا اور سنبھالنا اتنا مشکل نہیں ہے، جتنا بکریوں کو چرانا اور ان کی حفاظت کرنا مشکل ترین ہے؛ کیوں کہ بکریاں کبھی اِدھر بھاگتی ہیں تو کبھی اُدھر، ابھی یہاں ہیں تو تھوڑی دیر میں وہاں نظر آتی ہیں اور چرواہا بے چارہ سرگرداں اور پریشان رہتا ہے ، کبھی اِدھر سے روکتا ہے توکبھی اُدھر سے، مزید براں بھیڑیے کا خوف وخطرہ ہمہ وقت لگا رہتا ہے، درندہ ہمیشہ گھات میں رہتا ہے کہ کب چرواہے کی نظر ہٹے اور وہ اپنا کام تمام کربھاگے، چرواہا چاہتا ہے کہ تمام بکریاں یکجا اکٹھی رہیں؛ تاکہ بھیڑیوں اور درندوں سے حفاظت رہے، صبح سے شام تک بھیڑبکریوں کے پیچھے پیچھے اسی طرح بھاگتا اور دوڑتا رہتا ہے، بالکل اسی طرح حضراتِ انبیاء اولاد آدم کے ریوڑ اور امت کے افراد کے لیے متفکر اور پریشان رہتے ہیں کہ تمام افرادِ امت اور بنی آدم کا پورا ریوڑ راہِ راست اور صراطِ مستقیم پر گامزن رہے۔ شیطان اور نفس امّارہ کے حملے سے ہرہر فرد محفوظ رہے، بلکہ نبی اور رسول کو اپنی قوم اور امت کی فکر چرواہے سے بہت زیادہ ہوتی ہے کہ چرواہا کم از کم رات کو سکون کی نیند سوتا ہے؛ لیکن نبی ورسول کو سوتے، جاگتے، کھاتے، پیتے، چلتے، پھرتے ہر وقت یہی فکر رہتی ہے کہ امت میں صلاح وفلاح کیسے پیدا ہو اور قوم اپنی ہلاکت وبربادی کے راستے سے بچ کر دائمی راحت وآرام کا راستہ کس طرح اختیار کرے اور قوم وملت بالکل بکریوں کی طرح اپنی ہلاکت وتباہی کی فکر نہیں کرتی، شیطانی درندوں اور نفس کے پھندوں میں قوم پھنستی رہتی ہے، نبی قوم کی یہ حالت دیکھ کر اس قدر دکھی ہوتے ہیں کہ مخلوق اس کا اندازہ شاید نہ کرسکے؛ البتہ خالق کو اس کا اندازہ ضرور ہوتا ہے؛ کیوں کہ وہ عَالِمُ الغَیْب وَالشَّہَادَةِ ہے، پس ارشادِ باری ہے: لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ أنْ لاَّ یَکُوْنُوْا مُوٴْمِنِیْنَ(الکہف) (شاید آپ ﷺ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے اپنی جان دیدیں گے)

حرفِ آخر      

                اللہ رب العزت کا یہ مقدس گروہ نہایت برگزیدہ اور چنیدہ ہوتا ہے، تمام انسانوں میں خداتعالیٰ کا سب سے پسندیدہ طبقہ یہی انبیاء اور رسولوں کا ہے، اگر باری تعالیٰ چاہتا تو دنیا کا مال ودولت اور حکومت واقتدار اس مقدس جماعت کے قدموں میں ڈال دیتا؛ لیکن قانونِ الٰہی اور خدائے بزرگ وبرتر کی عادتِ مبارکہ بالکل مختلف رہی ہے کہ یہ مقربین بارگاہِ خدا اکثر وبیشتر فقر وفاقہ اور تنگ دستی میں مبتلا رہے ہیں، اپنی اور اہل خانہ کی ضروریاتِ زندگی کے لیے جدوجہد اور محنت ومشقت کرتے نظر آتے ہیں وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ امت اور قوم سبق حاصل کرے؛ کیوں کہ انسانوں کی اکثریت غربت وافلاس کی شکار ہے اوریہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کی تصدیق کرنے اور پیروی کرنے میں پہل کرنے والے بھی یہی لوگ ہوتے ہیں اور دولت مند حضرات اور صاحب اقتدار لوگ ہمیشہ یا اکثر وبیشتر مخالفت کرتے ہیں؛ کیوں کہ ان کو اپنا اقتدار، اپنی چودھراہٹ اور اپنی موج ومستی ختم ہوتی دِکھتی ہے؛ چنانچہ مخالفت پر کمر کس لیتے ہیں اور دبے کچلے لوگ، معاشرہ میں کمتر سمجھے جانے والے لوگ اور فقر وفاقہ میں مبتلا افراد نبی اور رسول کا دامن تھامنے اور ساتھ دینے میں ہی عافیت وراحت محسوس کرتے ہیں۔ پس نبی اور رسول اپنے ماننے والوں کی اکثریت کو ذریعہٴ معاش کا راستہ دکھانے کے لیے کبھی تجارت کو اختیار کرتے ہیں اور اس کے فضائل وفوائد بیان کرتے ہیں تاکہ امت کا بڑا طبقہ اس پیشہ سے جڑکر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا معاش درست کرسکے، کبھی نبی بکریاں چراتے ہیں کہ امت کا دوسرا گروہ اور بہت سے افراد اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوسرے کام اختیار کرے خواہ اپنے مویشی سے یا دوسرے لوگوں کے مویشیوں کو اجرت پر چراکر بچوں کی پرورش وغیرہ کا نظم کرسکے؛ بہرکیف ہر طبقہ اور ہر جماعت اصولِ شریعت (قرآن وحدیث) کے ساتھ ذریعہٴ معاش اختیار کرسکتا ہے؛ چنانچہ ہر وہ پیشہ جائز ہوگا جس میں اصولِ شریعت کی مخالفت نہ ہو اور اتباع سنت کی بھی نیت ہو، تو دنیا کے ساتھ ساتھ ذخیرئہ آخرت بھی ہوگا، خدا تعالیٰ تمام امت کو اتباعِ سیدالمرسلین کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے! آمین یا رب العالمین۔

 

$           $           $